پولیس مقابلے کو جعلی قرار دینے والے ایڈووکیٹ کو شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ

55

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پولیس نے ڈیفنس پولیس مقابلے کوجعلی قرار دینے والے ایڈووکیٹ کوشامل تفیش کرنے کا فیصلہ کرلیا،گروہ کے سرغنہ اور ایڈووکیٹ کا تعلق خانیوال سے ہے ‘دوسری طرف علی حسنین ایڈووکیٹ نے آرمی چیف اور چیف جسٹس آف پاکستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا،باخبر ذرائع کے مطابق پولیس نے اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کے لیے سرگرمیاں تیز کردی ہیں اس سلسلے میں ساؤتھ تفتیشی پولیس نے پنجاب پولیس سے ملزمان کا ڈیٹا مانگا ہے، جس کی مدد سے کیس میں مزید پیش رفت ہو سکے گی۔پولیس نے بنگلے کے مالک ایڈووکیٹ علی حسنین کے حوالے سے بھی تحقیقات شروع کر دیں، پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ڈاکو اور گینگ کے سربراہ غلام مصطفی کا تعلق ضلع خانیوال سے تھا، ایڈووکیٹ علی حسنین کا آبائی تعلق بھی خانیوال سے ہے۔پولیس کے مطابق ہلاک ڈاکو موبائل پر سب سے زیادہ ایڈووکیٹ کے ڈرائیور سے رابطے میں رہا، وکیل کے ڈرائیور عباس نے ڈاکو غلام مصطفی کو ڈبل کیبن گاڑی بھی دے رکھی تھی، 3 دن سے گاڑی ڈاکوؤں کے زیر استعمال تھی۔ ملزمان سے برآمد ہونیوالی گاڑی میاں مقصود احمد ساجد کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ پولیس نے تمام متاثرین کو بھی طلب کر لیا ہے، تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ متاثرین کی نشان دہی سے تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جائے گا، 2 ملزمان کی لاشوں کو ان کے اہل خانہ شناخت کر چکے ہیں۔واضح رہے کہ مبینہ مقابلے میں ہلاک 4 ملزمان کی لاشیں ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ دوسری طرف بنگلے کے مالک اور پی ٹی آئی رہنما لیلی پروین کے شوہر علی حسنین ایڈووکیٹ نے تھانہ گزری میں میڈیا نمائندگان کے سامنے مبینہ پولیس مقابلے کا چیف جسٹس آرمی چیف اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ پولیس نے تین بار اپنا موقف بدلا۔ ٹوٹل فیک پولیس مقابلہ ہے۔ ایس ایچ او اور ڈی آئی جی سے ہماری ملاقات ہوئی ہے انہیں کچھ نہیں پتا۔ اگر کسی کا کرمنل ریکارڈ ہے اسے عدالت میں پیش کرے نہ کہ ماورائے عدالت قتل کیا جائے۔ اس واقعہ کا نا ہی کوئی عینی شاہد ہے نا ہی میرے گھر پر کوئی خون کے نشان موجود ہے۔پی ٹی آئی کے رہنما لیلی پروین نے کہا کہ میں ناحق قتل کے لئے آواز اٹھا رہی ہوں۔