دولت

143

“میں تو بہت امیر ہوں، صاحب جی!”، وہ سادہ چاول بغیر کسی سالن یا دال کے کھارہا تھا ، وہ پٹرول پمپ کے کونے میں بیٹھا تھا۔ اس کا یونیفارم پرانا لگ رہا تھا اور پیوند زدہ بھی تھا۔ میں اسے اس بات پر حیرانی سے دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ شاید یہ امیری کے مطلب نہیں جانتا۔
آج چھٹی کا دن تھا۔ اماں نے سودے کی ایک بڑی لسٹ تھما دی جسے چار رونا چار مجھے ہی لانا تھا۔ گاڑی کی چابی لیے میں باہر نکلا،
“یا اللہ مدد” میں نے چلچلاتی دھوپ کو دیکھتے ہوئے کہا۔ اس دھوپ کے بھی بڑے مسئلے ہیں جب گھر پر رہنا ہوتا ہے تو منظر سے غائب رہتی ہے اور جس دن خصوصی اتوار کو جب بھی کام ہوتا ہے دیدار کروانے آجاتی ہے۔ میرا موڈ کافی حد تک خراب ہوچکا تھا۔
“ایک تو اتوار کے دن کسی کو بھی فکر نہیں کہ میں تھوڑا آرام کرلوں، دوچار فلم دیکھ لوں، پورا ہفتہ تو کام کرتا ہی ہوں، ایک دن آرام کرنے سے کسی کا کیا جائے گا۔ نہیں، میں اور آرام، کسی کو یہ بات ہضم تو نہیں ہوگی نا اب باہر بھیج دیا کہ فلاں فلاں کام کرو اور اوپر سے اتنی گرمی اور سونے پہ سہاگہ اے-سی بھی خراب” میں منہ ہی منہ میں بڑبڑاتا ہوا چابی کو ایگنیشن میں ڈالا اور منزل کی جانب چل پڑا۔
چھٹی کی وجہ سے رش بھی زیادہ تھا، لہذا جس کام کو دو گھنٹے میں مکمل ہوجانا تھا اس نے تین گھنٹے لے لیے۔
سارے کام کر کے میں نے گاڑی کو گھر کی سمت موڑ لیا پر یہ کیا، پٹرول ختم!!
“اف! آج ہی سارے مسئلے ہونے ہیں” اب مجھے شدید غصہ آنے والا تھا اور یہ سوچ کر بھی سر گرم ہورہا تھا کہ اب پٹرول کیلئے لمبی لائن میں لگنا پڑے گا۔ پر خدا کا شکر کے پٹرول پمپ پہ بلکل رش نہ تھا حتی کہ وہاں کے ملازم بھی نہیں۔
میں گاڑی سے اترا اور نظر دوڑائی تو تھوڑی دور ایک جوان لڑکا بیٹھا کھانا کھا رہا تھا جس کے یونیفارم سے پتا لگ رہا تھا کہ وہ اسی پمپ پہ ہوتا ہے۔
“بھائی مجھے پٹرول بھروانا ہے جلدی کریں” میں نے اس کے پاس جاکر اسے مخاطب کیا۔”بھائی کھانا کھالوں پھر کردیتا ہوں ورنہ پھر رش بڑھ جائے گا اور کھانا رہ جائے گا”اس کے کہنے پر میں بھی پتا نہیں کیوں وہی بیٹھ گیا۔ سادہ چاول کھاتا ہوا وہ لڑکا مجھے بڑا ہی پیارا لگ رہا تھا۔”صاحب آپ بھی کھائیں نا!” اس نے مجھے بھی دعوت دی تو میں حیرانی سے اسے دیکھنے لگا۔
