ایف آئی اے کو کرپشن تحقیقات سے روکا جائے، این آئی سی وی ڈی کا عدالت سے رجوع

201

سندھ ہائیکورٹ نے قومی ادارہ امراض قلب(این آئی سی وی ڈی) میں مبینہ کرپشن  کی تحقیقات کے معاملے پر ایف آئی اے، اٹارنی جنرل آف پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل آف سندھ کو نوٹس جاری کردیا۔

نیب کے بعدایف آئی اے نے بھی این آئی سی وی ڈی میں کرپشن کی تحقیقات شروع کردیں۔اسپتال انتظامیہ نے این آئی سی وی ڈی میں ایف آئی اے کی تحقیقات کیخلاف عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔

اسپتال میں کرپشن کی نشاندہی کرنے والے ڈاکٹرطارق شیخ نے بھی متفرق درخواست دائرکردی ہے۔ ڈاکٹر طارق شیخ نے موقف اپنایا کہ اسپتال میں بڑے پیمانے پرکرپشن ہورہی ہے جس کی تحقیقات ہونا ضروری ہے۔

اسپتال انتظامیہ کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے اسپتال میں ایف آئی اے کی انکوائری غیرقانونی ہے، کارروائی سے روکا جائے کیونکہ اسپتال صوبائی حکومت کی ملکیت اور وفاقی ادارہ اس کی تحقیقات نہیں کر سکتا۔

عدالت نے درخواست پر ایف آئی اے، اٹارنی جنرل آف پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل آف سندھ کو نوٹس جاری کردیا ۔

سندھ ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کے تفتیشی افسر سے انکوائری کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا اور کہا ہے کہ بتایا جائے کہ این آئی سی وی ڈی صوبے کی ملکیت ہے یا وفاق کی۔عدالت نے درخواستوں پر سماعت ملتوی کردی۔