توہین رسالتؐ معاملہ: کابینہ فرانس سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے پر کوئی فیصلہ نہ کرسکی

191

اسلام آباد:وفاقی کابینہ نے کورونا وائرس کی ویکسین کی خریداری،پاکستان سٹیل ملز ملازمین کو گولڈن شیک ہینڈ دینے، مختلف اداروں کی نجکاری کی منظوری دیدی،کابینہ میںتوہین رسالتؐ کے معاملے پر فرانس سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا معاملہ زیر غور آیا لیکن اس پر کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔

وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملکی سیاسی، معاشی اور مجموعی صورت حال سمیت17نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔کابینہ نے کورونا کے علاج کے لیے درکار انجکشن کی قیمت میں کمی کی بھی منظوری دی۔وفاقی کابینہ نے نیشنل انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی مدت ملازمت میں توسیع اور نجی ایئرلائن ایئر سیال کے لائسنس کی بھی منظوری دے دی،وزیراعظم عمران خان 9دسمبر کو سیالکوٹ کا دورہ کرکے خود ائیر لائن کا باقاعدہ افتتاح کریں گے۔

کابینہ اجلاس میںا سٹیل ملز ملازمین کو گولڈن شیک ہینڈ دینے سمیت مختلف اداروں کی نجکاری کی منظوری دی گئی، ایم کیو ایم کی جانب سے ہائوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کی نجکاری کی مخالفت کی گئی،وفاقی وزیر امین الحق نے کہا کہ ہائوس بلڈنگ فنانس ایک منافع بخش ادارہ ہے جو حکومت کے منشور کے مطابق لوگوں کو سہولت فراہم کر رہا ہے، کابینہ کو نیا پاکستان ہائوسنگ اتھارٹی، راوی اربن ڈویلپمنٹ اور بنڈل آئی لینڈ پر بریفنگ دی گئی۔

کابینہ اجلاس میں سردی میں گھریلوصارفین کو گیس کی فراہمی کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا اور گیس لوڈ مینجمنٹ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ پہلے مرحلے میں سی این جی اسٹیشن کو سپلائی بند کی جائے گی۔ کابینہ ارکان نے زور دیا کہ گیس فراہمی میں ایکسپورٹ سیکٹر اور گھریلو صارفین ترجیح ہونے چاہئیں۔ وزیراعظم نے اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ آئندہ اجلاس میں طلب کی ہے۔

اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق توہین رسالتؐ کے معاملے پر فرانس سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا معاملہ زیر غور آیا لیکن اس پر کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔

وفاقی کابینہ نے نیشنل انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی مدت ملازمت میں توسیع کی منظوری بھی دی۔کابینہ کو نیا پاکستان ہائوسنگ اتھارٹی، راوی اربن ڈویلپمنٹ اور بنڈل آئی لینڈ پر بریفنگ بھی دی گئی۔ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں اپوزیشن اتحا د پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسوں پر بھی مشاورت ہوئی۔

اجلاس کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر سلطان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ پی ڈی ایم کا ملتان جلسہ ٹی وی اسکرین پر نظر آنے کا ایک مظاہرہ تھا کیونکہ نہ تو ان کی تقاریر میں بہتری کی باتیں تھیں اور نہ ہی کسی غریب کے لیے پروگرام یا ذکربھی نہیں تھا، جو زہر پاکستان مسلم لیگ (ن)کی قیادت میں تھا اس سے بالکل ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ذاتی مفاد، اپنے خاندان اور اقتدار ے دوران جمع کی گئی اپنی غیر قانونی دولت کے دفاع میں ناٹک تھا۔