۔’’را‘‘ کی بلوچستان کو علیحدہ کرنے کی سازش

613

بھارتی خفیہ ایجنسی را نے 1971ء میں پاکستان کو دو ٹکڑے کرانے کے بعد ایک خوں آشام بھیڑیے کی شکل اختیار کر لی ہے اس تنظیم نے بھارتی ایجنڈے ’’مہا بھارت‘‘ کو بڑھاتے ہوئے پڑوسی ملکوں پاکستان، نیپال، سری لنکا، میانمر (برما)، مالدیپ میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کو وسیع طور پر مالی اور اسلحہ سے سپورٹ کی ہے۔ اس وقت بھارت میں کشمیری مسلمان، خود بھارتی مسلمان، سکھ اور عیسائی اس کے ظلم و ستم کا شکار ہیں جبکہ بھارت میں برسرپیکار باغی قبائل نبرد آزما ہیں جس میں میزورام سرفہرست ہے۔ بھارت نے اپنی داخلی صورتحال کو اقوام عالم سے چھپاتے ہوئے پاکستان کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ شروع کی ہوئی ہے اور اس مقصد کے لیے بین الاقوامی میڈیا میں خبریں نشر ہو رہی ہیں کہ بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی نے بھارتی پالیمنٹ سے ایک خطیر رقم را کے آپریشنل مقاصد کے لیے مختص کرائی ہے۔ را سے بنگلا دیش بھی محفوظ نہیں ہے اور بنگلا دیش میں چٹا گانگ اور کھلنا کے ہندو دہشت گردوں کو کلکتہ میں ٹریننگ دے کر آزاد ہندو ریاست کے قیام کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ اس کے علاوہ بحیرہ ہند میں بھی بھارتی نیوی کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ افغانستان میں 10 سال سے بھارتی خفیہ ایجنسی را جلال آباد میں 40 کیمپوں میں بلوچستان لبریشن آرمی کے دہشت گردوں کو گریٹر بلوچستان کا سہانا خواب دکھا کر پاکستان میں دہشت گردی کراتی رہی ہے۔ سندھ میں تھرپارکر سے گھوٹکی کے سرحدی علاقے، پنجاب میں رحیم یار خان سے بہاولپور بشمول بہاولنگر اس کی مشکوک سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ جب سے افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردوں کا نیٹ ورک ختم کرنے پر اتفاق ہوا ہے اور بھارتی ایجنٹ کل بھوشن یادو کی بلوچستان سے گرفتاری اور بین الاقوامی میڈیا اور عالمی عدالت انصاف میں بھارت کی رسوائی ہوئی ہے اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور کرفیو سے بھارتی وزیر اعظم، بھارتی فوج اور بھارتی خفیہ ایجنسی را بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ بین الاقوامی طور پر ممبئی بم دھماکوں کا بھارتی ڈراما بھی فلاپ ہو گیا ہے۔ را اس ڈرامے کے ذریعے پاکستان کو مطعون کرنا چاہ رہی تھی لیکن کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ بھارت میں سکھوں اور کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد رنگ لاتی جا رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا پردہ چاک ہونے کے بعد اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کی پامالی پر 50 سال بعد سلامتی کونسل کے اجلاس میں باقاعدہ تذکرہ ہوا ہے جس سے بھارتی حکمرانوں کی نیندیں اُڑی ہوئی ہیں اور را نے نئے منصوبے کے تحت پاکستان میں جتنی بھی عسکری تنظیمیں دہشت گردی میں ملوث ہیں ان کی سرپرستی شروع کر دی ہے۔ انہیں افغانستان میں ٹھکانے فراہم کرنا، دہشت گردی کی تربیت دینا اور مالی امداد دینا یہ اس کے اہم فرائض میں شامل ہے۔ اس سلسلے میں امریکن سی آئی اے، افغان انٹیلی جینس این ڈی ایس کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔ خطہ میں پاکستان نے قیام امن کے لیے جو کردار نبھایا ہے اس کو پوری دُنیا نے سراہا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا مسلسل را کی شرمناک سرگرمیوں کا پردہ چاک کر رہا ہے۔ را سندھ میں سندھو دیش لبریشن آرمی کے ارکان وسطی پنجاب میں پنجابی طالبان، بلوچستان میں بلوچ لبریشن آرمی، صوبہ پختونخوا میں کالعدم تحریک طالبان (پاکستان) ان تمام تنظیموں کی مالی امداد کے ساتھ ساتھ دہشت گردی میں استعمال ہونے والا اسلحہ اور ٹریننگ بھی دے رہی ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل گروپ) کے سردار اختر مینگل نے 12 دسمبر 2019ء کو پاکستان کی مسلح افواج اس کی خفیہ ایجنسیوں اور آئی ایس آئی پر قومی اسمبلی کے اجلاس میں بلوچوں کی مائوں، بہنوں اور نوجوانوں کو اغوا کرکے ظلم و ستم و زیادتی کا نشانہ بنانے کا سنگین الزام لگایا تھا۔ اسے بھارتی میڈیا نے بُری طرح اُچھالا تھا جس سے پوری دُنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی تھی۔ سردار اختر مینگل کے نہ صرف بلوچستان کے باغیوں سے رابطے ہیں بلکہ پاکستان کے حساس اداروں کو پتا چلا ہے کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان کی مسلح افواج اور آئی ایس آئی کو بدنام کیا جائے تاکہ بھارتی حکومت کے مقبوضہ کشمیر میں طویل کرفیو اور بھارتی شہریت کے ترمیمی بِل سے توجہ ہٹائی جا سکے۔
25 اکتوبر 2020ء کو کوئٹہ میں اپوزیشن کی جماعتوں کا اتحاد پی ایم ڈی کا ایک جلسہ ایوب اسٹیڈیم میں منعقد ہوا تھا جبکہ وفاقی حکومت اور صوبائی اسمبلی بلوچستان نے سیکورٹی الرٹ جاری کیا تھا کہ کوئٹہ میں خودکش دھماکوں کی اطلاع ہے لیکن حزب اختلاف کے قائدین نہیں مانے۔ ایک طرف جلسہ ہو رہا تھا دوسری طرف کوئٹہ کی سبزی منڈی میں اسی وقت خودکش بم دھماکے میں 3 افراد جاں بحق اور 10 زخمی ہوئے تھے اس کے علاوہ گاڑیوں میں بھی آگ لگی ہوئی تھی۔ اپوزیشن کے رہنمائوں بلاول زرداری اور لندن سے محمد نواز شریف نے خطاب کیا تھا۔ بلوچستان نیشنل عوامی پارٹی (بی این پی) کے سربراہ اختر مینگل اور عبدالمالک بلوچ نے پاکستان کی مسلح افواج اور حساس اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ مولانا فضل الرحمن، راجا پرویز اشرف، مریم نوازاور محمود خان اچکزئی نے سخت تقاریریں کیں۔ مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم کے صاحبزادے مولانا شاہ انس نورانی نے آزاد بلوچستان کے نعرے لگائے تھے جو قابل گرفت اور قابل مذمت ہے۔