نیپال: پارلیمان کی تحلیل کے خلاف عوام سڑکوں پر

250
کٹھ منڈو: نیپال میں پارلیمان تحلیل کیے جانے کے بعد شہری دارالحکومت میں احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں

کٹھ منڈو (انٹرنیشنل ڈیسک) نیپال میں پارلیمان تحلیل کیے جانے کے خلاف ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ حکمراں کمیونسٹ پارٹی کے 2 دھڑوں میں تقسیم ہوجانے کے بعد صدر نے وزیر اعظم کھڑگ پرساد اولی کی سفارش پر نیپالی پارلیمان کو تحلیل کردیا تھا لیکن ہزاروں افراد اولی کے اس فیصلے کے خلاف سڑکوں پر اترآئے ہیں اور پارلیمان کو بحال کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق دارالحکومت کٹھ منڈو میں 10 ہزار سے زائد مظاہرین نے وزیر اعظم کھڑگ پرساد اولی کے دفتر کی طرف مارچ کیا۔ مظاہرین نے احتجاجی لباس پر وزیر اعظم کے اقدام کو بغاوت قرار دیتے ہوئے نعرے درج کررکھے تھے۔ صوبائی اسمبلی کے ایک ر کن لکشمن لامسال کا کہنا تھاہم وزیر اعظم کے غیر آئینی اقدام کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور جب تک پارلیمان کو بحال نہیں کردیا جاتا اس وقت تک ہم اپنا مظاہرہ جاری رکھیں گے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے بڑے اجتماعات پر عائد پابندیوں کے باوجود ریلی میں ہزاروں افراد موجو دتھے۔ وزیر اعظم اولی نے اس دلیل کے ساتھ پارلیمان کو تحلیل کرنے کی سفارش کی تھی کہ حکمراں کمیونسٹ پارٹی کی داخلی چپقلش کی وجہ سے فیصلہ سازی کا عمل معطل ہوکر رہ گیا ہے۔ خاتون صدر بدیا دیوی بھنڈاری نے دسمبر کے اوائل ہی میں اولی کی سفارش منظور کرلی تھی۔