اسرائیل کوتسلیم کرنے کے لیے کوئی دبائو قبول نہ کیا جائے( سینیٹ میںجماعت اسلامی کی قرارداد )

183

لاہور(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے اسرائیل کی طرف سے فلسطینی سرزمین پر قبضے، توسیع پسندانہ عزائم، نئی یہودی بستیوں کے مسلسل قیام، فلسطینی عوام کے ساتھ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ظلم و جبر کے خلاف اورفلسطینی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی پر مبنی تفصیلی قرارداد سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع کرا دی ہے ۔قرارداد میں حکومت کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت اس حوالے سے قائد اعظم محمد علی جناح کے اصولی مؤقف کی روشنی میں اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے مؤقف پر ڈٹ جائے اور اس سلسلے میں کسی قسم کے اندرونی و بیرونی دباؤ کو خاطر میں نہ لائے۔قرارداد میں اسرائیل کو تسلیم کرنے، اسرائیل کے بارے میں نرم گوشہ رکھنے اور اس حوالے سے الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا پر بعض عناصر کی طرف سے بیانات اور پروگرامات کرنے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔قرارداد میں اسرائیل کی طرف سے فلسطینی سرزمین پر قبضے، توسیع پسندانہ عزائم، نئی یہودی بستیوں کے مسلسل قیام، فلسطینی عوام کے ساتھ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ظلم و جبر کی شدید مذمت بھی کی گئی ہے اور فلسطینی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے ۔قرارداد میں سینیٹ کے ایوان کی طرف سے حکومت کی توجہ اسرائیل کے حوالے سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی طرف سے قیام پاکستان اور قیام پاکستان کے بعد اختیار کی گئی انتہائی جرأت مندانہ اور مضبوط پالیسی کی طرف بھی مبذول کرائی گئی ہے جس میں اسرائیلی سفارتکار نے اسرائیل پاکستان تعلقات قائم کرنے کے حوالے سے قائد اعظم محمد علی جنا ح کو ٹیلیگرام بھیجا تو قائد کا جواب تھا کہ’’ یہ امت کے قلب میں خنجر گھسایا گیا ہے ،یہ ایک ناجائز ریاست ہے جسے پاکستان کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔‘‘قرارداد میں سینیٹ کے ایوان کی طرف سے حکومت کی توجہ قیام پاکستان کے بعد بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے بی بی سی کے نمائندے کو دیے گئے اُس انٹرویو کی طرف بھی مبذول کرائی گئی ہے جس میں قائد اعظم نے اسرائیل سے متعلق اقوام متحدہ کے فیصلے پرشدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ برصغیر کے مسلمان تقسیم فلسطین سے متعلق اقوام متحدہ کے ظالمانہ، ناجائز اور غیر منصفانہ فیصلے کے خلاف شدید ترین لب و لہجے میں احتجاج کرتے ہیں، ہمارا حسن انصاف ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم فلسطینیوں کی ہر ممکن طریقے سے مدد کریں۔‘‘قرارداد میں سینیٹ کے ایوان کی طرف سے حکومت کی توجہ بانی پاکستان کے اس اندیشے کی طرف بھی مبذول کرائی گئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’اگر تقسیم فلسطین کا منصوبہ مسترد نہیں کیا گیا تو ایک خوفناک اور بے مثال چپقلش کا شروع ہوجانا ناگزیر اور لازمی امر ہے۔ ایسی صورتِ حال میں پاکستان کے پاس اور کوئی چارہ نہ ہوگا کہ اُن (فلسطینیوں) کی مکمل اور غیرمشروط حمایت کرے۔ ‘‘قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ سینیٹ کا یہ ایوان حکومت کی توجہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیا قت علی خان کو اسرائیل تسلیم کرنے کے عوض کی گئی پیش کش کی طرف بھی مبذول کراتا ہے کہ جس میں اُن کو ایک بڑی رقم بطور امداد پیش کرنے کالالچ دیا گیا تھا، جس کی مالیت اربوں میں تھی، اور شرط یہ تھی کہ ایک دفعہ وہ اپنی زبان سے اسرائیل کو تسلیم کر لیں۔ لیکن لیاقت علی خان نے اس وقت بہت سختی کے ساتھ یہ واضح کیا کہ ایسا ہونا کسی صورت بھی ممکن نہیں ہے اور کہا کہ پاکستان کبھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ سینیٹ کا یہ ایوان حکومت کی توجہ قیام پاکستان کے چند سال بعد اسرائیلیوں کے ان بیا نات کی طرف بھی مبذول کراتا ہے جس میں کہا گیا کہ’’ تمہیں عربوں سے کوئی خطرہ نہیں بلکہ اصل خطرہ پاکستان سے ہے۔‘‘