ذہنی طور پر مضبوط افراد کی 6خصوصیات

4591

لوگ اکثر جسمانی صحت پر زیادہ توجہ دیتے ہیں.اس کے لیے ورزش اور خوراک کو بھی بہتر بناتے ہیں.مگر ذہنی طور پر  مضبوط ہونے کے لیے اتنی تگ و دو نہیں کرتے.حالانکہ مائند سائنسز کے حوالے سے دنیا بھر میں تحقیق کی جارہی ہے،ذہنی صحت پر بیشمار کتابیں لکھی جاچکی ہیں.جن کے مطالعے کے بعد آپ اپنی ذہنی مضبوطی کا پیمانہ جان سکتے ہیں.مائنڈ سائنسز کا کوئی بھی ماہر آپ سے چند سوالات کے نتیجے میں آپ کی ذہنی مضبوطی کا معیار بتاسکتا ہے.ماہرین  نے ذہنی طور پر مضبوط لوگوں کی چھے خصوصیات بتائی ہیں،آئیے تفصیل کے ساتھ ان  کا جائزہ لیتے ہیں:

  • ہمت و جرات:

               ذہنی طور پر مضبوط لوگوں کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہمت و جرات کا پیکر ہوتے ہیں.نامساعد حالات میں بھی بہترین کام کرتے اور اپنےکام سے ہمیشہ مخلص رہتے ہیں.ڈر و خوف کا لفظ ان کی لغت میں سرے سے موجود نہیں ہوتا.ناکامیوں پر یہ کبھی دل شکستہ نہیں ہوتے بلکہ اس کے بعد نئے سرے سے کام کا آغاز کرتے ہوئے غلطیوں کو نہ دہرانے کا عزم کرتے ہیں.

  • مستقل مزاج:

            یہ مستقل مزاجی کے عادی ہوتے ہیں.چاہے مختصر کام ہی کیوں نہ ہو اسے بہترین انداز میں سرانجام دیتے ہیں.مسلسل جدوجہد ان کا خاصہ ہوتا ہے.مائنڈ سائنسز کے مطابق 40 فیصد تک کسی کام میں دماغ کے استعمال کے بعد انسان کو یہ خیال آتا ہے کہ وہ اسے بہترین انداز میں سرانجام دے چکا ہے اور اگر وہ 40 فیصد سے زائد اپنے دماغ کو استعمال کرلے تو منزل اس سے قریب تر ہوجاتی ہے.

  • بڑے دل کے مالک:

                   یہ کبھی بھی لوگوں کی جانب سے چھوٹی  کوتاہیوں پر ناراض نہیں ہوتے اور ایسے موقع پر جذبات پر قابو پانے کا ہنر بھی انہیں خوب آتا ہے.یہ لوگوں کی کوتاہیوں سے درگزر کرکے انہیں ان کی کمیوں کے ساتھ ہی قبول کرتے ہیں. ا س کی مثال یوں لیجئے کہ کوئی مالک اپنے ملازم کو  کام کرنےکا حکم دے  اور ملازم اس کی خواہش کے مطابق کام سر انجام نہ دے پائے تو مالک کو ملازم سے غلطی کی وجہ دریافت کرنی چاہئے اور اگر مالک ملازم کے اس عمل پر اس کی سختی سے گرفت کرے اور سارا دن صرف اسی بات پر اپنا موڈ خراب کیے رکھے تو مائنڈ سائنسز کی روح سےایسا شخص ذہنی طور پر کمزوری کا شکار ہے.

  • مقصدیت:

       ان کی زندگی کسی خاص مقصد کے گرد گھومتی نظر آتی ہے.ان کی منزل متعین ہوتی ہے.یہ منزل کی جانب  رفتہ رفتہ آگے بڑھتے ہیں.اگر انسان کی منزل پہاڑ کی چوٹی کو سر کرنا ہو اور وہ اس سے پہلی کی مشکلات سے آشنا نہ ہو تو یقیناً وہ کبھی بھی منزل پر نہیں پہنچ پائے گا اس کے لئے ضرری ہے کہ وہ ان تمام مشکل مراحل کا ادراک رکھتا ہو اور بڑے مقصد کے حصول کے لیے چھوٹے مقاصد کو عبور کرے تاکہ بڑے مقصد تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کا عزم  نہ ٹوٹ سکے.

  • الجھنوں سے لاپرواہ:

               یہ کام کے  دوران آنے  والی الجھنوں کا شکار نہیں ہوتے بلکہ اس سے لاپرواہی برتتے ہوئے دھیان میں نہیں لاتے.اس کی مثال یوں لیجئے کے بعض لوگ کام میں آنے والی مشکلات سے دھیان ہٹانے کے لیے تذبذب کا شکار ہوجاتے ہیں. سوشل میڈیا کا رخ کرتےہیں ،زیادہ کھانا کھانے لگ جاتے ہیں یا پھر سگریٹ اور دیگر منشیات کا استعمال کرکے الجھن کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں،کوئی شخص الجھن کو ختم کرنے کے لیے اس قسم کے کام کرتا ہو تو یقیناً  وہ ذہنی طور پر مضبوط نہیں ہے.

  • اقدار کے پاسدار:

یہ مشکل حالات میں بھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے،حالات اور وقت کا رونا نہیں روتے اور نہ ہی ناکامی پر ذمہ داری کا بوجھ دوسروں کے کندھوں پر ڈالتے ہیں.یہ ہر موقع سے سیکھتے ہیں اور کام کے لئے نت نئے رجحانات کو اپنانا ان کا خاصہ ہے.ان کی زندگی میں کچھ خاص اقدار ہوتی ہیں یہ انہی کو اہمیت دیتے ہیں اور مشکل وقت میں بہترین فیصلے کرنے اور ان پر ڈٹ جانا ذہنی طور پر مضبوط لوگوں کی اہم خصوصیت ہے.

ممکن ہے آپ  میں یہ چند خصوصیات موجود ہوں اور اگر نہ بھی ہوں تب بھی آپ ان کو اپنا سکتےہیں،ماہرین کہتے ہیں کہ کسی کام میں  انسان اگر 10 ہزار گھنٹے گزار دے تو وہ اس کا ماہر بن جاتا ہے،آپ بھی ذرا سی کوشش کے بعد ذہنی طور پر مضبوط ہوسکتے ہیں. ذہنی مضبوطی انسانی شخصیت کوپراثر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے.کیونکہ پر سکون زندگی کے لیے ذہنی مضبوطی انتہائی ضروری ہے.