سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی انتقال کرگئے

172

سابق وزیراعظم میر ظفراللہ خان جمالی دل کے عارضے کے باعث انتقال کرگئے۔گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم کو طبیعت خراب ہونے پر راولپنڈی کے آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ( اے ایف آئی سی) میں داخل کیاگیا تھا جہاں انہیں طبیعت بگڑنے پر وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تھا۔سابق وزیراعظم کو رواں سال مئی میں بھی کورونا ہوا تھا، اس کے علاوہ وہ گردوں کی بیماری اور عارضہ قلب میں بھی مبتلا تھے۔ان کی نواسی سینیٹر ثناجمالی نے سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔ظفر اللہ جمالی کو ان کے آبائی علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں سپرد خاک کیا جائے گا۔سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی یکم جنوری 1944ء کو پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ضلع نصیرآبادکے علاقے روجھان کے سیاسی خانوادے سے تھا۔انہوں نے سیاسی کیریئرکا آغاز 1970ء میں پیپلز پارٹی سے کیا اور پہلی بار 1970 کے الیکشن میں حصہ لیا۔میرظفراللہ جمالی وزیراعلیٰ، نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان بھی رہے۔ وہ 2 بار سینیٹ کے رکن بھی رہے۔میر ظفراللہ خان جمالی ملک کے 15 ویں وزیراعظم رہے ہیں، وہ 23 نومبر 2002ء سے 26 جون 2004ء تک وزیراعظم رہے۔ 2013ء میں بھی رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئے، ن لیگ کو چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوگئے تھے۔ وہ ہاکی کے بہترین کھلاڑی تھے اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بھی رہے۔ صدر، وزیراعظم ،وفاقی وزرا ، جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر اسد اللہ بھٹو ، جماعت اسلامی سندھ کے امیر محمد حسین محنتی ، سیکرٹری سندھ کاشف سعید شیخ نے سابق وزیر اعظم پاکستان اور زیرک سیاستدان ظفراللہ جمالی کے انتقال پرگہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک بڑے محب وطن اور تجربہ کار سیاستدان سے محروم ہو گیا۔ پاکستانی سیاست کے لیے ان کی خدمات کو تادیر یاد رکھا جائے گا۔ اللہ تعالی ان کے درجات بلندکرے اور اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