کیا گاندھی آر ایس ایس کے حامی تھے؟

291

آر ایس ایس کا  نظریہ کن کن ہاتھوں کے ذریعے یہاں تک پہنچا، حقیقت یہ ہے کہ!

آر ایس ایس کے نظریے کو صرف 6 لفظوں میں سمویا جاسکتا ہے، ‘We shall show muslims their place’، ہم مسلمانوں کو اْنکی اوقات میں رکھیں گے۔

کہا جاتا ہے کہ یہ زہر مہاتما گاندھی کے دور میں بھی اپنے پھن اٹھا رہا تھا۔ مہاتما گاندھی ان لسانی اور مذہبی خانوں میں انسان کو قید رکھنے کے قائل نہیں تھے۔ لیکن “آر ایس ایس ” ہندوؤں کے علاوہ تمام اقلیتوں کے لیے ایک خطرناک نگ ہے اور مہاتما گاندھی ایسے گروپ کو اپنا کہنے کے قطعی قائل نہیں تھے.

مہاتما گاندھی کے سیکریٹری پیارے لال اپنی کتاب ‘مہاتما گاندھی، دی لاسٹ فیز’ میں لکھتے ہیں کہ 1947 میں ہندوستان کی تقسیم اور اس کے ساتھ ہونے والے خوفناک تشدد نے ہندو نسل پرستوں کو اپنے مقاصد کو تکمیل تک پہنچانے کیلئے ایک زرخیز مٹی فراہم کردی تھی۔ اس کے نتیجے میں سب سے سنگین صورتحال جو پیدا ہوئی وہ متوسط ​​طبقے سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند ہندوؤں اور آر ایس ایس کی بھارتی راجنیتی میں دراندازی ہے۔ یہاں تک کہ اس نے ہندو کانگریسیوں کے ایک حصے سے بھی خفیہ ہمدردی کا اظہار کرنا شروع کردیا۔

ہندوتوا تنظیم آر ایس ایس کا منشور کیا ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں؟ پیارے لال اس حوالے سے آگے لکھتے ہیں کہ آر ایس ایس ایک فرقہ پرست ، پیرا ملٹری اور فاشسٹ تنظیم ہے جس کا مقصد ہندو راج قائم کرنا ہے اور انہوں نے یہ نعرہ اپنایا ہوا ہے کہ، ‘مسلمان ہندوستان سے نکل جائیں۔’

پیارے لال آگے لکھتے ہیں کہ آر ایس ایس اُس وقت زیادہ متحرک نہیں تھی یا کم از کم بلاواسطہ تو نہیں لیکن یہ نعرہ مغربی پاکستان کے تمام ہندوؤں کو ہندوستان منتقل کرنے کا اشارہ تھا جس کے بعد وہ کھُل کر ہندوستانی مسلمانوں سے پاکستان بن جانے کا بدلہ لے سکتے تھے۔

جب نیا آزاد ہندوستان تقسیم کے زخموں اور مہاجرین کی حالت زار سے دوچار ہوا تو اسے داخلی دشمنوں کے ایک سنگین خطرے کا سامنا کرنا پڑا جو کہ ہندوتوا کی بڑھتی ہوئی لہر تھی۔ گاندھی کے سیکریٹری اپنی یادداشت کو قلمبند کرتے ہوئے کہتے ہیں 1947 کے دوسرے نصف حصے میں آر ایس ایس ہندو متوسط ​​طبقے ، سینئر عہدیداروں اور ان میں شامل سیاست دانوں کے نظریات کو اپنے موافق تبدیل کرنے میں کامیاب رہی۔ تاہم مہاتما گاندھی اور جواہر لال نہرو وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اس کے خلاف تھے اور شاید یہی وجہ تھی کہ گاندھی اور اُن کے نقشِ قدم پر چلنے والے بعد کے حکمرانوں کی وجہ سے آر ایس ایس کو کھُل کر دنگا فساد اور مسلمانوں کو قتل کرنے کا موقع نہیں مل سکا۔