حکومت مستعفیٰ ہوگی نہ اسمبلیاں تحلیل ،صدر علوی

18
اسلام آباد، صدرمملکت عارف علوی سینئر صحافیوں کی نشست سے خطاب کررہے ہیں

اسلام آباد ( نمائندہ جسارت)صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے کہا ہے کہ حکومت مستعفی ہوگی اور نہ ہی اسمبلیاں تحلیل کی جائیں گی۔منگل کو سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ پی ڈی ایم کا حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بلاجواز ہے، 2 برس سے سیاسی نظام کو عدم استحکام کا شکار کیا جارہا ہے، وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ اپوزیشن این آر او مانگ رہی ہے لیکن اپوزیشن کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ ہم این آر او نہیں مانگ رہے، ان حالات میں این آر او پر بحث سخت ہوگئی ۔ عارف علوی کا کہنا تھا کہ اس وقت قومی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے ، بات چیت کب اور کہاں ہوگی وزیراعظم طے کریں گے اوراسپیکرقومی اسمبلی ہی کوئی راستہ نکالیں گے لیکن قومی ڈائیلاگ نیب اور بدعنوانی کے خاتمے کے ایجنڈے کے بغیر ناممکن ہے کیوں کہ پی ٹی آئی کی حکومت کا واحد نقطہ کرپشن سے پاک پاکستان ہے۔ صدر مملکت نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان سے روزانہ بات ہوتی ہے،وزیراعظم اور میں اسلامی تاریخی کتب بھی پڑھ رہے ہیں، اس کے علاوہ وزیر اعظم کا میرے ساتھ مزاح کا پہلو بھی رہتا ہے، اکثر معاملات پر وزیراعظم مجھے سمجھاتے ہیں۔صدر پاکستان نے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے حوالے سے ہمارا موقف واضح ہے، حکومت پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کوئی غیر ملکی دباؤ نہیں ہے،حکومتی نمائندے کی اسرائیل کا دورہ کرنے کی اطلاعات بے بنیاد ہیں ۔عارف علوی نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں99 فیصدبھارت کا ہاتھ ہے، بھارت کھل کر سی پیک کے خلاف ہے، اسی لیے اس کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اپنی سیاست چمکانے کے لیے اداروں پر انگلیاں اٹھانے والے جمہوریت کے علمبردار نہیں ہوسکتے۔ وزیراعظم نے اسلام آباد میں مشیرپارلیمانی اموربابر اعوان سے ملاقات میں آئینی، قانونی اور سیاسی امور پر گفتگو کی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ریاست کے تمام ستون اپنے دائرہ کار میں رہ کر ملکی ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں۔علاوہ ازیں وزیراعظم کی زیر صدارت حکومتی و پارٹی ترجمانوں کا اجلاس ہوا جس میں سیاسی صورتحال، خصوصاً پی ڈی ایم تحریک پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پی ڈی ایم ہمارے لیے مسئلہ نہیں، ہم عوامی مسائل پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، اپوزیشن رہنماؤں کو معلوم ہے عمران خان این آر او نہیں دے گا اس لیے فوج پر دباؤ ڈال رہے ہیں، پی ڈی ایم کا مسئلہ دھاندلی ہوتا تو انتخابی اصلاحات میں ہمارا ساتھ دیتے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی حکومت مخالف تحریک کا کوئی مستقبل نہیں، بات چیت اور مسائل کے حل کا بہترین فورم پارلیمنٹ ہے لیکن اب تک اپوزیشن نے پارلیمنٹ کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا، اپوزیشن بھی عوام کو جواب دہ ہے جس نے ڈھائی سال میں قانون سازی میں حصہ نہیں لیا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ نہیں کیا جاسکتا، پی ڈی ایم غیر فطری تحریک ہے، آج تک عوام کسی کے ذاتی مفادات کے لیے نہیں نکلے، ان کے کہنے پر نیب قانون تبدیل کرلیتے تو آج یہ سڑکوں پر نہ ہوتے، اپوزیشن کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے۔