قرآن سے استفادے کا درست طریقہ

136

قرآن مجید کا مطالعہ یہ سمجھ کر کرنا چاہیے کہ یہ پڑھنے والے سے براہ راست خطاب ہے اور انسان کی دنیا و آخرت کی سعادت کی کنجی یہی کتاب ہے۔ انسان کی حالت خواہ کیسی ہی خراب کیوں نہ ہو، یہ کتاب اسے بدل سکتی ہے۔ قرآن پڑھنے والا اگر یہ شعور رکھتا ہے تو اسے قرآن مجید سے استفادے کا طریقہ بتانے کی بھی ضرورت نہیں۔ یہی احساس اس میں تبدیلی لانے کے لیے کافی ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ ہمارا قرآن خوانی کا طریقہ صدیوں سے ایسا چلا آ رہا ہے کہ ہم قرآن سے صحیح معنوں میں استفادے سے محروم ہیں، گویا صدیوں سے ہمارے مسلسل غلط طرزِ عمل نے ہمارے اور قرآن شریف کے نفع پہنچانے کے مابین ایک نفسیاتی رکاوٹ کھڑی کر دی ہے۔
اگر ہم قرآن شریف سے واقعی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں درج ذیل امور کا خیال رکھنا چاہیے:
1: قرآن مجید سے دلچسپی
قرآن مجید سے ہمارا تعلق اتنا مضبوط ہو، ہمیں اتنی دلچسپی ہو کہ یہ ہماری تمام تر توجہات کا مرکز بن جائے۔ ہماری اولین ترجیح یہی ہو۔ خواہ حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں، ہم روزانہ باقاعدگی سے اس کی تلاوت کریں۔ ہم کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں، اس کے لیے ہر حال میں وقت نکالیں۔ یاد رہے کہ مطالعہ قرآن کے نتیجے میں ہونے والی تبدیلی کی رفتار تیز نہیں ہوتی۔ یہ تبدیلی بتدریج آتی ہے۔ مطالعہ قرآن کا عمل تب ہی ثمر آور بنتا ہے جب اسے تسلسل و دوام کے ساتھ کیا جائے اور ہمارا ایک دن بھی قرآن کریم کی زیارت و ملاقات کے بغیر نہ گزرے۔ ہم جتنا قرآن کو وقت دیں گے، اتنا ہی وہ ہمیں نفع دے گا۔ جو خوش نصیب دن میں کئی بار قرآن شریف کا مطالعہ کرتا ہے وہ کامیاب و کامران ہوتا ہے۔ قرآن کے لفظ و معنی دونوں ہی سے استفادہ کرنا چاہیے۔
2: مناسب جگہ
قرآن شریف کے ذریعے تبدیلی لانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کے مطالعے کے لیے موزوں و مناسب جگہ منتخب کریں۔ ہم ایک معزز مہمان کا استقبال اپنے گھر میں جس طرح کرتے ہیں، اس سے کہیں بڑھ کر قرآن کا خیر مقدم کریں۔ شور و شغب سے خالی پْر سکون جگہ میں قرآن کریم سے ملاقات کریں۔ اس سے حسنِ فہم میں مدد ملتی ہے۔ گوشہ تنہائی میسر ہو تو از بس غنیمت ہے۔ ہم وہاں بیٹھ کر دورانِ مطالعہ اپنے احساسات کا بخوبی اظہار کر سکتے ہیں۔ تنہائی میں رونے، آنسو بہانے، دعا کرنے اور سبحان اللہ کہنے میں خاص لطف آتا ہے۔ قاری متعلقہ آیات کے مطابق اپنی باطنی کیفیت کے اظہار کا موقع پاتا ہے۔
3: موزوں وقت
مناسب جگہ کے ساتھ ساتھ موزوں وقت کا ہونا بھی ضروری ہے۔ انسان اس وقت قرآن شریف پڑھے جب ہو چست، چاک و چوبند اور جسمانی و ذہنی لحاظ سے مستعد و آمادہ ہو۔ اگر انسان تھکا ماندہ ہو، نیند آ رہی ہو، بخار یا درد ہو تو ایسی حالت میں مطالعہ قرآن نہ کرنا چاہیے۔ وضو کرنے کے بعد، جس میں مسواک بطورِ خاص ہو، قرآن شریف پڑھا جائے تو زیادہ نفع ہو گا۔
