صوبے بھر میں پولیس مقابلوں کے لیے نئی گائیڈ لائنز جاری، سندھ ہائیکورٹ

216

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے صوبے بھر میں پولیس مقابلوں کے لیے نئی گائیڈ لائنز جاری کر دی جبکہ عدالت نے کہا کہ ماورائے عدالت قتل اور خود کو انکاؤنٹر اسپیشلسٹ کہنے والوں کی روک تھام بھی ضروری ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں پولیس مقابلے سے متعلق کیس میں ملزم کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی جس میں  عدالت نے ریمارکس دیے کہ پولیس مقابلے کے ہر کیس کے مقدمے میں موبائل انچارج کا نام نہیں ہوتا جبکہ پولیس موبائل کی ڈیوٹی پر موجود اسٹاف اور تھانے سے روانگی کا بھی ذکر نہیں ہوتا اور پولیس اہلکاروں کے پاس موجود اسلحے اور گولیوں کا بھی اندراج نہیں ہوتا۔

اس موقع پر عدالت نے سندھ بھر میں پولیس مقابلوں سے متعلق نئی گائیڈ لائنز جاری کردی ہیں جبکہ  سندھ ہائیکورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بعض کیسز میں ملزمان کو لگنے والی گولیوں کا زخم سرکاری اسلحہ کا نہیں ہوتا اور ایف آئی آر میں دونوں جانب سے استعمال کیے گئے اسلحے کی تفصیلات شامل ہونی چاہیے۔

عدالت نے کہا کہ ماورائے عدالت قتل اور خود کو انکاؤنٹر اسپیشلسٹ کہنے والوں کی روک تھام بھی ضروری ہے۔

 فاضل عدالت نے ہدایت کی کہ صوبے بھر کے ایس ایس پیز پولیس رولز پر سختی سے عمل درآمد کریں، پولیس مقابلے میں استعمال ہونے والا سرکاری اسلحہ بھی مقابلے کے بعد سیل کیا جائے اور جائے وقوعہ سے ملنے والے خول بلاتاخیر فرانزک کے لیے بھیجے جائیں۔

سندھ ہائیکورٹ نے کہا کہ ملزمان جو گاڑی، موٹر سائیکل واردات میں استعمال کریں چالان میں اس کا بھی اندراج کیا جائے۔

واضح رہے عدالت نے ہدایت کی ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالتوں کے منتظم جج پولیس مقابلے کے کیسز کا چالان منظور کرنے سے پہلے تمام قوانین کا جائزہ لیں اور چالان میں پولیس اہلکاروں میں اسلحے کی رجسٹریشن نہ ہو تو پولیس مقابلے کا چالان منظور نہ کیا جائے۔

خیال رہے سندھ ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ تفتیشی افسر کی جانب سےملزمان کے زیر استعمال گاڑی کی ملکیت کا شواہد ناملنے پر مقابلہ مشکوک ہوجائے گا۔

دوسری جانب کراچی پولیس چیف کا کہنا تھا کہ ہوائی فائرنگ کرنے والوں کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج کیا جائے گا، ہوائی فائرنگ ایک جرم ہے اور اس جرم کے مرتکب افراد کے خلاف اقدام قتل سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمات کا اندراج کیا جائے گا۔