اصلاح معاشرہ اور اخلاق حسنہ

110

نبی کریمؐ نے جب سن 7ھ میں بادشاہوں کی طرف دعوتی خطوط روانہ کیے، تو قیصر روم کے بادشاہ ہرقل کی طرف بھی خط بھیجا، جس میں انہیں قبول اسلام کی دعوت دی گئی تھی۔ خط میں لکھا گیا تھا کہ اگر آپ اپنی رعایا سمیت مسلمان ہوجاتے ہیں، تو ہم آپ کی موجودہ حیثیت برقرار کھیں گے۔ بادشاہ سمجھدار تھا۔ خط ملنے پر عجلت کا مظاہرہ کرنے کے بجائے انہوں نے رسول اللہؐ کی سیرت، اخلاق اور دعوت کے متعلق جاننے کی کوشش کی۔ اس غرض سے ابو سفیانؓ کو بلا لیا گیا، جو اس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے اور ملک شام میں اہل مکہ کے تجارتی قافلے کے ہمراہ موجود تھے۔ ہرقل نے ابو سفیان سے کچھ سوالات کیے۔ امام بخاری ؒ اور دیگر محدثین نے کتب حدیث میں یا سیرت نگاروں نے کتب سیر میں ان سوالات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ان میں سے بعض سوالات آپؐ کے اخلاق و کردار کے متعلق تھے۔ سوالات کے جوابات ملنے پر ہرقل نے کہا کہ اگر وہ نبی بالکل ایسا ہی ہے، جیسے آپ نے بتلایا ہے، تو وہ ایک دن میری اس سلطنت کا مالک بن جائے گا۔ یہ الفاظ اس زمانے کی بڑی سلطنت کے شہنشاہ یعنی قیصر روم کے تھے۔
امام بخاریؒ نے اپنی کتاب صحیح بخاری کے آغاز میں اللہ کے نبیؐ کی سیرت کا ایک اور واقعہ ذکر کیا ہے کہ آپؐ جب غار حرا میں تھے، تو جبرائیلؑ تشریف لائے اور سورۃ العلق کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ آپؐ گھبراہٹ کی کیفیت میں گھر آئے اور اپنی زوجہ محترمہ ام المٔومنین سیدہ خدیجہؓ، جو انتہائی زیرک اور فہم وفراست والی خاتون تھیں، سے کہا کہ مجھے چادر اوڑھادو۔ آپؐ پر کپکپی طاری تھی۔ کچھ دیر گزرنے پر آپؐ نے کہا کہ خدیجہ! مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ سیدہ خدیجہ نے پوچھا کہ سرتاج بتائیں مسئلہ کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ کسی عجیب الخلقت مخلوق نے مجھے غارِ حرا میں زور سے دبایا اور میں پریشان ہوگیا ہوں۔ مجھے کچھ خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ اماں خدیجہؓ نے تسلی دی اور کہا کہ اللہ کی قسم اللہ کبھی بھی آپ کو ضائع نہیں کرے گا، آپ کو بے یارو مددگار نہیں چھوڑے گا، کیونکہ آپ بے شمار خوبیوں کے مالک ہیں۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، رشتے جوڑتے ہیں، سچائی پر قائم ہیں، مہمان نواز ہیں، غریبوں اور مسکینوں کی خبر گیری کرتے ہیں، معذوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور مشکل وقت میں لوگوں کا سہارا بنتے ہیں۔ آپؐ کی یہ خوبیاں سیدہ خدیجۃ الکبری ام المئومنین ؓ نے اس وقت گنوائی تھیں، جب خدیجہ ؓ کو خود آپ کے پیغمبر مبعوث ہونے کا علم نہیں تھا۔ بعدازاں خدیجہؓ آپ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ وہ ایک دانا بزرگ آدمی تھے، مکہ کے رہنے والے تھے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ورقہ بن نوفل شرک و خرافات سے بیزار ہو کر عیسائی ہوگئے تھے۔ انجیل کا علم رکھتے تھے۔ سیدہ خدیجہ نے ورقہ بن نوفل سے کہا کہ چچا جان! اپنے بھتیجے کی بات سنیے، انہوں نے کچھ دیکھا ہے۔ ورقہ بن نوفل نے رسول اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بھتیجے! آپ نے کیا دیکھا ہے بیان کیجیے۔ جب رسول اللہؐ نے سارا واقعہ سنایا تو ورقہ بن نوفل نے کہا کہ بھتیجے! یہ کوئی اور ذات نہیں بلکہ وہ مقدس ہستی ہے جو خالق کائنات کا پیغام لے کر اللہ کے پیغمبروں کے پاس آیا کرتی ہے۔ مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس آخری نبی نے آنا تھا، وہ امام الانبیاء آپ ہو۔ ورقہ بن نوفل نے اس موقع پر اس خواہش کا اظہارکیا کہ کاش میں اس وقت موجود رہوں، جب آپ کی قوم آپ کو نکال باہر کرے گی تو میں آپ کی مدد کرسکوں۔ آپؐ نے فرمایا کہ کیا میری قوم مجھے مکہ سے نکال دے گی؟ یہ دن رات میری تعریفیں کرتے ہیں، مجھے صادق الامین کہتے ہیں۔ ورقہ بن نوفل نے کہا: ہاں! جو نبی بھی آپ جیسی دعوت لے کے آئے ہیں، ان کی قوم نے ان کو ہجرت پر مجبور کیا۔ شرک و بدعات میں غرق قومیں توحید کی دعوت کو اپنی لیے اجنبی سمجھتی ہیں۔ آخر وہی ہوا ایک دن آیا کہ اللہ کے نبیؐ مکہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ بہرحال یہ وہ کردار تھا، وہ خوبیاں تھیں جو خدیجہؓ نے اس موقع پر رسول اللہؐ کے متعلق گنوائی تھیں۔
صحیح بخاری کی حدیث ہے کہ اللہ کے نبیؐ نے فرمایا کہ جب میں حوضِ کوثر پر ہوں گا، تو میری امت آئے گی، میں اپنی امت کو وضو کے اعضا سے پہچانوں گا۔ کل قیامت کے دن ہمارے جسم کے وہ اعضا چمک رہے ہوں گے، جہاں وضو کا پانی لگا ہوگا۔ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ میں وہاں اپنی امت کا استقبال کروں گا، لیکن کچھ لوگوں کو فرشتے روک لیں گے۔ یہ میری امت کے وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے میرے بعد دین میں نئی نئی باتیں ایجاد کی ہوں گی۔ آج ہم سمجھتے ہیں کہ روز قیامت اللہ کے رسولؐ ہماری سفارش کریں گے، لیکن ہم اپنی ادائوں پر توجہ نہیں دیتے کہ ہم اللہ کے رسولؐ کی سیرت و کردار پر کس قدر عمل پیرا ہیں۔ آج معاشرہ اخلاقی تنزلی کا شکار ہے۔ اگر ہم اخلاق حسنہ کو اپنانا چاہتے ہیں تو رسول اللہؐ کی زندگی اور ان کی سیرت و کردار کو اپنانا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہماری لغزشیں معاف فرمائے اور ہمیں اللہ کے رسول کی حیات طیبہ اور اخلاق حسنہ کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین