بھارت ،کسانوں نے مذاکرات کو آخری موقع قرار دے دیا

88

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجا ج کرنے والے کسانوں اور حکومت کے مابین مسائل حل کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے، تاہم کسانوں نے حکومت کو تنبیہ کی کہ یہ اس کے لیے آخری موقع ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق مختلف ریاستوں کی جانب سے دارالحکومت کی جانب گزشتہ ہفتے سے شروع ہونے والے احتجاجی مارچ کے مظاہرین نے دہلی کا محاصرہ کر رکھا ہے جس کے بعد بدھ کے روز مودی سرکار کی جانب سے کسانوں کو مذاکرات کی دعوت دی تھی، جس میں حکومت کے 3 مرکزی وزیر اور کسانوں کی 40 تنظیموں کے رہنماؤں میں بات چیت جاری ہے۔ کسان رہنماؤں نے اپنے دو ٹوک موقف پر قائم رہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پارلیمان کا خصوصی اجلاس طلب کرکے کسانوں کے حوالے سے منظور کیے گئے تینوں متنازع قوانین واپس لے، بصورت دیگر پورے دہلی کو بلاک کردیا جائے گا۔ واضح رہے کہ کسان بھارتی دارالحکومت کے پانچ اہم داخلی راستوں کی سرحدوں پر بیٹھے ہیں، جہاں کئی میل تک احتجاج میں شریک افراد کے ٹرک، جیپیں اور گاڑیاں کھڑی کرکے عارضی خیمے بنا لیے گئے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے 6 ماہ تک رکنے کی پوری تیار کرکے آئے ہیں۔ دریں اثنا کسانوں کے معاملے میں حکومت کے منفی رویے سے ناراض کھلاڑیوں اور اہم شخصیات نے حکومت کی جانب سے دیے گئے اعزازات واپس کرنا شروع کردیے ہیں۔ اس سلسلے کا آغاز سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرکاش سنگھ بادل نے ملک کا دوسرا اعلیٰ ترین شہری اعزاز پدم وبھوشن لوٹا کر کیا ہے۔ دریں اثنا بھارتی ٹرانسپورٹروں کی سب سے بڑی تنظیم ’’آل انڈیا موٹر ٹرانسپورٹ کانگریس‘‘ نے بھی مودی سرکار کے غیر منصفانہ زرعی بل کے خلاف کسانوں کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مظاہرین کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو 8 دسمبر سے پورے ملک میں پہیہ جام ہڑتال شروع کردی جائے گی۔ واضح رہے کہ کسانوں کی حمایت میں بھارت کی مرکزی حکومت کی اتحادی جماعتوں کے علاوہ خود بی جے پی کے رہنما بھی مودی سرکار کے متنازع زرعی قانون کے خلاف بولنا شروع ہوگئے ہیں۔