دل کا دورہ: اسباب اور احتیاط

439

دل کا دورہ جس کو مائکروکارڈيل انفريکشن، يا اکليلی خون بستگی کہا جاتا ہے اس وقت ہوتا ہے جب دل کے عضلے کا کوئی حصہ آکسيجن نہ ملنے کی وجہ سے مر جاتا ہے جبکہ دل کا دورہ عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب کسی اکليلی شريان (آپ کے دل کو حرکت ميں رکهنے والی دموی شريان) ميں خون کے چکتے بن جاتے ہيں، جو آپ کے دل ميں خون کی سپلائی روک ديتے ہيں اور  يہ رکاوٹ کبهی کبهی اکليلی شريان کے اکڑن (اچانک تنگ ہوجانا) کی وجہ سے بهی ہوسکتی ہے۔

انسانی جسم میں دل کی اہمیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، عموماً دل کی دھڑکن ہی کو زندگی تصور کیا جاتا ہے اور دل کے بند ہوتے ہی انسان کو مردہ تصور کیا جاتا ہے۔

انسان کا جسم دل کے دورے سے ایک ماہ قبل بلکہ اس سے بھی پہلے خبردار کرنا شروع کردیتا ہے اور بس ان علامات یا نشانیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے جبکہ یہاں ایسی علامات کے بارے میں بتایا جارہا ہے جو دل کا دورہ پڑنے سے کئی ہفتے قبل رونما ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔

تھکاوٹ: یہ ایسی علامت ہے جو 70 فیصد ہارٹ اٹیک کی شکار خواتین میں کئی ہفتے پہلے سامنے آئی، غیر معمولی حد تک جسمانی تھکاوٹ ہارٹ اٹیک کی جانب سے اشارہ کرتی ہے اور مرد و خواتین دونوں میں یہ نظر آسکتی ہے۔

اگر یہ تھکاوٹ کسی جسمانی یا ذہنی سرگرمی کا نتیجہ نہ ہو اور دن کے اختتام پر اس میں اضافہ ہو، تو اس پر توجہ ضرور مرکوز کی جانی چاہیے۔

بے خوابی: یہ علامت مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ نظر آتی ہے، ویسے طبی ماہرین اس علامت کو ہارٹ اٹیک یا فالج وغیرہ کے بڑھتے خطرے کا عندیہ قرار دیتے ہیں۔

رات کو نیند نہ آنے کے ساتھ شدید نوعیت کی ذہنی بے چینی اور غیر حاضر دماغی کا سامنا ہو تو یہ تشویشناک ہوسکتا ہے۔

سانس گھٹنا: چالیس فیصد کیسز میں یہ علامت سامنے آتی ہے، یعنی سانس لینے میں مشکل اور یہ احساس کہ گہرا سانس لینا ممکن نہیں، یہ مردوں اور خواتین کے اندر ہارٹ اٹیک سے 6 ماہ قبل بھی اکثر سامنے آتی ہے، یہ عام طور پر ایک انتباہی علامت ہوتی ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہیے۔

دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی: دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اکثر پینک اٹیک اور ذہنی بے چینی کے ساتھ حملہ آور ہوتی ہے، خاص طور پر خواتین میں، یہ اچانک حملہ کرتی ہے۔

اگر دل کی دھڑکن میں تیزی ایک سے دو منٹ تک برقرار رہے اور اس میں کمی نہ آئے، اس کے علاوہ دھڑکن کی رفتار میں کمی بیشی سے غشی اور تھکاوٹ کا محسوس ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کرلینا چاہیے۔

بہت زیادہ پسینہ آنا: غیرمعمولی یا بہت زیادہ پسینہ آنا بھی ہارٹ اٹیک کی ایک ابتدائی انتباہی علامت ہے، جو کہ دن یا رات کسی بھی وقت سامنے آسکتی ہے۔ یہ علامت عام طورپر خواتین میں زیادہ سامنے آتی ہے، تاہم وہ اسے نظر انداز کردیتی ہیں۔

اگر اس کے ساتھ فلو جیسی علامات ہوں یا خوشگوار موسم کے باوجود پسینہ آئے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہوسکتی ہے۔

سینے میں درد: مردوں اور خواتین دونوں میں سینے میں درد مختلف شدت اور طریقے سے سامنے آتا ہے۔ مردوں میں یہ علامت انتہائی اہم ابتدائی علامات میں سے ایک ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، جبکہ خواتین کے 30 فیصد واقعات میں یہ سامنے آتی ہے۔

سینے میں درد ایک یا دونوں ہاتھوں میں (اکثر بائیں ہاتھ میں)، نچلے جبڑے میں، گرد، کندھوں یا معدے میں شدید نوعیت کی بے اطمینانی کی شکل میں پھیل جائے تو ڈاکٹر سے رجوع کرلیا جانا چاہیے۔

واضح رہے خواتين کے مقابلے مردوں کو دل کے دورے ميں مبتلا ہونے کا امکان تين گنا زيادہ ہے۔

 بحالی صحت:  دل کے دورے سے صحتياب ہونے ميں وقت لگ سکتا ہے، اور ضروری ہے کہ آپ اپنی بحالی صحت ميں کسی طرح کی جلد بازی کا مظاہرہ نہ کريں۔ دل کے دورے ميں مبتلا ہونے والے ہر فرد کو مختلف پريشانيوں اور دشواريوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور  دل کے دورے کے بعد آپ کو فعّال رہنا ضروری ہے جبکہ فعّال رہنے سے آپ کے دل کی مضبوطی کو بہتر بنانے ميں مدد ملے گی اور اس سے آپ کے دل کے کسی اور دورے ميں مبتلا ہونے کا خطرہ بهی کم ہوجائے گا۔

اپنی جسمانی اور دماغی حيثيت کے اعتبار سے، آپ عموماً اپنی معمول کی روزمرہ کی سرگرمياں پهر سے شروع کرسکيں گے، تاہم يہ ضروری ہے کہ آپ جو بهی سرگرمی انجام ديں وہ بہت زيادہ مشقت طلب يا جسمانی طور پر محنت طلب نہ ہو۔

آپ واپس کام پر بهی جانے کے لائق ہوسکيں گے تاہم کب اور کيسے جائيں گے اس کا انحصار آپ کی انفرادی ضروريات اور جسمانی حيثيت پر ہوگا۔

خیال رہے اگر آپ اپنے دل کو صحتمند رکهنا چاہتے ہيں تو پابندی سے ورزش کرتے رہنا ضروری ہے اور يوں تو آپ کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد فوری طور پر آرام کرنے کی ضرورت ہوگی، مگر آپ کو بالآخر روزانہ کم از کم 20 سے30 منٹ کی ورزش کا ارادہ کرنا چاہئے۔

صحت بخش، متوازن غذا کهانے سے آپ کے دل کو بچائے رکهنے ميں مدد ملے گی اور آپ کو روزانہ کم از کم پانچ حصے پهل اور سبزياں کهانا چاہئے، اور چربی والی غذاؤں جيسے سُرخ گوشت، پنير اور کيک ميں کمی کرنی چاہئے۔