امام دارالہجرۃ… امام مالکؒ

135

مالک نام، کنیت ابو عبداللہ، امام دارالہجرۃ لقب اور باپ کا نام انس تھا۔
بلاشک آپؒ دارِ ہجرت (مدینہ منورہ) کے امام، شیخ الاسلام اور کبار ائمہ میں سے ہیں۔ آپ حجاز مقدس میں حدیث اور فقہ کے امام مانے جاتے تھے۔ امام شافعیؒ نے ان سے علم حاصل کیا اور امام ابوحنیفہؒ بھی آپ کی مجالس علمی میں شریک ہوتے رہے۔
آپ 93ھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کی تاریخ پیدائش میں مؤرخین نے اختلاف کیا ہے لیکن امام ابو زہرہ کی تحقیق کے مطابق زیادہ صحیح تاریخ پیدائش 93ھ ہے۔ آپؒ کا مقام پیدائش مدینۃ النبی ہی ہے۔
آپؒ 179ھ میں مدینہ منورہ میں ہی فوت ہوئے، چھیاسی سال کی عمر پائی۔ 117ھ میں مسند درس پر قدم رکھا اور باسٹھ برس تک علم و دین کی خدمت انجام دی۔ امامؒ کا جسدِ مبارک جنتُ البقیع میں مدفون ہے۔
آپؒ امامْ المحدثین بھی ہیں اور رئیس الفقہاء بھی۔ امام شافعیؒ فرمایا کرتے تھے: ’’جب کوئی حدیث امام مالکؒ کی روایت سے پہنچے، اسے مضبوطی سے پکڑو کیونکہ وہ علم حدیث کے درخشاں ستارے ہیں‘‘۔ (شرح الزرقانی)
عبدالرحمٰن بن مہدیؒ کا قول ہے: ’’روئے زمین پر امام مالک سے بڑھ کر حدیثِ نبویؐ کا کوئی امانت دار نہیں‘‘۔ (شرح الزرقانی)
امام نسائیؒ نے فرمایا: ’’میرے نزدیک تابعین کے بعد امام مالک سے زیادہ دانشور اور حدیث کے معاملے میں زیادہ ثقہ اور امانتدار کوئی نہیں ہے‘‘۔ (تنویر الحوالک)
امام جلال الدین سیوطیؒ فرماتے تھے: ’’امت کا آپ کی امانت، للہیت اور فقاہت پر اجماع ہے اور امام مالک اللہ کے دین میں حجت ہیں‘‘۔ (تنویر الحوالک)
امام مالکؒ آپؐ کا بے حد ادب کرتے تھے۔ جب نامِ مبارک زبان پر آتا، چہرہ کا رنگ متغیر ہو جاتا (تہذیب الاسماء) ابو نعیمؒ نے حلیۃ الاولاولیاء میں خود امام مالک سے روایت کی ہے کہ ہارون الرشید نے چاہا کہ موطا کو خانہ کعبہ میں آویزاں کیا جائے اور تمام مسلمانوں کو فقہی احکام میں اس کی پیروی پر مجبور کیا جائے۔ لیکن امامؒ نے جواب دیا: ’’ایسا نہ کریں!… خود صحابہؓ فروع میں اختلاف کرتے تھے اور وہ ممالک میں پھیل چکے ہیں۔ (اعلام المحدثین) اور ان میں سے ہر شخص حق پر ہے (یا درست راہ پر ہے) تو ہارون رشید نے کہا کہ: اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق عطا فرمائے، اے ابو عبداللہ!‘‘۔
امام مالکؒ کی بے تعصبی و بے نفسی، بلکہ عالی ظرفی اور رواداری سے ہمیں بھی سبق سیکھنا چاہیے۔
امام مالک ان اربابِ صدق و صفا میں سے تھے جنہیں کوئی طاقت حق گوئی سے نہیں روک سکتی تھی۔ منصور عباسی کے زمانے میں امام مالکؒ نے فتویٰ دیا کہ جبری طلاق (طلاقِ مکرہ) واقع نہیں ہوتی۔ گورنرِ مدینہ کو اندیشہ دامن گیر ہوا کہ اس فتویٰ کی زد، ابو جعفر منصور کی بیعت پر پڑے گی، جس نے جبرا اپنی رعیت سے بیعت لی تھی۔ اس نے امام ممدوح کو دارْالامارات میں طلب کیا اور آپ کی رفعت شان کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ستر کوڑے لگوائے، مشکیں اس زور سے کس دی گئیں کہ ہاتھ بازو سے جدا ہو گیا، لیکن اس تکلیف و کرب کے عالم میں آپ اونٹ کی پیٹھ پر کھڑے ہوگئے (جس پر آپ کو تذلیل و تشہیر کے لیے سوار کرایا گیا تھا) اور بلند آواز سے پکارتے بھی جاتے تھے کہ
’’جو مجھ کو جانتا ہے، وہ جانتا ہے، جو نہیں جانتا وہ جان لے کہ مالک بن انس ہوں، فتویٰ دیتا ہوں کہ طلاقِ جبری (مکرہ) درست نہیں‘‘۔
اس واقعے سے ان کی عزت و عظمت گھٹنے کی بجائے بڑھ گئی۔ تازیانوں کی ضربات سے شان کا رعب، داب اور جلال و جمال دو چند ہوگیا۔ امام ممدوح نے بعد میں گورنر کے معافی طلب کرنے پر فراخ دلی سے کام لیتے ہوئے معاف کر دیا۔ (الانتقاء)