بھارت میں ”لو جہاد” کےنام پر54مسلمان گرفتار

280

انتہاء پسند مودی حکومت نے بھارتی ریاست اترپردیش میں تبدیلی مذہب قانون ”لو جہاد” کی آڑ میں صرف ایک ماہ میں 54 مسلمانوں کو گرفتار کرلیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق لو جہاد قانون کی آڑ میں بھارتی ریاست اتر پردیش (یو پی) کے تقریباً 86مسلمان شہریوں کیخلاف مقدمے درج کیے جا چکے ہیں۔ ان میں سے اب تک54 کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ 31کی گرفتار ی کے لیے پولیس چھاپے مار رہی ہے ۔

تمام گرفتار مسلمانوں پر الزام ہےکہ انہوں نے تبدیلی مذہب قانون کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والی خواتین کو ورغلا کر ان سے شادی کرلی تاہم دوسری جانب اگر کوئی ہندو شخص کسی مسلمان لڑکی کیساتھ ایسا کرے تو اسے حکومت کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔

بھارتی پولیس کا کہنا ہےکہ مسلمانوں کی گرفتاری ان پر درج مقدمات کی وجہ سے عمل میں لائی گئی ہے۔ یہ مقدمات تبدیلی مذہب کرکے شادی کرنے والی خواتین کے والدین یا دیگر اہلخانہ کی جانب سے درج کرائی گئی تھیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق صرف بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ایسے جوڑے شادی کرتے ہیں جن کا تعلق دو مختلف مذاہب سے ہوتا ہے تاہم وہ اکھٹے زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔

اب بھارتی حکومت کی جانب سے تبدیلی مذہب قانون 2020ء (لو جہاد) کی آڑ میں بالغ افراد کو اپنا مذہب تبدیل کرکے غیر مذہب کے فرد سے شادی کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اس قانون کا تمام مذاہب کو پابند بنایا گیا ہےتاہم دیکھا یہی جارہا ہے کہ اس کی آڑ میں صرف مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