فوج کا دبائو نہیں ، فیصلے خود کرتا ہوں ، وزیر اعظم

171

اسلام آ باد ( مانیٹر نگ ڈ یسک +خبر ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فوج کا دبائو نہیں، فیصلے خود کرتاہوں، چینی اسکینڈل میں جہانگیر ترین ملوث ہوا تو سزا ملے گی، 5سال میں نوکریاں ایک کروڑ اور گھر50لاکھ سے بھی زیادہ ہو جائیں گے ۔ نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتےہوئے وزیراعظم عمران خان نے حکومت پر فوج کے دباؤ کی اطلاعات کو مسترد کردیااور کہا کہ انہیں فوج سے الجھنے کی ضرورت تو اس صورت میں پڑے گی جب وہ کوئی دباؤ ڈالے گی، اب تک ایسی ایک چیز بھی نہیں ہوئی ہے کہ انہیں فوج سے الجھنا پڑے بلکہ میں جو کہتا ہوں فوج وہ بات مانتی ہے۔وزیراعظم کاکہنا تھاکہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کو سدرن کمانڈ کے تجربے کی وجہ سے چیئرمین سی پیک اتھارٹی لگایا، بطور وزیراعظم یہ کہنا ان کا کام نہیں ہے کہ عاصم سلیم باجوہ کلین ہیں، جو کچھ ان کیخلاف کہا گیا وہ محض الزامات ہیں، اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو نیب میں چلا جائے، جہانگیر ترین کے معاملات سامنے آنے پر افسوس ہوا۔ وزیراعظم عمران خان کاکہنا ہے کہ جن سیاستدانوں پرکرپشن کے کیسز ہیں یہ سب ہماری حکومت سے پہلے کے ہیں، ہماری حکومت میں صرف شہباز شریف پرکیسز بنے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آصف زرداری اور نوازشریف نے ایک دوسرے پرکیسز بنائے ہیں، جب ہم حکومت میں آئے تو اسحاق ڈار اور نواز شریف کے بیٹے باہر بھاگ چکے تھے۔وزیراعظم کاکہنا تھاکہ آصف زرداری کو دوبار نواز شریف نے جیل میں ڈالا، نواز شریف اور آصف زرداری کی کرپشن پر ڈاکیومنٹریز بنی ہوئی ہیں، ہم نے اداروں کو آزادچھوڑا ہوا ہے ، قومی احتساب بیورو (نیب) پر بھی ہمارا کوئی کنٹرول نہیں۔ان کاکہنا تھاکہ آصف زرداری اور نواز شریف دونوں سلیکٹڈ حکمران تھے، مریم نواز کو نواز شریف کی بیٹی ہونے پر مسلم لیگ( ن) میں پوزیشن ملی جب کہ بلاول زرداری پرچی پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بنے ، میں نے صفر سے شروع کیا اور 22 برس جدوجہد کی۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم کاکہنا تھا کہ فوج کا مجھ پر کوئی دباؤ نہیں ہے، ساری خارجہ پالیسی تحریک انصاف کی ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کے برطانیہ جانے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی رپورٹس پڑھیں توسوچاکسی کو اتنی بیماریاں ہوسکتی ہیں؟ شہباز شریف نے لاہورہائی کورٹ میں نوازشریف کی گارنٹی دی تھی، نواز شریف کو باہر بھیجنے کے لیے کسی نے مجھ پر دباؤ نہیں ڈالا، نہ کوئی دباؤ ڈال سکتا ہے، میں جو کرتاہوں وہ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کو پتا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب ہم 4 حلقے کھولنے کاکہہ رہے تھے تو ہم تمام فورمزپرگئے تھے، 2013ء کے الیکشن میں 133حلقوں کے خلاف پٹیشن فائل کی گئی اور 2018 ء کے الیکشن میں (ن) لیگ اور پی پی نے24 پٹیشنز فائل کیں جب کہ تحریک انصاف نے 23 پٹیشنز فائل کیں، فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے بھی کہا کہ 2018ء کے الیکشن 2013 ء کے مقابلے میں بہتر تھے۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھاکہ کسی حکومتی رکن پر الزام کی آئی بی سے تحقیقات کراتا ہوں، جہانگیر ترین کیخلاف ایف آئی آر درج ہوئی ، جہانگیر ترین کہتے ہیں وہ بے قصور ہیں، جہانگیر ترین ہمارے بہت قریبی رہے ہیں، ساتھ بہت کام کیا ، وہ بہت مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔انویسٹی گیشن چل رہی ہے،اداروں میں مداخلت نہیں کروں گا،چینی کے کارٹل پر پہلی بار ایسی تحقیقات ہوئی ہے،ہم قانون کے مطابق چل رہے ہیں۔فردوس عاشق اعوان کے حوالے سے ان کاکہنا تھاکہ ان کے ہمارے ایک 2 لوگوں سے پرابلم تھے، فردوس عاشق اعوان پرکرپشن کاکوئی کیس نہیں تھا جب کہ فیاض چوہان تگڑی وزارت چاہتے تھے جو ان کو مل گئی ہے، ہمیں فیاض چوہان اور فردوس عاشق اعوان دونوں کی ضرورت ہے، میچ جیتنے کے لیے ٹیم میں تبدیلیاں کرنی پڑتی ہیں۔وزیراعظم عمران خان کا مزیدکہنا تھاکہ ہمارے 5برس میں ایک کروڑ سے بھی زیادہ نوکریاں ہوں گی اورگھر50لاکھ سے بھی زیادہ ہو جائیں گے۔