جی ڈی پی میں زراعت کا حصہ 53 سے 19 فیصد رہ گیا

130

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایف پی سی سی آئی کے نیشنل بزنس گروپ کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کے اہم ترین شعبے زراعت کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔عوام کی فوڈ سیکورٹی اور روزگار زراعت سے جڑا ہوا ہے اس لیے اس سیکٹر کو بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔1947 میں زراعت جی ڈی پی کا 53 فیصد تھی جو اب 19 فیصد رہ گئی ہے۔سب سے بڑے صنعتی شعبے ٹیکسٹائل، شوگر، مشروبات،فرٹیلائیزر، کیمیکل، ٹریکٹر و زرعی آلات اور تمباکو کی صنعت کا دارومدار زراعت پر ہے جبکہ ملک میں 53فیصد آمدنی زرعی اشیاء کی تجارت کے سبب ہے اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کی 42 فیصد آمدنی زرعی اشیاء کی نقل و حمل کے سبب ہے۔میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی جی ڈی پی کا 39 فیصد، روزگار کا 39فیصد، برآمدات کا 34 فیصداور نجی سرمایہ کاری کا 30 فیصد زراعت سے بلواسطہ یا بلاواسطہ جڑا ہوا ہے جبکہ زراعت کی ایک فیصد ترقی سے جی ڈی پی 0.4 فیصد ترقی کرتا ہے مگر اس کے باوجود اسے برسہا برس سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔کئی دہائیوں سے متعدد حکومتوں نے بجلی کی پیداوار، میگا پراجیکٹس اور ہائی ویز پر زیادہ توجہ دی جبکہ اس شعبے کو اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔اس شعبہ کو ساٹھ، اسی اور نوے کی دہائیوں میں توجہ دی گئی جس سے اس شعبہ نے زبردست ترقی کی مگر اس کے بعد پالیسی سازوں نے اسے نظر انداز کرنا شروع کر دیا اور گزشتہ پانچ سالوں میں اس کی شرح نمو بہت کم ہو گئی جس کے بھیانک نتائج آج ساری قوم بھگت رہی ہے۔پانی کی کمی کی وجہ سے2013-14میں زیر کاشت رقبے میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، ٹیوب ویلز کی تعداد میں بھی 2014-15 سے کوئی اضافہ نہیں ہوا اور کھاد کے استعمال میں 2014-15 سے اب تک صرف 1.7 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ آبادی کی ضروریات بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