یمنی جنگ میں ہلاکتیں 2 لاکھ 33 ہزار ہوگئیں،اقوام متحدہ

128

نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) یمن کی خانہ جنگ میں 5 برسوں کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2 لاکھ 33ہزار ہوگئی ہے۔ یہ لاکھوں انسان اس جنگ یا اس کے اثرات کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ نیویارک میں قائم اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور کا کہنا ہے کہ 2015ء میں شروع ہونے والا یہ مسلح تنازع دنیا کا بدترین انسانی بحران بن چکا ہے ۔ یہ جنگ مزید کثیر الجہت ہو کر اب اتنی پھیل چکی ہے کہ اس تنازع کے واضح طور پر قابل شناخت دھڑوں اور گروہوںکی تعداد اب 47 ہو چکی ہے ، جس سے اس تنازع کے طویل، ہلاکت خیز اور پیچیدہ ہونے کا پتا چلتا ہے ۔ اقوام متحدہ کے اس دفتر کے مطابق اس جنگ کے نتیجے میں تقریباً ایک لاکھ 31 ہزار انسان صرف بھوک، بیماریوں، غربت اور جنگی اثرات کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔ رواں سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران کئی طرح کی جنگی کارروائیوں میں مزید تقریباً 1500 شہری مارے گئے ۔ اس کے علاوہ کورونا وائرس کی عالمی وبا، شدید بارش، پیٹرول کی قلت اور ٹڈی دل کے حملوں کی وجہ سے بھی یمن اور اس کی معیشت کو اتنا شدید نقصان پہنچا ہے کہ رواں سال اس ملک کے لیے غیر معمولی حد تک تباہ کن ثابت ہوا ہے ۔ عالمی ادارے یونیسف کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران یمن میں تعز اور الحدیدہ کے علاقوں میں جو جنگی حملے کیے گئے ہیں، ان میں کم از کم 11 بچے بھی مارے گئے، جب کہ شہریوں کی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