قائداعظم اور محبت کا لمس،شاہنواز فاروقی

171

ہم اقبال‘ قائداعظم اور اپنی تاریخ کی اصل سے بہت دور نکل آئے ہیں۔ ہم نے چھوڑا تو کسی چیز کو نہیں مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ہاتھ میں بھی کچھ نہیں‘ سوائے معلومات اور علم کے دفتر کے۔ یہ سب بہت اہم ہے‘ بہت قیمتی ہے۔ مگر اس سے بہت زیادہ اہم تعلق کا لمس ہے‘ محبت کی حرارت ہے‘ وہ حرارت جو معلومات کو علم اور علم کو محبت میں ڈھال کر اسے احساس بنادیتی ہے۔25 دسمبر پر قائداعظم کے حوالے سے بھلا اور کیا کہا جائے؟

بڑی شخصیات کو بھلانا آسان نہیں، مگر ہم نے تو اس کام کو فن ہی بنادیا ہے۔ یومِ اقبال، 25 دسمبر اور 14 اگست کے حوالے سے ہم جو کچھ کرتے رہتے ہیں وہ ہماری انفرادی اور اجتماعی ’’فنی صلاحیتوں‘‘ کا بیّن ثبوت ہے۔ مگر ہم ان ایام کے حوالے سے کیا کرتے ہیں؟
ہم ان دنوں پر اقبال اور قائداعظم کی بہت تعریف کرتے ہیں اور پاکستان کی قدر وقیمت کا زورو شور سے ذکر کرتے ہیں۔ لیکن ہماری تعریف اور ہمارا زور و شور ہماری لاتعلقی اور روحانی، نفسیاتی، جذباتی اور ذہنی کاہلی کا پردہ ہے۔ ہم اقبال اور قائداعظم کی تعریف اس لیے نہیں کرتے کہ ہم انہیں سمجھتے ہیں، بلکہ ہم ان کی تعریف اس لیے کرتے ہیں کہ ہم انہیں سمجھنا نہیں چاہتے۔ اس کا مطلب واضح ہے: تعریف کرو اور جان چھڑائو۔ مگر بڑی شخصیات جان بھی تو نہیں چھوڑتیں، چنانچہ اقبال اور قائداعظم کا یوم پیدائش اور یوم وفات ہر سال آجاتا ہے اور ہم سے پوچھتا ہے:’’آپ کی تعریف؟‘‘

اور ہم اجتماعی طور پر اس کے جواب میں کہہ دیتے ہیں:’’آپ کے کیا کہنے؟ آپ بہت بڑے اور بہت حسین و جمیل ہیں۔‘‘ اللہ اللہ خیر صلا۔ اور14 اگست پر ہمارا زور و شور؟ اسے دیکھ کر ہمیں تو اسٹاک ایکسچینج کا زور و شور یاد آجاتا ہے۔ آپ غلط سمجھ رہے ہیں‘ یہ اسٹاک ایکسچینج کی مذمت نہیں‘ تعریف ہے۔ مگر ہم بڑی شخصیات کو کیوں سمجھنا نہیں چاہتے؟
شخصیات کا اپنا ہی ’’سلے سلائے‘‘ کا اصول رائج ہوتا ہے۔ دکان سے سلا سلایا سوٹ لیا اور پہن لیا۔ یہ سوٹ کہیں بہت ڈھیلا اور کہیں بہت چست ہوتا ہے۔ کسی کی آستین چھوٹی ہوتی ہے اور کسی کی بڑی۔ مگر ہم ایسی چیزوں کا برا نہیں مانتے۔ آستین لمبی ہو تو ہم اسے موڑ لیتے ہیں اور چھوٹی ہو تو کاندھوں کو تھوڑا سا سکیڑ لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ سوٹ ٹھیک ہمارے سائز کے مطابق ہے۔ مگر بڑی شخصیات سلے سلائے سوٹ کی طرح نہیں ہوتیں۔ انہیں سمجھنے کے لیے کپڑے کو پورا ادھیڑنا اور پھر سینا پڑتا ہے۔ یہ کام بھی آسان نہیں‘ مگر سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ ایسا کرتے ہوئے ہم خود بھی ادھڑ جاتے ہیں اور پھر اچانک ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم تو بہت ناکافی ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ہر بڑی شخصیت ہم سے کہتی ہے: تمہاری نمو رک گئی ہے۔ آگے بڑھو اور نمو کی طرف چلو۔ یہ اتنا تکلیف دہ عمل ہے کہ اچھے اچھے اس کی تاب نہیں لاسکتے‘ چنانچہ ہم صرف تعریف پر اکتفا کرتے ہیں۔ بہت زیادہ تعریف پر۔ مثلاً ’’اقبال ہے اقبال ہے‘ اقبال ہمارا‘‘۔ ’’اے قائداعظم ترا احسان ہے احسان‘‘۔ یہ سب اچھی باتیں ہیں ضروری باتیں ہیں۔ ان میں تھوڑی بہت محبت بھی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اقبال تو ہمارا ہے مگر ہم بھی اقبال کے ہیں یا نہیں؟ اور قائداعظم کے احسان میں جو حُسن ہے وہ ہماری زندگی میں کہاں ہے؟ تو پھر ہمیں کیسے معلوم ہو کہ قائداعظم کا احسان کیا ہے؟ الفاظ کا کیا ہے‘ انہیں تو طوطے بھی رٹ لیتے ہیں۔ ہم میں اور طوطوں میں کوئی تو فرق ہونا چاہیے۔ آخر ہم انسان اور اشرف المخلوقات ہونے کے دعویدار ہیں۔

