کوروناسے متاثرہ ترقی پذیر ممالک کو ہنگامی مالی اعانت کی ضرروت ہے‘ منیر اکرم

183

اقوام متحدہ(اے پی پی)اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب و اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل(ای سی او ایس او سی)کے صدر منیر اکرم نے مطالبہ کیا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ ترقی پذیر ممالک کو اپنی معیشت کو تباہی سے بچانے کے لیے25کھرب ڈ الر کی ہنگامی مالی امداد کی ضرروت ہے اور اس مشکل وقت میں بین الاقومی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے بدھ کو معاشرتی ترقی کے لیے عالمی سربراہی اجلاس کی25 ویں سالگرہ پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور ای سی او ایس او سی کے مشترکہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں کہا کہ دنیانے اس وقت ترقی پزیز ممالک کی ہنگامی مالی امداد نہ کی تو متعدد ممالک کو کورونا وائرس کی وبا کے باعث بڑے پیمانے پر خراب ہوتی انسانی صورتحال کی وجہ سے قرضوں کی عدم ادائیگی اور معیشت کی تباہی کا سامنا ہو گا ۔ منیر اکرم نے کہا کہ متوازن طرز عمل بین الاقوامی اور قومی پالیسیوں میں رائج ہو رہا ہے اور گزشتہ25برس میں غربت میں کمی، اعلیٰ تعلیمی معیار، روزگار میں اضافہ، آمدنی میں اضافہ اور دنیا کے لاکھوں لوگوں کی عمروں میں اضافہ دیکھا گیا ہے لیکن کورونا وائرس کے باعث صحت اور اقتصادی بحران اور1930ء کی دہائی کی کساد بازاری کے بعد دنیا بھر میں نئی کساد بازاری کا سامنا ہے جس کے باعث2030ء تک پائیدار ترقی کے بین الاقوامی اہداف کے حصول میں مشکلات درپیش ہیں اور کورونا وائرس کی وبا کے باعث30کروڑ ملازمتیں ختم ہونے اور تقریباً10کروڑ افراد کے انتہائی غربت میں جانے سے عالمی معیشت کے حجم میں5فیصد تک کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔انہوںنے کہا کہ غریب ترین ممالک اور غریب اور کمزور لوگ معیشت کی تباہی سے ہمیشہ کی طرح سب سے زیادہ متاثر ہوں گے،ترقی پزیر ممالک کورونا وائرس سے بحالی کے لیے25کھرب ڈالر کی امداد کے لیے کوششیں کر رہے ہیں جبکہ امیر ممالک نے اپنی معیشتوں کو متحرک کرنے کے لیے 130کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس تناظر میں منیر اکرم نے مطالبہ کیا کہ کورونا وائرس کے خلاف ویکسین کی یکساں اور مساوی بنیادوں پر فراہمی یقینی بنائی جائے کیونکہ جب تک عالمی سطح پر کورونا وائرس پر قابو نہیں پایا جاتا اس وقت تک کوئی بھی ملک اس سے محفوظ نہیں ہے۔