دل سوز تصاویر اور اُن کا پسِ منظر جو روح جھنجھوڑ کر رکھ دے

527

2) 13 نومبر 1985 میں کولمبیا میں نیواڈا ڈیل روئز میں پھٹے آتش فشاں سے آئی تباہی میں آرمیریو شہر میں 13 سال کی امائرہ سانچیز پھنس گئی تھی ۔ وہ پیر سے لے کر سینے تک اپنے ہی گھر کے ملبے میں پھنس گئی تھی ۔ بچانے کیلئے 60 گھنٹوں تک چلے آپریشن میں امائرہ لوگوں سے بات کرتی رہی اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کا بدن گلنے لگا ، چہرے پر سوجن آگئی اور آخر میں امائرہ نے تڑپتے ہوئے دنیا کو الوداع کہہ دیا۔
3) 26 مارچ 1993 میں نیویارک ٹائمس میں شائع ہونے کے بعد اس تصویر نے پولیتزر ایوارڈ تک کا راستہ طے کیا لیکن اس تصویر کو کھینچنے والے نے آخر کار خودکشی کرلی۔ یہ تصویر سوڈان میں جاری بغاوت کے وقت کی ہے۔ اس میں بھوکی بچی کے ٹھیک پیچھے گدھ اس کے مرنے کا انتظار کررہا ہے۔
4) سانحات کے شکار بچوں کی تصویروں میں ایک تصویر ہندوستان کی بھی ہے ۔ بھوپال گیس سانحہ کے وقت ایک بچے کو دفن کیا جارہا تھا ۔ جب اس کی آنکھ بند نہیں ہوئی تھی تبھی رگھو رائے نامی فوٹوگرافر نے اس کی تصویر کھینچی تھی ۔ یہ بھیانک تصویر آج بھی اس سانحہ کی یاد دلاتی ہے۔
5) یہ تصویر ایک عراقی قیدی کی ہے۔ تصویر میں ایک قیدی اپنے بیٹے کو ہاتھوں میں بیڑیاں ڈالے ہوئے سنبھالنے کی کوشش کررہا ہے۔
6) سال 1992 کی یہ صومالیہ کی تصویر ہے ، جب ایک ماں بھوک سے مرچکے اپنے بچے کو کھلے آسمان میں چلچلاتی دھوپ میں دفنانے کیلئے آئی تھی۔
7) اسی طرح دو ستمبر 2015 کو دنیا بھر میں ایک تصویر نے تہلکہ مچا دیا تھا ۔ ترکی کے ساحل پر ایک شام بچے کی لاش بہتی ہوئی پہنچی تھی ، جس نے شام میں جاری جنگ کا بھیانک ترین چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا تھا ۔ ایلن کردی نام کے تین سال کے بچے کی یہ تصویر ہے۔ ایلن کردی ان کروڑوں لوگوں میں سے ایک تھا ، جو شام کی بھیانک خانہ جنگی سے جان بچانے کیلئے ملک چھوڑ کر بھاگ رہا تھا۔