انسانوں اور بالخصوص بڑی شخصیات کو سمجھنے کا ایک بہت آسان آلہ ہے۔ اس کے ذریعے انسان کو سمجھنے کے لیے بہت معلومات یا علم درکار نہیں ہوتا۔ اس کے لیے کسی اسکول‘ کالج یا یونیورسٹی کی سند درکار نہیں۔ یہ آلہ معروف معنوں میں تقریباً مفت حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس آلے کو عرف ِعام میں محبت کہا جاتا ہے۔ یہ اتنا زبردست آلہ ہے کہ اس کے ذریعے صرف تصویر دیکھ کر بھی پوری شخصیت سمجھ میں آجاتی ہے۔ اقبال‘ قائداعظم اور مولانا مودودی کی بعض تصاویر ایسی ہی ہیں جو تمام پردے اٹھا دیتی ہیں۔ البتہ اس تفہیم میں اجمال ہوتا ہے‘ تفصیل نہیں ہوتی۔ تاہم انسان غور کرتا رہے تو تفصیل بھی رفتہ رفتہ فراہم ہوتی جاتی ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ فی زمانہ اس آلے کا کال پڑ گیا ہے۔ ورنہ ساکت تصویریں بھی ہمیں بولتی ہوئی نظر آتیں۔
کیا قائداعظم کی بعض تصویروں سے ان کی شخصیت کی اصل طاقت کا مرکز صاف جھلکتا نظر نہیں آتا؟ لیکن یہ مرکز کیا ہے؟ تنہائی اور گریز۔ایسی تنہائی اور ایسا گریز جو محفلیں اور انجمنیں تخلیق کرتا ہے اور ان کے درمیان ہوکر بھی تنہا نظر آتا ہے۔ لیکن یہ بانجھ تنہائی نہیں ہے۔ یہ تعلق اور لاتعلقی کا ’’نقطۂ اتصال‘‘ ہے۔ ایک نایاب شے۔ غالب نے کہا ہے:۔

ہے آدمی بجائے خود اک محشر خیال
ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو

یہ تنہائی اور گریز کے سکے کا دوسرا رخ ہے۔
انسان اور زندگی کو خیال کی سطح پر سمجھنا اہم ہے مگر اس سے بھی اہم انہیں تجربے کی سطح پر سمجھنا ہے۔ اس کے بغیر انسان‘ زندگی یہاں تک کہ بڑے تاریخی واقعات بھی پوری طرح ہماری گرفت میں نہیں آتے۔