ابہام

142

” کیا واقعی کوروناہے”؟
اس کے سوال سے میں چونک گئی
” کیا مطلب؟”۔
” میں نے سادہ سا سوال کیا ہے ،کیا واقعی کوروناہے؟ ”
” تو تمہیں کیا لگتا ہے ،نہیں ہے؟ ” میں نے الٹا اس سے سوال کیا
” نہیں بالکل بھی نہیں ہے ” اس نے قطیعت سے کہا
” واہ ! کیا کہنے ہیں آپ کے ،اور جو روز اتنے لوگ کوروناسے مر رہے ہیں ،وہ کیا ہے ، اور کتنے ہی لوگ کورونامیں مبتلا ہیں وہ ،؟ اور تمہارا کہنا ہے کہ کوروناہے ہی نہیں،واہ واہ کیا بات کہی ہے”
” اچھا چلو یہ بتاؤ کہ کوروناہے کیا ؟، پتا کیسے چلتا ہے کہ کوروناہوگیا ہے ”
” ارے بھئ ٹیسٹ کروانے پر پتا لگتا ہے ”
” تو ٹیسٹ کیوں کروانا پڑتا ہے ؟”
” جب بہت نزلہ ،زکام گلا خراب ،اور بخار کہ کیفیت ہوتی ہے تو ٹیسٹ لکھ ہی دیتے ہیں ڈاکٹر ،اور پھر پتا لگ جاتا ہے کہ کوروناہے یا نہیں ،”
” اور زیادہ تر کا تو ٹیسٹ پوزیٹو ہی آ جاتا ہے،ہے نا”؟ اس نے ایک بار پھر مجھے الجھا دیا
” ہاں،جب پوزیٹو ہوگا تو پوزیٹو ہی آئے گا”.
“اچھاااا ۔۔” ۔اس نے کچھ سوچتے ہوئے اچھا کو لمبا کھینچ لیا پھر کہا
” پہلے سال دو سال پہلے جب موسم تبدیل ہوتا تھا تب بھی اسی طرح سے سب کو نزلہ ،کھانسی ، فلو ،گلا خراب کی شکایت ہوتی تھی ،اور ایک سے دوسرے کو لگتا بھی تھا ،مگر اس وقت تو نہ کوئی ماسک پہنتا تھا نہ ہی کوئی کرونا کا ٹیسٹ کروانا تھا ،اور ڈاکٹر بھی یہ ہی کہتے تھے کہ موسم تبدیل ہو رہا ہے ،یا وائرل ہے ٹائم سے ہی جائے گا”
” تم کہنا کیا چاہتے ہو”
” اور گرمیوں میں شدید گرمی سے کتنی اموات ہوئ تھی تین سال پہلے ،اس وقت بھی کرونا نہیں تھا ،سب جنازوں میں بھی شرکت کر رہے تھے ،تعزیت کو بھی جا رہے تھے ، ”
” ہاں بات تو ٹھیک ہے تمہاری ،مگر اب تو ساری دنیا لپیٹ میں ہے ”
” تو تمہارا کیا خیال ہے کہ ان کے ہاں مظاہرے نہیں ہو رہے،لیکن مظاہرے کوروناسے پاک ہیں ،جلسے جلوس کسی بھی ملک میں ہوں وہاں بھی کورونانہیں آتا،ٹی وی چینلز پر کبھی بھی کرونا کی آمد نہیں ہوتی۔ مگر یہ چینلز ہی ہمیں زور شور سے کوروناکے پھیلاؤ کی خبریں پہنچا رہے ہوتے ہیں ” ۔
” یہ تو ہے ۔” میں نے قائل ہوتے ہوئے کہا
” دوسری طرف بھی نظر دوڑاو ، سب ائیر کنڈیشنڈ والی جگہوں پر پابندی لگا دی گئی ہے ،اس سے کیا سمجھ آتا ہے؟”
” کیا سمجھ آتا ہے ، یہ بھی تم ہی بتاؤ” میں نے کہا تو مسکراتے ہوئے جواب دیا
” بجلی کی بچت ، سادگی کی عادت ،اور رات گئے جو دکانیں اور ریسٹورنٹ کھلے رہتے تھے ان پر پابندی سے کتنے فوائد حاصل ہورہے ہیں ۔۔۔۔یہ سوچا ہے کبھی”
” تو تمہارے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کورونا وروناکچھ نہیں یہ ہم کو سدھارنے کے بہانے ہیں،مگر اس بچت سے نہ ہی بجلی سستی ہوئی ،نہ ہی مہنگائی کم ہوئ۔اور پھردوسرے ممالک بلکہ پوری دنیا میں ہی کوروناہے ، وہاں کے بارے میں تمہارا کیا کہنا ہے”
” دوسرے ممالک میں تو اوپری صفائی کا ہی انتظام ہوتا ہے مگر مسلم ممالک میں تو پانچ وقت وضو ،ہی کورونا سے نجات کے لیے کافی ہے ،اور یہاں تو 90 فیصد مسلمان ہیں ،اگر وضو نہ بھی کریں تو بھی طہارت کے اصول جانتے ہیں اور چلو وہ بھی نہ جانتے ہوں تو نہانا اور صاف ستھرا رہنا مسلمانوں کی عادت ہی ہے ،اس لئے یہاں تو سوال ہی نہیں کہ کوئی ایسی بیماری پھیلے ”
” تو؟؟”” تو کچھ بھی نہیں ، ” اس نے کندھے اچکائے
” کیا مطلب کچھ نہیں ، پھر ان سب باتوں کا مقصد کیا تھا ” ؟ میں نے زچ ہو کر پوچھا ” پتا نہیں میرے خود بھی سمجھ نہیں آرہا تھا تو میں نے سوچا تم سے تھوڑی بحث کرلوں ،شاید کچھ نتیجہ نکل آئے ” اس نے کہا اور ایک طرف چل دیا اور میں دیکھتی ہی رہ گئی۔