کراچی و دیگر بڑے شہروں میں خود مختار نظام لائیں گے ، وزیر اعظم

27

 

اسلام آباد(نمائندہ جسارت) وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں خودمختار بلدیاتی نظام لا رہے ہیں ، اب شہری حکومت بھی صوبے کی طرح کام کرے گی۔اسلام آباد میں پاکستان سٹیزن پورٹل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس پورٹل میں سب سے بڑا مسئلہ یہ سامنے آیا ہے کہ ہمارے ملک میں بلدیاتی نظام ٹھیک نہیں چل رہے، ہم نئی طرح کا بلدیاتی نظام لارہے ہیں جس میں فنڈز نچلی سطح تک جائیں گے اور لوگوں کے مسائل شہری حکومت حل کرے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ انگریزوں سے آزادی کے بعد حکومت کرنے والوں کی ذہنیت تبدیل نہیں ہوئی، غلاموں کے وہ حقوق نہیں ہوتے جو آزاد شہری کے ہوتے ہیں، پاکستان میں نئی سوچ اور نیا رجحان آرہا ہے،30 لاکھ لوگوں نے سٹیزن پورٹل کا استعمال کیا، اوورسیز پاکستانی جو ہمارا اثاثہ ہیں، انہوں نے اس پورٹل کا بھرپور استعمال کیا۔ عمران خان نے بتایا کہ سندھ اور پنجاب میں ضلع کی سطح پر کرپشن سے لوگ بہت تنگ ہیں، کوئی اے سی، ڈی سی یا تھانے دار تنگ کرے
تو لوگ سٹیزن پورٹل پرشکایت کریں، جوغلط کام کرے گا اس کا تبادلہ نہیں کریں گے، نوکری سے فارغ کیا جائے گا، ہم سٹیزن پورٹل کومزیدبہتراور مضبوط کریں گے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم نے ریڈیو اسکول اور ای تعلیم پورٹل کا افتتاح کیا ۔ریڈیو اسکول کا منصوبہ وزارت اطلاعات اور وزارت تعلیم کے اشتراک سے شروع کیا گیا ہے۔ اس سے ملک کے دور دراز علاقوں میں بھی کورونا وبا کی وجہ سے معطل ہونے والے تعلیمی سلسلے کو بحال رکھا جا سکے گا۔عمران خان نے کہا کہ ایک نصاب ایک قوم بنائے گا ،مدارس کو قومی دھارے میں لانا ایک اہم خدمت ہے۔قبل ازیں وزیراعظم سے وزیرِ مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے جمعہ کو ملاقات کی جس میں وزیر اعظم نے وزارتِ مذہبی امور کو کورونا وائرس کی وبا کے حوالے سے علماء کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے واضح کیا کہ مساجد کو کسی صورت بند نہیں کیا جائے گا تاہم کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کی تاکید ضروری ہے۔علاوہ ازیں وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کے خصوصی اجلاس میں کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے 10 نکاتی ایجنڈہ پیش کردیا۔ انہوںنے کہا کہ وبا کے خاتمے تک کم آمدن اور غریب ممالک کے قرض معطل کیے جائیں، پسماندہ ملکوں کے قرضے معاف کیے جائیں اور ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ کی جائے۔ ان کاکہنا تھاکہ 500 ارب ڈالر کا خصوصی فنڈ مختص کیا جائے، کم ترقی پذیر ملکوں کے لیے رعایتی قرضوں کی سہولت دی جائے اور کم شرح پر قلیل مدتی قرضے فراہم کیے جائیں جب کہ ترقی میں معاونت سے متعلق وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنایاجائے۔ عمران خان کے بقول انفرا اسٹرکچر کے شعبے میں سالانہ 15 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے۔ انہوںنے ترقی پذیر ملکوں میں موسمیاتی تبدیلی کے لیے سالانہ 100 ارب ڈالر کا ہدف یقینی بنانے اورترقی پذیر ملکوں سے رقم کا غیر قانونی انخلا روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنیکی تجویز بھی دی۔ وزیراعظم نے کہاکہ بدعنوان سیاست دانوں اور جرائم پیشہ افراد کی لوٹ ہوئی دولت واپس کی جائے۔مزید برآںوزیر اعظم کی زیرصدارت میں موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی کے نفاذ کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ موبائل فون کے حوالے سے پاکستان ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے ، ملک میں سالانہ تقریبا 4 کروڑ موبائل فون خریدے جاتے ہیں،ڈی آئی آر بی ایس سسٹم کے اطلاق کے بعد ملک سے موبائل فون اسمگلنگ کا خاتمہ ہوگیا ہے ،جس کی وجہ سے ریونیو 22 ارب سے بڑھ کر 54 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارا مقصد ملک میں صنعتی پیداوار کو بڑھا نا ہے، صنعت کاری کے شعبے میں ترقی سے ملکی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور لوگوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر ہوں گے۔