کرک: مندر جلانے کا واقعہ،چیف جسٹس کا نوٹس

187

کراچی: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے خیبرپختونخواہ کے علاقے کرک میں رہائشیوں کی جانب سے  تاریخی مندر کو نذر آتش کرنے کے واقعےکا از خود نوٹس لے لیا۔

تٖفصیلات کہ مطابق جمعرات کو تحریک انصاف کے ایم این اے ڈاکٹر رمیش کمار نے چیف جسٹس گلزار احمد سے کراچی رجسٹری میں ملاقات کی جس میں انہوں چیف جسٹس گلزار احمد کو کرک میں رہائیشیوں کی جانب سے کرشنا دیواڑا مندر کو جلانے کے واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا جس پر چیف جسٹس نے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی.

 اس موقع پر چیف جسٹس نے واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری، آئی جی خیبر پختونخواہ اور سپریم کورٹ کے کمیشن برائے اقلیتی امور کے رکن ڈاکٹر شعیب سڈل کو بھی نوٹسز جاری کرتے ہوئے انہیں 4 جنوری تک رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا۔

 

یاد رہے کہ گزشتہ روز کرک میں واقع تاریخی کرشنا دیواڑا مندر کو ایک تنازع کی وجہ سے رہائیشوں کی جانب سے آگ لگادی گئی تھی.رہائشیوں کی جانب سے یہ دعوی کیا جارہا ہے کہ ہندو کمیونٹی سے اس بات پر معاہدہ کیا تھا کہ وہ مندرکی پیمائش سے تجاوز نہیں کریں گیں،جبکہ ان کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی .جس کے سبب یہ معاملہ اشتعال انگیزی کا سبب بنا ۔

خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلی محمود خان نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے.ان کا کہنا تھا کہ اسلام اقلیتوں ک عبادت گاہوں کے تحفظ کا درس دیتا ہے،تاہم واقعے میں ملوث 14 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ مزید افراد کو بھی جلد گرفتار کرلیا جائے گا. گا جبکہ انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری، وزیر اعظم کے مشیر برائے مذہبی ہم آہنگی علامہ طاہر اشرفی نے بھی  واقعے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