4: ٹھہر ٹھہر کا پڑھنا
ہم رک رک کر، ٹھہر ٹھہر کر قرآن مجید پڑھیں، الفاظ کی ادائیگی درست ہو۔ حروف و الفاظ مکمل اور درست ادا کریں۔ اس طرح تیز تیز پڑھنا کہ حروف ٹوٹ جائیں، الفاظ ادھورے رہ جائیں، حسنِ ترتیل کے خلاف ہے اور محض ایک بے فائدہ عمل ہے۔ ہمیں ’’قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو‘‘ (القرآن) کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔
ہمارا مقصد قرآن ختم کرنا یا سورہ مکمل کرنا نہ ہو۔ ختم قرآن کے لیے ہم تلاوت کی رفتار بڑھا دیتے ہیں۔ خاص طور پر رمضان شریف میں کئی کئی ختم کرنے کا ہمارا شوق ہمیں تیز رفتاری پر آمادہ کر دیتا ہے۔ ہم اب تک نہ جانے کتنے ختم کر چکے ہیں۔ رمضان شریف میں ایک ایک مسلمان نے کئی کئی ختم قرآن کر ڈالے۔ مگر اس کا فائدہ کیا ہوا؟ اس سے ہمارے اندر کیا تبدیلی آئی؟ اپنے بہن بھائیوں اور دوست احباب کے ساتھ ہمارا مقابلہ مقدارِ تلاوت میں نہ ہو بلکہ اس بات پر ہو کہ ہم نے آیاتِ قرآنی سے کتنی باتیں سمجھی ہیں؟ کتنے نکات ہمارے ذہنوں میں آئے ہیں؟ ہمارے ایمان و یقین میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟
5: توجہ سے مطالعہ کرنا
قرآن کریم کا مطالعہ ہم کم از کم دینا کی کسی کتاب کی طرح تو کریں۔ ہم جب کسی کتاب، رسالے یا اخبار کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم جو کچھ پڑھتے ہیں، اسے سمجھتے جاتے ہیں۔ جو بات سمجھ نہیں آتی، اسے دوبارہ پڑھتے ہیں تاکہ سمجھ میں آئے۔ قرآن مجید کو بھی ہم کم از کم اسی طرح پڑھیں۔ ذہنی طور پر حاضر ہوں۔ اگر کسی وجہ سے ذہن پراگندہ ہو یا بھٹکنے لگے تو آیات کو دوبارہ پڑھیں۔ ہمیں پہلے پہل اس طرح مطالعہ کرنے میں دقت محسوس ہوگی کیوں کہ ہم الفاظ کو معانی سے الگ کر کے پڑھنے کے عادی ہیں لیکن مسلسل مشق سے ہماری یہ پرانی عادت جاتی رہے گی۔
6: سرِ تسلیم خم
قرآن مجید کے مخاطب تمام انسان ہیں۔ یہ ان سے براہ راست خطاب کرتا ہے۔ اس خطاب میں سوال و جواب ہیں، وعدے وعید ہیں، اوامر و نواہی ہیں۔ لہٰذا پڑھتے وقت ہمارا فرض ہے کہ ہم قرآن کے سوالوں کے سوالوں کے جوابات دیں۔ اس کے احکام کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے، سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر اور استغفر اللہ کے کلمات حسبِ موقع و محل ادا کریں۔ سجدے کی آیات پر سجدہ کریں۔ دعا کے بعد آمین کہیں۔ جہنم کا بیان پڑھیں تو آگ سے پناہ مانگیں، جنت کا تذکرہ پڑھیں تو پروردگار سے جنت کا سوال کریں۔ آپؐ اور صحابہ کرامؓ کا یہی طریقہ تھا۔ اس طرح کا طرزِ عمل اختیار کرنے سے ہم پراگندہ ذہنی اور عدم توجہ سے محفوظ رہیں گے۔
7: ہدف… معانی
