گلگلت: ٹمبرمافیا سےنمٹنے کیلئے ایف سی تعینات کرنےکی درخواست

217

گلگلت بلتستان حکومت نے وفاقی حکومت سے ٹمبر مافیا سے نمٹنے کے لیے منظم فورس تعینات کرنے کی درخواست کی ہے جبکہ سمری منظوری کے لیے وزارت داخلہ نے وفاقی کابینہ کو ارسال کردی ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق گلگلت بلتستان کی حکومت نے جنگلات کو کٹائی سے روکنے اور ٹمبر کی اسمگلنگ سے بچاؤ کے لیے فرنٹئیر کور (ایف سی) جوانوں کی تعیناتی کی درخواست کی ہےجس کی باضابطہ منظوری کے لیے وزارت داخلہ نے وفاقی کابینہ کو سمری ارسال کر دی ہے۔

کابینہ کو بھیجی جانی والی سمری کے مطابق گلگت بلتستان حکومت نے جنگلات کو محفوظ بنانے ، نیشنل پارکس اور وائلد لائف کے تحفظ کے لیے فارسٹ ایکٹ 2019 نافذ کیا ہے جس کے تحت جنگلات کے کٹاؤ ، ٹمبر سمگلنگ کو روکنے ، ٹمبر مافیا کے خلاف کارروائی اور بڑی تعداد میں غیر قانونی لکڑی کو قبضے میں لینے کی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔

دوسری جانب ٹمبر مافیا کی جانب سے فارصت ایکٹ 2019 کے تحت کارروائی کرنے میں رکاوٹ کی جارہی ہے جبکہ گلگت بلتستان حکومت نے تین سال کے لیے ایف سی نوجوانوں پر مشتمل 4 پلاٹونز فارسٹ ، پارک اینڈ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے سپرد کرنے کی باضابطہ منظوری طلب کی گئی ہے۔

خیال رہے امن و امان کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایف سی اہلکاروں کی 16 پلاٹونز پہلے ہے سے اس وقت گلگگت بلتستان میں تعینات ہیں۔

ایف سی اہلکاروں کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کے سوال  پر  ترجمان گلگت بلتستان حکومت کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں دیامر اور چلاس میں ہونے والی جنگلات کی کٹائی کا نوٹس لیتے ہوئے جنگلات کے تحفظ کے لیے ایف سی اہلکاروں کی خدمات محکمہ جنگلات کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ترجمان گلگت بلتستان حکومت کا کہناتھا کہ گلگت بلتستان حکومت کو جنگلات کے تحفظ کے لیے ایف سی اہلکاروں کی ضرورت نہیں تھی لیکن وزیراعظم عمران خان نے جنگلات کے کٹاؤ پر سخت نوٹس لیا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ جنگلات کو محفوظ بنانے کے لیے ایف سی اہلکاروں کے سپرد کیا جائے۔

ترجمان گلگت بلتستان حکومت کے مطابق ایف سی اہلکار محکمہ جنگلات کی چیک پوسٹس پر تعینات کیے جائیں گے جبکہ ضرورت پڑنے پر انہیں جنگلات میں بھی بھیجا جا سکتا ہے اور اگر ٹمبر مافیا کی سرکوبی کی ضرورت پڑے تو ایف سی اہلکاروں کو جنگلات میں بھی طلب کیا جائے گا۔