مہنگائی کیخلاف تحریک کا دوسرا مر حلہ 25 دسمبر سے شروع کرینگے ، سراج الحق

267
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق منصورہ میں مرکزی یوتھ بورڈ سے خطاب کررہے ہیں

 

لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی زیر صدارت منصورہ میں مرکزی ذمے داران کا اجلاس ہوا، اجلاس نے مہنگائی، بے روزگاری اور سودی معیشت کے خلاف جاری تحریک کے دوسرے مرحلے کا آغاز 25دسمبر کو گوجرانوالہ میں بھرپور عوامی جلسے سے کرنے کا فیصلہ کیا۔ سینیٹر سراج الحق نے منصورہ میں جے آئی یوتھ بورڈ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ الیکشن میں یوتھ کے ذریعے
پولنگ بوتھ پر سرپرائز دیں گے۔ جمہوریت کے نام پر جدوجہد کرنے والی نام نہاد سیاسی پارٹیاں سماج اور جمہور کا مذاق اڑا رہی ہیں۔73سال میں ظالم اشرافیہ نے ملک میں اسلامی نظام کونافذ نہیں ہونے دیا۔ مہنگائی ناقابل برداشت، بے روزگاری نے ملک میں ڈیرے ڈال لیے ہیں۔پی ٹی آئی نے نوجوانوں کو دھوکا دیا اور بندگلی میں دھکیل دیا۔جماعت اسلامی بلدیاتی الیکشن میں بڑی تعداد میں نوجوانوں کو ٹکٹ دے گی۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی کے علاوہ ملک میں جمہوریت کے نام پر سیاست کرنے والی اکثر پارٹیاں خود جمہوریت کے تصور سے ناآشنا ہیں۔ ایک کرپٹ اشرافیہ ملک پر گزشتہ 73 سال سے مسلط ہے۔ انہوں نے آج تک ملک میں اسلامی نظام نافذ نہیں ہونے دیا، جس کے لیے کروڑوں مسلمانوں نے جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ اگر ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت کا تسلسل ہی رکھنا تھا تو پھر ملک کو آزاد کرانے کا کیا فائدہ ہوا۔ مغربی استعمار کے ایجنٹوں نے عوام کو غربت و بے روزگاری کے تحفے دیے اور ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیل دیا۔ 7.7 ٹریلین روپے کے بجٹ میں سے 3ٹریلین روپے قرض کی قسطوں اور سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے اور صرف 650؍ارب روپے ترقیاتی کاموں پر خرچ کیے جاتے ہیں، جس میں سے آدھی رقم کرپشن کی نظر ہو جاتی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ تمام مسائل کو حل کر دے گی۔ انہوں نے نوجوانوں کو تبدیلی کے نام پر دھوکا دیا اور صرف ڈھائی سال میں ہی ان کو ذہنی مریض بنا دیا۔ ہر علاج کا دعویٰ کرنے والے اتائیوں نے ملک کو مفلوج کر دیا۔ لاکھوں کو نوکریاں دینے کا وعدہ کرنے والوں نے 35لاکھ سے زاید لوگوں کو بے روزگار کر دیا۔ مہنگائی نے غریب کی کمر توڑ دی، ادارے تباہ ہو گئے اور سب سے بڑا ظلم یہ ہوا کہ ملک کا نوجوان مایوسی اور ڈپریشن کا شکارہو گیا۔ ان حالات میں جماعت اسلامی نے عوام کی آواز کو بھرپور طریقے سے اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اور ایک بھرپور عوامی مہم شروع کی ہے۔ مہنگائی، غربت، بے روزگاری اور سودی معیشت کے خلاف جاری مہم کے دوسرے مرحلے کا آغاز گوجرانوالہ سے ہو گا۔سینیٹر سراج الحق نے جے آئی یوتھ کو ہدایت کی کہ وہ گلی گلی، محلے محلے جماعت اسلامی کے پیغام کو پہنچائیں اور ملک کے کروڑوں نوجوانوں کی آواز بنیں۔ انہوں نے جے آئی یوتھ کو یقین دلایا کہ بلدیاتی الیکشن میں جماعت اسلامی نوجوانوں کو بڑی تعداد میں ٹکٹ دے گی کیوںکہ اس ملک کا نوجوان ہی قوم کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک سے موروثی سیاست کا خاتمہ کرے گی۔ سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم، صدر جے آئی یوتھ زبیر احمد گوندل، سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی قیصر شریف بھی اس موقع پر موجود تھے۔قبل ازیں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک میں غریب اور امیر کے لیے 2 الگ نظام ہیں۔ غریبوں کو نہ تو انصاف دستیاب ہے اور نہ ہی ان کو تعلیم و صحت کی سہولیات دستیاب ہیں۔ شہزادے اور شہزادیوں کی سیاست نے غریب کو نان شبینہ کا محتاج بنا دیا ہے۔ اسلام اس باطل زدہ نظام کے خلاف جدوجہد کرنے کا درس دیتا ہے۔ سودی معیشت کے خلاف جنگ کرنا ہو گی۔ ملک میں اسلامی نظام کے لیے کھڑا ہونا ہو گا۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار رہیں۔ دریں اثنا امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی زیر صدارت منصورہ میں مرکزی ذمے داران کا اجلاس ہوا، اجلاس نے مہنگائی، بے روزگاری اور سودی معیشت کے خلاف جاری تحریک کے دوسرے مرحلے کا آغاز 25دسمبر کو گوجرانوالہ میں بھرپور عوامی جلسے سے کرنے کا فیصلہ کیا۔سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف کے مطابق جماعت اسلامی نے کورونا وبا کے پیش نظر 2 ہفتے کے لیے مہنگائی کے خلاف تحریک کو معطل کیا تھا۔ مرکزی ذمے داران کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس مہم کے دوسرے مرحلے کا آغاز گوجرانوالہ سے 25دسمبر کو ہو گا جبکہ 27دسمبر کو کرک اور 31جنوری کو سرگودھا میں جلسے ہوں گے۔ قیصر شریف نے کہا کہ تحریک کے اگلے مرحلے میں سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کا رخ کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ جماعت اسلامی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف اپنی جدوجہد بھرپور طریقے سے جاری رکھے گی۔