“ایسے کیا دیکھ رہے ہیں صاحب؟” اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا، لہجہ معصومیت میں ڈوبا ہوا تھا۔”بس یہی دیکھ رہا ہوں اتنی غریبی میں بھی تمہیں مشرقی رسم و رواج نبھانا آتا ہے”میں نے اسے جواب دیا، اشارہ اس کی مہمان نوازی کی سمت تھا۔”میں تو بہت امیر ہوں صاحب جی”اس نے شاید بس لفظ غریب ہی سنا تھا مگر میں اس کی اس بات سے کافی حیران ہوا تھا، بلکہ سچ پوچھیں تو تھوڑا دماغی مریض بھی یا خوابوں کی دنیا میں خود کو بادشاہ سمجھنے والا۔”اگر امیر ہو تو سادہ چاول کیوں کھا رہے ہو؟” اس کی عجیب بات پر ایک عجیب سوال تو بنتا تھا۔
“صاحب جی میرے پاس چہار جانب پھیلی ہوں جائداد نہیں اور متاع دنیا بھی مختصر ہی سا ہے پر جس کی پوری کائنات ہے وہ میرا ہے” میں اس کی بات سب پر ششدر رہ گیا تھا۔آج سمجھ آیا کہ میری سوچ کتنی چھوٹی تھی کہ پیسے کو دولت مان لیا پر درحقیقت سچی اثاثہ تو یہ تعلق باللہ ہی ہے جو اگر مضبوط ہو تو دنیا و آخرت دونوں آپکی اور اگر کمزور ہو تو نہ دنیا آپکی نہ آخرت۔
وہ مزید بول رہا تھا،”میرے پاس اتنا ہے کہ خود دو وقت کھا سکتا ہوں اپنی ماں کو بھی کھلا سکتا ہوں” میں نے اس کے چاولوں کی طرف دیکھا جو سادہ تھے مگر پیٹ بھر لینے کیلئے کافی تھے۔ جو بہتر تھے اس رزق سے جو حرام ذرائع سے کمایا جاتا ہو۔ حلال رزق بھی درحقیقت بڑی دولت ہے۔
“میرے پاس اتنا کپڑا ہے کہ اپنا تن ڈھانپ سکتا ہوں” اس کے پرانے کپڑوں پر میری نظر گئی۔
“زندگی میں روٹی، کپڑا اور مکان اہمیت رکھتے ہیں مگر ثانوی، امیر مجھے میرے بڑے دل نے بنایا جو ہر حالت میں خواہ برے ہو یا اچھے خالق کائنات کا مشکور رہتا ہے” میں اس کی باتیں بہت غور سے سن رہاتھا۔
“مجھے امیر بنایا میری ماں نے جن کی شفقت اور دعائیں مجھ پر پڑی ہر مصیبت ٹال دیتی ہیں” سچ میں ماں تو ہوتی ہی ایسی ہے اور ان کی دی گئی دعائیں ہمارے لئے ایک بیش بہا خزانے سے کم نہیں۔ میں نے اپنی ماں کی لمبی حیاتی کی دعا کی پھر ہمہ تن گوش ہوگیا۔
“مجھے امیر بنایا میری صحت نے، مجھے امیر بنایا اس جوانی نے کہ مجھ میں ابھی دم خم ہے اور میں بہت کچھ کرسکتا ہوں۔ میں صبح یہاں کام کرکے رات میں پڑھتا ہوں اور یہ علم بھی مجھے امیر بنادیتا ہے، اس سے پہلے یہ تمام دولت مجھ سے چھن جائے میں چاہتا ہوں کہ ان سب کا صحیح استعمال کرلوں۔مجھے تو لگتا ہے کہ یہی اصل دولت ہے جو دنیا میں بھی بڑے کام کی ہے اور آخرت بھی سنوار دیتا ہے”
تھوڑی دیر کے بعد پٹرول بھروا کر میں گھر کی جانب بڑھ رہا تھا اس سوچ کے ساتھ کہ میں کتنا امیر ہوں، والدین، علم، جوانی، صحت سب ہی کچھ ہے میرے پاس اور میں ان جانے میں اپنی دولت گنوا رہا ہوں!!