برطانیہ میں کشیدگی، فرانس نے سرحد کھول دی

220

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانیہ میں کورونا وائرس کی نئی لہر کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال دن بہ دن کشیدہ ہوتی جا رہی ہے اور لوگ بڑی تعداد میں دوسرے علاقوں کی جانب سفر کررہے ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق عالم گیر وبا کی نئی قسم دریافت ہونے کے بعد یورپی یونین کے ممالک نے برطانیہ سے آنے والے مسافروں پر پابندی لگادی تھی، جسے گزشتہ روز جزوی طور پر نرم کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔ اٹلی اور فرانس نے برطانیہ سے آنے والے مسافروں کو اپنی سرحدوں میں داخل ہونے کی اجازت دے دی ہے تاہم فرانس کو برطانیہ سے آنے والے ہر مسافر کا منفی ٹیسٹ درکار ہوگا۔ اسی طرح نیدرلینڈز نے بھی ایسی ہی شرط رکھی ہے جب کہ اسپین نے جبرالٹر سے آنے والے تمام غیر ملکی شہریوں کے ملک میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے ۔ دوسری جانب پرطانیہ کی بندرگاہ ڈوور پر پھنسے کئی ٹرک ڈرائیوروں اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا ہے۔ واضح رہے کہ فرانس کی جانب سے اتوار کو سرحد بند کیے جانے کے بعد ہزاروں ٹرک اور ان کے ڈرائیور ڈوور کے قریب پھنسے ہوئے ہیں، جنہوں نے گزشتہ روز جمع ہوکر شدید احتجاج کیا۔ اس دوران پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔ مظاہرین نے برطانوی وزیر اعظم کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس سے قبل یورپی کمیشن نے رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ برطانیہ جانے اور وہاں سے آنے والوں پر سفری پابندیوں کی سختی میں کچھ نرمی پیدا کریں، تاہم ساتھ ہی سفارش بھی کی گئی ہے کہ 27 رکن ممالک برطانیہ کے غیر ضروری سفر کی حوصلہ شکنی بھی کریں۔ کئی یورپی ممالک نے برطانیہ سے تمام تر آمد و رفت پر پابندی کورونا کی نئی قسم کے پھیلاؤ پر عائد کی تھی۔ ادھر فلپائن ائرلائنز نے اعلان کیا ہے کہ لندن آنے اور جانے والی تمام پروازوں کو فروری کے آخر تک معطل کیا جا رہا ہے۔