تہذیبوں کے تصادم کوہوادینے کی سازش

130

نگورنو کاراباخ کے حوالے سے آذر بائیجان اورآرمینیاکے درمیان تنازع نہ تومستقل ہے اورنہ ہی قدیم دشمنی کی بنیاد پر ہے۔ روسی سلطنت کی آمدسے قبل دونوں ریاستیں صدیوں تک پرامن بقائے باہمی کے اصول کے تحت زندہ رہی ہیں۔ اس وقت نگورنو کاراباخ کے حوالے سے جوتنازع دونوں ممالک کے درمیان پایاجاتاہے وہ تب شروع ہواجب آرمینیا کی افواج نے آذربائیجان کی زمین پرقبضہ کیا۔ آرمینیانے آذربائیجان کے ساتھ اس تنازع کوتہذیبوں کاتصادم قراردینے کی کوشش کرتے ہوئے کرسچین کارڈکھیلنے کی کوشش کی لیکن آرمینیا کا پروپیگنڈا زیادہ کارگرثابت نہیں ہوا کیوں کہ اس تنازع کاتعلق کسی بھی اعتبارسے مذہبی اختلافات سے نہیں، جس کی وجہ سے آرمینیاکا پروپیگنڈابری طرح دم توڑگیا۔
بیسویں صدی کے اوائل میں آرمینیااورآذربائیجان کے درمیان چند اختلافات ہوئے، جنہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تنازع اورکشیدگی کی راہ ہموارکی۔ یہ مناقشے1905ء سے1907ء میں شروع ہوئے اور1917ء میں کمیونسٹ انقلاب تک جاری رہے۔ جب سوویت یونین قائم ہواتوآرمینیااورآذربائیجان سوویت سوشلسٹ ری پبلک میں تبدیل ہوگئے۔ 1920ء کے اوائل میں آذر بائیجان کی حدودمیں آرمینیائی مسیحیوں کی اکثریت پرمبنی نگورنو کاراباخ خود مختار علاقہ قائم کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ سوویت کاکیسس کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے جوزف اسٹالن نے نگورنو کاراباخ کاعلاقہ آذربائیجان کے حوالے کیا تھا۔ تاریخی دستاویزات سے ثابت ہوتاہے کہ یہ علاقہ آذربائیجان ہی کاتھااوراس کی حدودمیں شامل رکھ کرکوئی نئی بات نہیں کی گئی۔
1988ء میں،یعنی سوویت یونین کی تحلیل سے 3 سال قبل کونسل نے آرمینیامیں شمولیت کے حق میں ایساغلط فیصلہ دیاجیسا 1991ء میں آزادی وخود مختاری کے نام پرکرایاجانے والاریفرنڈم غلط تھا۔ سوویت قانون کے مطابق نگورنو کاراباخ میں ریفرنڈم صرف اس نکتے پرہوسکتاتھاکہ وہ سوویت یونین میں رہے گایاآذربائیجان کاحصہ بنے گا۔ آزادی کے نام پرریفرنڈم کی کوئی گنجایش تھی نہ آرمینیاکاحصہ بننے کے لیے۔ سوویت یونین کی تحلیل کے بعد آرمینیا اور آذربائیجان کو سوویت دورکی حدبندی کے مطابق آزادوخودمختارریاست کی حیثیت دے دی گئی۔ اس کامطلب یہ ہواکہ بین الاقوامی قانون نگورنو کاراباخ کو آذربائیجان کاحصہ گردانتاہے اوروہاں تعینات آرمینیائی افواج کو قابض ہی تصورکیاجائے گا۔ اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل51کے مطابق آذر بائیجان کواپنے دفاع کے لیے عسکری کارروائی کا حق بھی حاصل ہے۔
آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان نگورونو کاراباخ کے معاملے پر تنازع نے اس وقت شدت اختیارکی جب سوویت یونین کی تحلیل کے وقت آرمنیاکی افواج نے آذربائیجان کی سرزمین پرچڑھائی کی اور آذری شہر کھجولے کو تاراج کیا اور آذری باشندوں کوبڑے پیمانے پرموت کے گھاٹ اتارا۔ اس وقت بھی آرمینیائی افواج آذربائیجان کے 20 فیصدرقبے پرقابض ہیں۔ 1993ء میں اقوام متحدہ نے 4 قراردادیں منظور کیں، جن میں آرمینیاسے مطالبہ کیاگیاتھاکہ وہ آذربائیجان کے علاقوں سے نکل جائیں مگرایساکچھ نہ ہوا۔ آخر کا ر7 لاکھ 80 ہزار افراد کو نگورونو کاراباخ کے علاقے، اس سے ملحق آذری علاقوں اور آرمینیائی علاقوں سے نقل مکانی کرناپڑی۔ اس کاردِعمل آذربائیجان میں بھی ہوا۔ آرمینیائی نسل کے کم و بیش ڈھائی لاکھ باشندوں کوآذربائیجان سے نکل کر آرمینیا جانا پڑا۔ آج بھی آذربائیجان کے دارالحکومت باکو، گانجا اور دیگر علاقوں میں کم وبیش 10 ہزار آرمینیائی باشندے سکونت پذیرہیں۔
آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان نگورونو کاراباخ کے معاملے پرمسلح لڑائیاں ہوتی رہی ہیں۔ یہ کہانی 3 عشروں پرمحیط ہے۔ جولائی 2020ء میں نگورنو کاراباخ سے کم و بیش 100 کلومیٹر کے فاصلے پرآذری علاقے ’’تووز‘‘ میں دونوں ممالک کی افواج متصادم ہوئیں۔ روس نے آرمینیا کو فوجی امداد فراہم کی، جس سے آذربائیجان کو شدیدد کھ پہنچاکیونکہ اس نے 15 برس کے عرصے میں روس سے تعلقات بہتربنانے کی بہت کوشش کی تھی۔ 27 ستمبر کو ایک بارپھرلڑائی چھڑگئی اوراس بارمعاملہ تیزی سے شدت اختیارکرگیا۔روس نے جنگ بندی کرانے کی بھرپورکوشش کی، مگر اسے کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
نگورونو کاراباخ کے حوالے سے جوکچھ بھی ہورہاہے اس کابنیادی طورپرآرمینیاکی اندرونی سیاست سے تعلق ہے۔ آرمینیائی تارکین وطن نے ملک کی سیاست پرغیرمعمولی اثرات مرتب کیے ہیں۔ 2018ء میں نکول پاشنیان آرمینیاکے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران نگورونو کاراباخ کامسئلہ حل کرنے کے حوالے سے بلند بانگ دعوے کیے تھے۔ جب وہ انتخابی وعدوں پرعمل کرنے میں ناکام رہے تب ان پر دباؤ بڑھنے لگا۔ جب ہرطرف سے شدید تنقیدہونے لگی تب انہوں نے غیرمعمولی نوعیت کی قوم پرستی کوہوا دیناشروع کی۔ اس کے نتیجے میں نوبت ایک بارپھرآذربائیجان سے عسکری مناقشے تک جاپہنچی۔ 2019ء میں آرمینیاکے وزیردفاع ڈیوڈ تونویان نے نیو یارک میں ایک آرمینیائی گروپ سے گفتگو میں کہاکہ وزیراعظم نکول پاشنیان نے زمین برائے امن کا نظریہ ترک کرکے نئی جنگیں، نئی زمین کانظریہ اپنا لیا ہے۔ اگست 2019ء میں نکول پاشنیان نے آذر بائیجان کے تمام مقبوضہ علاقوں کوآرمینیاکاباضابطہ حصہ بنانے کااعلان کیا۔ 1990ء کے عشرے سے اب تک کسی بھی آرمینیائی سیاست دان نے اس طور کی بات نہیں کی۔
رواں برس مارچ میں آرمینیاکے وزیراعظم نے اعلان کیاکہ وہ 10 سال قبل ہسپانوی دارالحکومت میڈرڈمیں آرمینیااورآذربائیجان کے درمیان بات چیت کے لیے یورپ میں تعاون وترقی کی تنظیم کے تحت ہونے والے معاہدے کوتسلیم نہیں کرتے۔ جولائی 2020ء میں نکول پاشنیان نے آذربائیجان سے مذاکرات جاری رکھنے کے لیے یک طرفہ طورپرنئی شرائط کا اعلان کیا۔ ایک شرط یہ تھی کہ دونوں ممالک کی بات چیت میں نگورنو کاراباخ کے آرمینیائی باشندوں کوبھی شریک کیاجائے جبکہ اس علاقے کے آذری باشندوں کو بات چیت کاحصہ بنانے پروہ تیار نہ تھے۔ اس شرط کوتسلیم کرنے کی صورت میں مذاکرات کاڈھانچاہی تبدیل ہوجاتا۔ اب تک دو طرفہ چلے آرہے مذاکرات سہ فریقی ہوجاتے۔ آذری قیادت نے مذاکرات میں نگورنو کاراباخ کے آرمینیائی باشندوں کوشریک کرنے کی شرط مسترد کردی۔
