بھارت،کسان کی خودکشی ،حالات مزید کشیدہ

227

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں مودی سرکار کے متنازع زرعی بل سے تنگ آکر کسان موت کو ترجیح دینے لگ گئے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق متنازع قوانین کے خلاف کسانوں کے مظاہرے جاری ہیں۔ دارالحکومت میں دھرنے کو ایک ماہ گزرچکا ہے۔ اس دوران عالمی سطح پر مقامی تنظیموں کی جانب سے حکومتی اقدامات پر کڑی تنقید کی گئی،تاہم مودی سرکار بے حسی اور ڈھٹائی سے کسانوں کی خودکشیوں کا نظارہ کررہی ہے۔ حال ہی میں اپنی جان لینے والے امر جیت سنگھ نے خودکشی کرنے سے قبل نوٹ لکھا، جس میں اپنی موت کا ذمے دار وزیر اعظم نریندر مودی کو قرار دیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے خودکشیوں اور پولیس کے تشدد کے نتیجے میں 45سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب کسان رہنما ؤںنے حکومت کی جانب سے 30 دسمبر کو مذاکرات کی دعوت کو قبول کرلیا۔ تجزیہ کاروں کا ہے کہ کہنا ہے کہ حکومت بار بار مذاکرات کی میز پر مدعو کرکے مظاہرین کے ساتھ کھیل رہی ہے۔ مودی سرکار کی ضد ہے کہ وہ اپنا متنازع قانون واپس نہیں لے گی،جب کہ مظاہرین اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ادھر دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجروال نے کہا کہ متنازع قوانین سے کسانوں کو نہیں،بلکہ مودی کے کاروباری یاروں کو فائدہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے مودی کے وزیروں کو کسان رہنماؤں کے ساتھ مباحثے کا چیلنج بھی دیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مظاہروں کا دائرہ مزید کئی شہروں تک پھیل چکا ہے۔ شدید سردی کے باوجود کاشت کار پرجوش ہیں اور اپنی مدد آپ کے تحت تحریک چلا رہے ہیں۔ مودی سرکار کی جانب سے کئی بار مطالبات ماننے سے انکار سے مظاہرین سخت اشتعال میں ہیں اور حالات مزید کشید ہونے کا خدشہ ہے۔ کسانوں کا کہنا تھا کہ حکومت بات چیت کی شروعات کر کے مظاہرین کو دباؤ میں لانے کی کوشش کررہی ہے، تاہم اسے مسائل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ مودی سرکار کا مقصد صرف کسانوں کو بات چیت کے نئے شکنجے میں جکڑنا ہے۔ اس سے قبل ہر بات چیت میں وزرا ہٹ دھرمی سے متنازع بل کا دفاع کرتے رہے اور مظاہرین کو دھرنے ختم کرنے کی مہلت جاری کی جاتی رہی۔