ہماری سیاسی ناپختگی،مفتی منیب الرحمن

209

میں کافی دنوں سے سیاسی موضوعات سے اجتناب کر رہا ہوں، کیونکہ سیاستِ دوراں پر بات کرنا ایک بے ثمرکام ہے، جن کے لیے لکھا جاتا ہے، ان کو نہ مطالعے کی فرصت ہے اور نہ اس کی عادت، نیز ان کو صرف تعریف وتوصیف اور مدح وستائش سننے کی عادت ہے، نقد وجرح سے اُن کے مزاج کا پارہ بلند ہوجاتا ہے، اس میں ریاضت، ذہنی نفاست، فکری بالیدگی کا نام ونشان نہیں، میں اُن ذہین کالم نگاروں کے حوصلے کو داد دیتا ہوں جو روز صبح اٹھ کر اس شعبے میں اظہارِ خیال کرتے ہیں، اپنے آپ اور دوسروں کو کوستے بھی رہتے ہیں۔ ہمارے سیاسی قائدین کو فکری اتالیق ہرگز نہیں چاہییں، نہ انہیں کسی رہنمائی کی ضرورت ہے اور نہ وہ اپنی مرضی کے خلاف کوئی حق پر مبنی اور منصفانہ بات سننے کے روادار ہیں، مطالعہ اور سیاست دو متضاد چیزیں بن کر رہ گئی ہیں، حالانکہ مطالعے کے بغیر سیاست ایسے ہی ہے جیسے تڑکے اور مصالحے کے بغیر بے ذائقہ، بد مزا اور پھیکا سالن۔ دنیا میں ہر شعبے میں آئیڈیل ہوتے ہیں، ہیرو ہوتے ہیں، مثالیے ہوتے ہیں، اُن سے اُس شعبے کے مبتدیوں کو انگیخت ملتی ہے، مگر موجودہ سیاست دان خود اپنا آئیڈیل ہیں، اُن کی ذہنی ساخت کے مطابق دانش اُن سے شروع ہوتی ہے اور اُن پر ختم ہوتی ہے، باقی سب سیاسی مزارعین ہوتے ہیں، اُن کا کام ہلّا شیری کرنا، اپنے ممدوح کی خواہش کے مطابق دن کو رات اور رات کو دن یعنی سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید ثابت کرنا ہوتا ہے اور وہ بھی کسی حیا اور شرمندگی کے بغیر کمالِ ڈھٹائی کے ساتھ، ہوسکتا ہے خَلوت میں انہیں اپنے اوپر ہنسی آتی ہو، لیکن جلوت میں وہ حد درجہ ڈھیٹ ہوتے ہیں، اُن کے نزدیک عزت آقا ولیِ نعمت کے دل ودماغ میں جگہ بنانے کا نام ہے، بس یہی فنِ سیاست ہے۔ یہ سیاست ایسی لفاظی ہے، جو معنی سے عاری ہے، بولتے وقت بھی لگتا ہے کہ متکلم خود سے جھوٹ بول رہا ہے، لیکن سچ کا تاثر اس کمالِ فنکاری سے دے رہا ہوتا ہے کہ جھوٹ بھی شرمندہ ہوجائے۔

نائن الیون کے بعد یعنی اکیسویں صدی کے آغاز میں اُس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے سیاست کا نیا ڈاکٹرائن وضع کیا کہ آپ ہمارے دوست ہو یا دشمن، دوست ہو تو نہال ہوجائو، دشمن ہو تو نشانِ عبرت بن جائو، اس کے علاوہ کسی بات کی گنجائش نہیں ہے۔ امریکا اور مغرب جہاں بظاہر آزادیِ صحافت کی اقدار پروان چڑھیںاور اپنی دانست میں وہ پوری انسانیت کے مصلح اور معلّم بن گئے، مگر 2016 سے امریکی صدرٹرمپ نے اُسی امریکی صحافت کو ’’Fake Journalism‘‘ یعنی جعلی صحافت کا خطاب دیا اور ہمیشہ حقارت سے اس کا تذکرہ کیا، امریکی صحافت بھی منقسم ہوگئی، ٹرمپ کا کچھ نہ بگاڑ سکی اور نہ صحافت کی حرمت وتقدیس کی حفاظت کے لیے سب اہلِ صحافت یک زبان ہوکر میدان میں آئے، گویا انہوں نے جعل سازی، جانب داری اور فریب کاری کے الزام کو قبول کرلیا، کیونکہ صحافت اب مشن نہیں رہی، صنعت اور کاروبار بن گئی ہے، اب صحافت کی ڈرائیونگ سیٹ پر عامل صحافی نہیں ہیں، بلکہ سرمایہ دار اور صنعت کار ہیں اور وہ صحافت کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کر رہے ہیں، صحافت کالے دھن کو سفید بنانے کے لیے یا کالے دھن کے تحفظ کے لیے بھی استعمال ہورہی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی سگریٹ پان کی دکانوں کی طرح یوٹیوب چینلز کھل گئے ہیں اور ہر ایک کا اپنا اپنا سچ ہے۔