بعض پر جوش مسلمان جب تدبر قرآن کا آغاز کرتے ہیں تو ایک ایک لفظ پر غور و فکر کرتے ہیں مگر چند دنوں تک اسے نبھا پاتے ہیں۔ اکتا کر پھر اسی پرانی ڈگر پہ چل پڑتے ہیں اور فہم و تدبر کے بغیر ہی پڑھنے لکھنے لگتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ کون سا طریقہ ہے کہ تدبر و تفکر بھی ہو اور غیر معمولی تاخیر بھی نہ ہو۔ آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم آیت کا اجمالی مطلب سمجھتے جائیں۔ جن الفاظ کے معانی، عربی جاننے کے باوجود نہیں جانتے، سیاق و سباق سے ان کے معنی سمجھیں، جیسے ہم انگریزی میں کوئی مضمون یا خبر پڑھتے ہیں تو ہمیں ہر لفظ کا تفصیلی مفہوم معلوم نہیں ہوتا مگر ہم کلام کے اسلوب و انداز اور سیاقِ کلام سے اس عبارت کا اجمالی مطلب سمجھ لیتے ہیں۔ رسول اکرمؐ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’قرآن یوں نہیں اترا کہ اس کا بعض حصہ دوسرے حصے کی تکذیب کرتا ہو، بلکہ اس کا ہر حصہ دوسرے حصوں کی تصدیق کرتا ہے۔ تم لوگ قرآن میں سے جو سمجھ جاؤ اس پر عمل کرو اور جس کا مطلب نہ سمجھ پاؤ اسے قرآن جاننے والے کی طرف لوٹاؤ (یعنی اس سے سمجھ لو)‘‘۔ (یہ حدیث حسن ہے۔ مسند امام احمد، سنن ابن ماجہ)۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم الفاظ کے معانی جاننے کی کوشش نہ کریں، یا کتب تفاسیر کی طرف سرے سے رجوع ہی نہ کریں۔ مطلب صرف یہ ہے کہ ہم تفسیر کے لیے الگ وقت رکھیں اور مطالعہ کتاب اللہ کے لیے الگ وقت مختص کریں۔ تلاوت سے ہمارا مقصد ’’دل کو زندہ‘‘ کرنا ہو۔ اس کے لیے ہمیں تفاسیر کے بغیر قرآن مجید سے براہ راست ملاقات کرنا ہو گی۔
8: آیات کو بار بار پڑھنا
ہم نے قرآن شریف سے استفادے کے لیے اب تک جو معروضات کی ہیں، یہ سب عقل سے تعلق رکھتی ہیں جو علم و دانش کا مرکز ہے۔ اب جو ہم طریقہ بیان کر رہے ہیں یہ قلب کے لیے ہے۔ قلب ایمان کا محل ہے۔ دل انسان کے اندرونی جذبات و احساسات کا مرکز ہے۔ دل میں جتنا ایمان زیادہ ہوگا اتنے ہی اعمال صالح ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان جذبہ و احساس سے عبارت ہے۔ ہمارا اثر قبول کرنا، سرِ تسلیم خم کر دینا، متاثر ہونا، نماز، دعا اور تلاوت کلام اللہ میں ایمان کا بڑھنا سب کا تعلق دل سے ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: ’’اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے‘‘۔ (الانفال: 2)
قرآن مجید ایمان میں اضافہ کرنے کے اہم ذرائع میں سے ایک ہے۔ ابتدا میں قرآن کریم کی تاثیر کی مقدار کم ہوگی مگر جب بیان کردہ تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تو اس میں بتدریج اضافہ ہو جائے گا۔
صحابہ کرامؓ اور صحابیاتؓ بعض اوقات ایک ہی آیت کو بار بار پڑھتے رہتے تھے۔ عبادۃ بن حمزہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدہ اسماء ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ یہ آیت پڑھ رہی تھیں: ’’آخر کار اللہ نے ہم پر فضل فرمایا اور ہمیں جھلسا دینے والی ہوا کے عذاب سے بچا لیا‘‘۔ (الطور: 27)
میں ان کے پاس ٹھہرا رہا تو وہ اسی آیت ہی کو دہراتی رہیں اور دعا کرتی رہیں۔ اپنے مقصد سے فارغ ہو کر واپس آیا تو ابھی تک وہ اسی آیت کر دہرا رہی تھیں اور دعا کر رہی تھیں۔ (مختصر قیال اللیل لمحمد بن نصہٰ ص 149)
(ترجمہ: محمد ظہیر الدین بھٹی)