سینٹر آف اینالسزآف انٹرنیشنل ریلیشنز (باکو) کے چیئرمین ڈاکٹر فرید شفیعیف کہتے ہیں کہ آرمینیااگربات چیت شروع کرناچاہتاہے تو اسے نگورنوکاراباخ کے گرد 7 علاقوں سے اپنی افواج کوواپس بلانا ہوگا۔ 2009ء میں میڈرڈمعاہدے کے تحت اوراس سے قبل 1993ء میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روسے فریقین نے اس پررضامندی ظاہرکردی تھی۔ ایساہوگاتودونوں ممالک کے درمیان رابطے بڑھیں گے اورپناہ گزینوں کی وطن واپسی کاعمل شروع ہوسکے گا۔
آرمینیاکے وزیراعظم اس بات کے لیے بالکل تیارنہیں تھے کہ آرمینیائی افواج کوآذربائیجان کی سرزمین سے واپس بلایا جائے۔ 17اکتوبر کوآذری فوج نے دفاعی اہمیت کے حامل شہرفزولی اوراس سے ملحق چندعلاقوں کاکنٹرول سنبھالا۔ یہ مقبوضہ علاقوں کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ فزولی آرمینیا کے لیے سب اہم دفاعی لائن کی حیثیت کاحامل رہا ہے۔
میڈرڈمیں طے پانے والے معاہدے کے تحت آرمینیاکوآذربائیجان کے مقبوضہ علاقوں سے نکل جانا تھا۔ ایسا ہوا ہوتا تو نوبت عسکری تصادم تک نہ پہنچتی اورفریقین کابڑے پیمانے پرجانی نقصان نہ ہواہوتا۔ دونوں ممالک کے درمیان حقیقی اورپائیدارامن کے لیے اس معاہدے پرعمل ناگزیر ہے۔ یہ سب کچھ آذربائیجان کی طرف سے نہیں ہے۔ عالمی برادری نے اس پرمہرِتصدیق ثبت کی ہے۔ آرمینیا کے لیے اسے نظراندازکرناممکن نہیں۔ آذربائیجان کوسفارتی اعتبارسے بھی برتری حاصل ہے اوروہ عسکری اعتبار سے بھی اتنا مضبوط ہے کہ اپنے تمام مقبوضہ علاقوں کوواپس لے لے۔ اگرنکول پاشنیان نے نگورونوکاراباخ کامسئلہ حل کرنے کے حوالے سے عالمی برادری کی طے کردہ شرائط قبول نہ کیں توممکن ہے کہ ان کی جگہ روسی کیمپ کاحامی شخص وزیرِ اعظم کے منصب پردکھائی دے۔ ایسی صورت میں کیاہوگا یہ پورے یقین سے کہا نہیں جاسکتا۔
یادرہے کہ اس تنازع کوحل کرنے کے لیے ہلیری کلنٹن اپنے دور قتدار میں 4 جولائی 2010ء کو نگورونو کاراباخ کے مسئلے پر ثالثی کے لیے آذربائیجان اورآرمینیا گئی تھیں جس کے لیے آذربائیجان کے صدرالہام علی یوو نے امریکی وزیرِخارجہ پرزوردیاتھاکہ وہ اس مسئلے کو امریکی ایجنڈے پرسب سے اوپر رکھیں۔ 1994ء میں دونوں ریاستوں کے درمیان 3 سالہ جنگ کاخاتمہ ہواتھااوراس جنگ میں 30 ہزار افراداپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اس جنگ کے نتیجے میں آذربائیجان سے ملحقہ آرمینیاکی اس تنگ پٹی میں رہنے والی آذری آبادی کونقل مکانی کرناپڑی تھی اوروہ اب بھی ملک کے دیگرعلاقوں میں رہنے پرمجبورہیں۔
18 اکتوبر2020ء کو دونوں ممالک نے جنگ بندی کی تصدیق توکردی لیکن ایک دوسرے کی جانب سے خلاف ورزیوں کے الزامات بھی لگائے جاتے رہے، تاہم روسی ثالثی میں فریقین کے درمیان 10 نومبر کو ایک معاہدے پر دستخط کردیے گئے۔ آرمینیائی صدر نے اس قدم کو بہت ہی تکلیف دہ بتاتے ہوئے کہا یہ عمل میرے لیے ذاتی طور پر اور ہماری عوام کے لیے ناقابل بیان حد تک تکلیف دہ ہے۔ اس کے بعد آرمینیا کے وزیراعظم نے بھی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ایک آن لائن میٹنگ کی اور امید ظاہر کی کہ جس سہ فریقی معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں وہ تنازعات کے حل کے لیے ایک اہم نکتہ ثابت ہوگا۔ اس دوران فریقین نے جنگی قیدیوں اور ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کے تبادے جیسے اقدامات شروع کردیے تھے۔ اس پیش رفت کے بعد بظاہر ایسا محسوس ہوا

کہ آرمینیا کے عوام اس معاہدے سے ناراض ہوئے اور انہوں نے یریوان میں حکومتی عمارتوں کے باہر احتجاجی مظاہرے کیے۔ انہوں نے سرکاری عمارتوں پر دھاوے بولے اور اور سیکڑوں افراد ان میں داخل ہوکر توڑ پھوڑ اور ہنگامہ کرتے رہے۔
تقریباً 6 ہفتے تک زبردست لڑائی کے بعد جنگ بندی کے اس معاہدے کا اعلان ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب آذربائیجان کی فوج اچھی خاصی پیشقدمی کر چکی تھی، جس میں کئی اہم علاقوں کو قبضے میں لے کر کنٹرول سنبھال لیا گیا تھا جب کہ نگورنو کاراباخ کے دوسرے سب سے بڑے شہر پر فتح کا اعلان بھی کر دیا گیا تھا۔ آذربائیجان نے اعلان کیا کہ اس نے نگورنو کاراباخ کے آس پاس کے ان بیشتر علاقوں کو حاصل کر لیا ہے جو 1991ء سے 94ء کے درمیان ہونے والی جنگ کے دوران اس کے ہاتھ سے نکل گئے تھے جب کہ آرمینیا کے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یہ ایک فتح تو نہیں لیکن جب تک آپ خود کو شکست خوردہ تسلیم نہ کریں تب تک یہ ہار بھی نہیں ہے۔ یہ ایک نئے عہد کا آغاز ثابت ہوگا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ خطے کااہم اور طاقتور ملک ترکی آذربائیجان کے حق میں ڈٹ کر کھڑا رہا اور سفارتی و عسکری لحاظ سے ہر موقع پر آذربائیجان کی حمایت و مدد کی گئی۔ اس پر امریکا کے پیٹ میں مروڑ اٹھے اور اس نے آذر بائیجان کا ساتھ دینے پر ترکی کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ کاراباخ تنازع میں آذربائیجان کی حمایت ترکی کو مہنگی پڑے گی۔ برسلز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی سفیر برائے نیٹو ہوشنسن کا کہنا تھا کہ نیٹو اتحادی ہونے کے ناطے ترکی کو کاراباخ کے معاملے پر آذربائیجان کی مدد سے گریز کرنا چاہیے تھا۔ یہ عمل ترکی کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔
امریکی بے چینی کا جواب دیتے ہوئے ترکی نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ نگورنو کاراباخ کی فتح کے بعد بھی آذربائیجان کی جدوجہد جاری رہے گی اور ترکی اس کی حمایت کرتا رہے گا۔ ترک صدر نے آذربائیجان کے دورے پر صدر الہام علیوف کے ہمراہ جشن فتح سے قبل باکو کی ایک مسجد میں شکرانے کے نوافل ادا کیے۔ بعد ازاں انہوں نے کہا کہ جدوجہد ہماری اور فتح اللہ کی جانب سے ہے۔