کسی جلسے سے، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا یا بہت بڑا، حکومت نہیں جاتی، باشعور لوگوں کو بخوبی معلوم ہے کہ ہمارے ہاں حکومتیں کب آتی ہیں، کیسے آتی ہیں اور کیسے جاتی ہیں۔ لیکن ساری سیاست اور درجنوں ترجمان ہفتوں اس خدمت پر مامور رہے کہ جلسے کو ناکام ثابت کریں، تعداد کو کم سے کم کر کے بتائیں، ایسا کرنے والے یہ بھی نہیں سوچتے کہ آج کل خبر رسانی کے حوالے سے سرکاری ترجمانوں، ٹیلی ویژن چینلوں اور اخبارات کی وہ اہمیت نہیں رہی، جو کبھی ہوتی تھی، سوشل میڈیا کے ذریعے لمحوں میں دنیا کو سب کچھ معلوم ہوجاتا ہے، ایسے میں ان بیانات کی قدرو قیمت کیا رہ جاتی ہے، دونوں طرف سے متضاد دعوے کیے جاتے ہیں اور سوائے نوکری کے اُن کا ماحصل کچھ بھی نہیں ہوتا۔
بظاہر حکومت کے چل چلائو کے آثار کہیں نظر نہیں آتے، سینیٹ کے الیکشن بھی ہوجائیں گے، مارچ 2021 کے بعد پی ٹی آئی کی حکومت کو دونوں ایوانوں میں واضح اکثریت بھی حاصل ہوجائے گی اور من پسند قانون سازی کی راہ میں اُن کے لیے کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہے گی۔ البتہ Show of Hands یعنی دست نمائی کے ذریعے حکومت کی سینیٹ کے الیکشن کرانے کی خواہش اس کے باوجود بھی پوری نہیں ہوگی کہ بالفرض عدالت عظمیٰ بھی حکومت کی مدد کو آپہنچے، کیونکہ سینیٹ کے انتخابات تو متناسب نمائندگی کی بنیاد پر ہوتے ہیں، الیکٹرول کالج میں اہل ووٹر کے پاس ایک براہِ راست ووٹ کے علاوہ امیدواروں کی تعداد کے تناسب سے ترجیحی ووٹ بھی ہوتے ہیں، ان کا اظہار دست نمائی کے ذریعے کیسے ہوگا۔ یہ طریقہ تاحال نہ اٹارنی جنرل خالد جاوید نے بتایا ہے اور نہ بابر اعوان نے، یہ تو تبھی ہوسکتا ہے کہ سینیٹ کے لیے متناسب نمائندگی کے اصول کو ختم کر کے ایک فرد ایک ووٹ کے اصول کو اپنایا جائے، سو اس کے لیے آئینی ترمیم لازمی ہوگی۔ ہمیں نہیں معلوم کہ آیا وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ان پہلوئوں پر غور ہوا ہے یا نہیں اور یہ کہ آیا عدالت عظمیٰ آئین میں ترمیم کا اختیار رکھتی ہے، ہماری معلومات کے مطابق عدالت عظمیٰ آئین وقانون کی تعبیر وتشریح کا اختیار تو رکھتی ہے، آئین وقانون کے متن کو تبدیل کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔
ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ 1988سے تاحال اپوزیشن جماعتوں کے درمیان ایک دوسرے پر کامل اعتماد کا فُقدان رہا ہے، سب کو ایک دوسرے کے بارے میں شبہات ہیں، 2006 میں لندن میں میثاقِ جمہوریت پر اُس وقت کی اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے قائدین کے دستخط ہوئے، اس کے اہم نکات حسبِ ذیل تھے:
٭ چارٹر آف ڈیموکریسی میں ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے 1973 کے آئین کو 11اکتوبر 1999 کی شکل پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا، یعنی جس شکل میں جنرل پرویز مشرّف کے اقتدار میں آنے سے پہلے تھا۔ ٭ چارٹر کی اسی شق میں لیگل فریم ورک آرڈر یعنی سترہویں آئینی ترمیم اور آئین میں ساتویں ترمیم کے تحت مشترکہ طریقہ انتخاب اقلیتوں، خواتین کی نشتوں میں اضافے، ووٹر کی عمر میں کمی اور پارلیمینٹ کی نشستوں میں اضافے جیسی ترامیم کو ختم کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ ٭ چارٹر آف ڈیموکریسی میں صدر جنرل مشرف کی طرف سے متعارف کرائی گئی اس آئینی ترمیم کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا جس میں تین مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہونے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ ٭ چارٹر آف ڈیموکریسی میں نیشنل سیکورٹی کونسل کے خاتمے کی سفارش کی گئی اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ کیبنٹ کی ڈیفنس کمیٹی کی سربراہی وزیر اعظم کے پاس ہونی چاہیے۔ ٭ میثاقِ جمہوریت میں ملک کے جوہری اثاثوں کا کیبنٹ ڈیفنس کمیٹی کے تحت موثر کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تشکیل کردینے کی سفارش بھی کی گئی تاکہ مستقبل میں جوہری رازوں کی چوری کے امکان کو ختم کیا جا سکے۔ ٭ میثاقِ جمہوریت میں ایک ایسا کمیشن بنانے کی سفارش بھی کی گئی جو 1996 کے بعد سے فوج کی طرف سے جمہوری حکومتوں کو ہٹانے اور کارگل جیسے واقعات کی تحقیقات کرے اور اس سے متعلق ذمے داری کا تعین کرے۔ ٭ چارٹر آف ڈیموکریسی کی شق 32 کے تحت آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلی جنس اور تمام دیگر خفیہ ایجنسیوں کو منتخب حکومت کے ماتحت بنانے اور تمام خفیہ اداروں کے سیاسی شعبے ختم کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ ٭ میثاقِ جمہوریت کے تحت ایک ایسی کمیٹی بنانے کی سفارش کی گئی ہے جو فوج اور خفیہ اداروں میں وسائل کے ضیاع کو روکنے کے بارے میں سفارشات مرتب کرے۔ ٭ میثاقِ جمہوریت کی ایک اور شق کے تحت ملٹری لینڈ اور کنٹونمنٹ کو وزارتِ دفاع کے تحت کرنے اور ایک ایسا کمیشن بنانے کی سفارش کی گئی جو 12اکتوبر 1999 کے بعد فوج کو الاٹ کی گئی زمین کے کیسوں کا جائزہ لے۔
٭ معاہدے میں یہ سفارش بھی کی گئی کہ ملک کے دفاعی بجٹ کو منظوری کے لیے پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔ ٭ چارٹر آف ڈیموکریسی میں سفارش کی گئی کہ فوج اور عدلیہ کے تمام افسروں کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ ارکانِ پارلیمنٹ کی طرح اپنی جائداد اور آمدنی کے سالانہ گوشوارے جمع کرائیں۔ ٭ معاہدے میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ وہ کسی فوجی حکومت میں نہ تو شامل ہوں گی اور نہ حکومت میں آنے اور منتخب حکومت کے خاتمے کے لیے فوج کی حمایت طلب کریں گی۔ ٭ چارٹر آف ڈیموکریسی میں یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ سیاسی بنیادوں پر کام کرنے والے نیب کی جگہ ایک آزادانہ احتساب کمیشن بنایا جائے جس کے سربراہ کو وزیر اعظم قائدِ حزب اختلاف کے مشورے سے مقرر کرے۔
مگر ایک طرف پیپلز پارٹی میثاقِ جمہوریت طے کر رہی تھی اور دوسری طرف محترمہ بے نظیر بھٹو اُس وقت امریکا کی قومی سلامتی کی مشیر کونڈو لیزارائس کے ذریعے اپنی واپسی کے لیے راہ ہموار کر رہی تھیں، این آر او کا معاہدہ ترتیب پارہا تھا، پھر بلوچستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے خاتمے میں پیپلز پارٹی شریکِ عمل رہی، اسی طرح چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے انتخاب کے لیے پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی حکومت کا اشتراکِ عمل تھا، پھر صادق سنجرانی کے خلاف تحریکِ عدمِ اعتماد میں دونوں بڑی پارٹیاں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی بے آبرو ہوئیں اور مجموعی اکثریت رکھنے کے باوجود دستِ غیب حرکت میں آیا اور ان کے ارکان نے جفا کی۔ اس لیے استعفے کی دھمکی پر عمل بھی چنداں آسان نہیں ہے، وقت بہت دور نہیں ہے، سب کچھ عیاں ہوجائے گا، البتہ پیپلز پارٹی کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بارگیننگ پوزیشن بہتر ہوجائے گی، اگرچہ فریقین کے لیے سودے بازی ایک اعصاب شکن اور کٹھن مرحلہ ہوگا، مگر بالآخر سر ہوجائے گا۔ اس وقت مسلم لیگ ن کے پاس پنجاب اور وفاق میں معتد بہ نمائندگی کے سوا اقتدار میں کوئی حصہ نہیں ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کے پاس صوبۂ سندھ کی حکومت ہے اور وہ شاید بآسانی اس سے دستبردار نہ ہوسکے، غیب کا حال اللہ کو معلوم ہے۔