پاکستانی امام کاقتل: منکوحہ جرمن بیوی اوربھائی گرفتار

313

جرمن شہر شٹٹ گارٹ کی مسجد المدینہ کے پاکستانی نائب امام کے گزشتہ ہفتے قتل کے سلسلے میں پولیس نے دو مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا۔

جرمن پولیس کی جانب سے حراست میں لیے گئے دو مشتبہ افراد میں ایک مقتول کی جرمن منکوحہ جبکہ دوسرا مقتول کا 25سالہ پاکستانی بھائی ہے۔

جنوبی جرمن صوبے شٹٹ گارٹ میں شہر اُلم کی پولیس نے آج پیر 28دسمبر کے روز بتایا کہ ٹھیک ایک ہفتہ قبل 21دسمبر کی شام قتل کردیے گئے تھے۔ 26 سالہ شاہد نواز قادری کی موت کی چھان بین کے دوران تفتیشی افسران کو مقتول کی شریک حیات کا بیان مشکوک لگا تھا جس پر انہوں نے تفتیش کی۔

پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق یہ خاتون ایک جرمن شہری ہے، جس نے مقتول قادری کے ساتھ جرمن قانون کے تحت تو شادی نہیں کی تھی تاہم وہ اسلامی طور پر مقتول کی بیوی تھی۔

اس قتل کی تفتیش کے لیے پولیس کی طرف سے قائم کیے گئے خصوصی کمیشن کے ماہرین نے جب مزید چھان بین کی، تو پولیس کا مقتول کی منکوحہ جرمن خاتون اور مقتول کے 25سالہ پاکستانی بھائی پر شبہ مضبوط ہوتا گیا۔

اس دوران پولیس نے مقتول اور اس کی شریک حیات کی مشترکہ رہائش گاہ کے علاوہ اسی جرمن صوبے میں مشرقی آلب کاؤنٹی کے علاقے میں ایک ایسے فلیٹ کی تلاشی بھی لی، جہاں مقتول کی منکوحہ جرمن شہری رہتی رہی تھی۔

واضح رہے کہ ایک ہفتہ قبل جرمنی میں پاکستانیوں کی قائم کردہ مسجد کے نائب امام کو پارک میں چہل قدمی کے دوران آہنی راڈ سے حملہ کرکے قتل کردیا گیا تھا جس میں امام مسجد انتقال کرگئے تھے جبکہ ان کی اہلیہ زخمی ہوئی تھیں۔