پی ٹی آئی ،پی پی اور متحدہ بلدیاتی انتخابات کے لئے ٹال مٹول کررہی ہیں ،حافظ نعیم

265
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن درست مرد م شماری، بااختیارشہری حکومت و بلدیاتی مسائل کے حوالے سے ڈی سی آفس ملیرکے باہر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کر رہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف ، پیپلزپار ٹی اور ایم کیو ایم ان تینوں جماعتوں نے بلدیاتی انتخابات کو التواء کرنے پر اتفاق کیا ہوا ہے، یہ کراچی کے عوام کو دھوکا دے کر وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں ،ہم ڈیڑھ نہیں 3کروڑ ہیں ،کراچی کی ازسر نومردم شماری کی جائے ،مردم شماری کا تمام کام ایک ہفتے میں مکمل کیا جائے اور اسٹیک ہولڈر پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے جو مردم شماری میںدھاندلی سے روک سکے ،مردم شماری کے بعد فوراً بلدیاتی انتخابات کا اعلان کیا جائے ،پاکستان اسٹیل منافع بخش ادارہ تھا جسے آئی ایم ایف اور بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے فروخت کردیا گیا اور ملازمین کو جبری برطرف کردیا گیا،وفاق اور صوبہ دونوں کی نظریں اسٹیل مل کے زمینوں پر ہے جسے وہ فروخت کر کے اپنے لیے مال بنانا چاہتے ہیں جسے کسی صورت ہونے نہیں دیا جائے گا،جماعت اسلامی اسٹیل مل کے ملازمین کے ساتھ ہے ،28دسمبر کو گورنر ہاؤس فوارہ چوک اور 31دسمبر کو ائر پورٹ کے سامنے شاہراہ فیصل پر دھرنا دیا جائے گا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ضلع ملیر کے تحت درست مردم شماری،بااختیار شہری حکومت،فوری بلدیاتی انتخابات سمیت دیگر بلدیاتی مسائل کے سلسلے میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مظاہرے کے شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے ہوئے تھے جن پر تحریر تھا کہ درست مردم شمار ی کرائو، جلد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد اور بااختیار شہری حکومت یقینی بنائو، سڑکیں، گلیاں اور پارک بنائو، وعدوں پر مت ٹرخائو، پانی بجلی گیس دو ورنہ کرسی چھوڑ دو، پاکستان اسٹیل مل سے جبری برطرفیاں نامنظور، کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کرکے قومی تحویل میں لیا جائے، ضلع ملیر کی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور مہران ہائی وے کو فوری تعمیر کرو۔شرکاء نے حکومت کے خلاف شدید غم وغصے کا اظہار کیا اور نعرے بھی لگائے۔مظاہرے سے امیر جماعت اسلامی ضلع ملیر محمد اسلام، نائب امیر ضلع محمد نواز خان ، ڈپٹی سکریٹری ضلع معراج خان ودیگر نے بھی خطاب کیا ۔حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزیدکہا کہ پیپلزپارٹی کراچی میں ڈپٹی کمشنر آفسز سے شہر پر حکمرانی کررہی ہے ، شہر کا پوراانفراسٹرکچر تباہ ہے ، ٹرانسپورٹ کا بنیادی نظام تک موجود نہیں ہے ، کراچی کے لیے مختص فنڈ کرپشن کی نذر ہورہا ہے ، مہنگائی و بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے لیکن حکمران کہتے ہیں کہ ملک کی معیشت میں بہتری آرہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ افسوس کا مقام ہے کہ شہرکراچی جو پورے ملک کی معیشت چلاتا ہے اس کاکوئی پرسان حال نہیںہے ،حکمران جماعتیں کراچی کو اون کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ،پی ٹی آئی کی کراچی سے 14قومی اسمبلی کی نشستیں اور ایم کیو ایم کی 4 قومی اسمبلی کی نشستیں ہیں ان دونوں کی ملی بھگت سے کوٹہ سسٹم میں غیر معینہ مدت تک اضافہ کر کے کراچی کے ساتھ زیادتی کی گئی ،ایم کیوایم کراچی کی مردم شماری پر تحفظات بھی کررہی ہے اور حکومت بھی چھوڑنا نہیں چاہتی اس طرح کی سیاست سوائے فریب اور دھوکے کے کچھ نہیں ہے انہوں نے ہر دور میں حکومتوں کے ساتھ اتحاد کیا لیکن کراچی کے لیے کچھ نہیں کیا۔انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی کراچی کے عوام کے ساتھ مسلسل زیادتی کر رہی ہے ۔تعصب کی بنیاد پر میرٹ کا قتل عام کیا جارہا ہے۔ 6 ہزار نوکریوں میں سے صرف 343 نوکریاں کراچی کے عوام کے ساتھ تعصبانہ رویہ ہے۔ جعلی ڈومیسائل کے ذریعے نوجوانوں سے ملازمتوں کا حق چھینا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کراچی کے عوام کے لیے ٹرانسپورٹ کے تحفے کا اعلان کرنے والے ہیں یہ وہی بسیں ہیں جسے نعمت اللہ خان نے گرین بس سروس کے نام سے شروع کیا تھا ،پرانی بسوں کو مرمت کرواکر چلایا جائے گا اور پھر سے کرپشن کا بازار گرم کیا جائے گا۔ کراچی کے عوام کسی دھوکے میں نہ آئیں ،نا اہل اور کرپٹ سیاست دان کو رخصت کریں اور اہل و ایماندار قیادت کو منتخب کریں تاکہ کراچی کے مسائل حل ہوسکیں۔محمد اسلام نے کہاکہ آج کا مظاہرہ اس شہر کے حقوق کے لیے ہے جو پاکستان کی معیشت چلاتا ہے، کراچی کی آبادی 3 کے بجائے ڈیڑھ کروڑ ظاہر کرنا کراچی دشمنی ہے،کراچی امت کا دھڑکتا ہوا دل ہے آج اس کی سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں،ملک میں ڈاکو راج ہے اسٹیل مل کے ہزاروں ملازمین کو ملازمین کو جبری برطرف کردیا گیا۔