او آئی سی اجلاس : مقبوضہ کشمیر اور اسلامو فوبیا کے حوالے سے پاکستانی قرار دادیں متفقہ طور پر منظور

219
نائیجر: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی او آئی سی اجلاس کے موقع پر اماراتی وزیر مملکت بین الاقوامی امور ریم الہاشمی سے ملاقات کررہے ہیں

نیامے (آئی این پی،خبر ایجنسیاں )نائیجر میں منعقدہ او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے سنتالیسویں اجلاس میں پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی،ہندوستان کا پروپیگنڈہ ناکام،او آئی سی اجلاس میں کشمیر تنازع کی گونج،مقبوضہ کشمیر اور اسلاموفوبیا کے حوالے سے پاکستان کی طرف سے پیش کی گئی قراردادیں متفقہ طور پر منظورکرلی گئیں جبکہ اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اڑتالیسواں اجلاس پاکستان میں منعقد کروائے جانے کا بھی فیصلہ کیاگیاہے ۔ تفصیلات کے مطابق نائیجر میں منعقدہ او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے سنتالیسویں اجلاس میں پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی حاصل ہوگئی ،ہندوستان کا پروپیگنڈہ ناکام ہوگیا اورمقبوضہ کشمیر اور اسلاموفوبیا کے حوالے سے پاکستان کی طرف سے پیش کی گئی قراردادیں متفقہ طور پر منظورکرلی گئیں جبکہ اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اڑتالیسواں اجلاس پاکستان میں منعقد کروائے جانے کا بھی فیصلہ کیاگیاہے ۔ وزراخارجہ کونسل کے ممکنہ سربراہ کے طورپر پاکستان آئندہ تین سال کے لیےچھ رکنی اوآئی سی ایگزیکٹو کمیٹی کا رکن بھی بن گیا ہیترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال، ہندوستان کی ریاستی دہشت گردی، اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ تحقیر آمیز رویے، اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان، مسئلہ فلسطین ،افغان امن عمل میں پاکستان کے مثبت کردار کو بالخصوص اجاگر کیا۔وزیر خارجہ نے اس او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کی سائیڈلائن پر متعدد وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں اور انہیں مقبوضہ کشمیر میں امن و امان کی مخدوش صورت حال اور خطے کو بھارتی ہندوتوا پالیسیوں کے باعث، لاحق خطرات سے آگاہ کیا۔او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس اور سائیڈ لائن پر ہونیوالی دو طرفہ ملاقاتوں کے حوالے سے وزیر خارجہ نے تفصیلی ویڈیو پیغام بھی جاری کیا ۔او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کی قرار داد کے مطابق جموں و کشمیر تنازع 7 سے زائد دہائیوں سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہے۔قرارداد میں بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کو مسترد کیا اور اس اقدام کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کی براہ راست توہین قرار دیا۔او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کی قرارداد میں کہا گیا کہ بھارتی اقدامات کا مقصد مقبوضہ خطے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا، استصواب رائے سمیت کشمیریوں کے دیگر حقوق چھیننا ہے۔دفتر خارجہ کے مطابق قرارداد میں بھارت پر زور دیا گیا کہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کا کردار لائن آف کنٹرول(ایل او سی) کے اطرف بڑھائے۔قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ بھارت جموں وکشمیر، سرکریک اور دریائی پانی سمیت تمام تنازعات عالمی قانون اور ماضی کے معاہدات کے مطابق طے کرے۔او آئی سی وزارئے خارجہ کے اجلاس کی قراداد میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں صورتحال کی نگرانی کرے۔قرارداد میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی جلد بحالی کے لیے کردار ادا کرے، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ خصوصی ایلچی کا تقرر کریں۔قرارداد میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ کشمیریوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مسلسل نگرانی کرے اور سیکرٹری جنرل یو این کو آگاہ کرے۔قرارداد کے مطابق سیکرٹری جنرل او آئی سی، انسانی حقوق کمیشن اور جموں و کشمیر پر رابطہ گروپ معاملے پر بھارت سے بات کرے اور رپورٹ پیش کرے۔علاوہ ازیںپاکستان اور متحدہ عرب امارات نے دو طرفہ تعاون میں مزید تیزی لانے کیلیے اعلی سطح پر باہمی تبادلوں میں اضافے پر اتفاق کیا ہے۔ ہفتہ کو نائیجر میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور یو اے ای کے وزیر مملکت ریم الہاشمی کے درمیان ملاقات ہوئی۔ملاقات کے دوران فریقین نے دوطرفہ تعاون ،کوڈ 19صورتحال ، ایکسپو میں پاکستان کی شرکت اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خارجہ نے اماراتی وزیر مملکت کو یو اے ای ویزا کے حوالے سے پاکستانی شہریوں کو درپیش مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔دونوں فریقین نے او آئی سی معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا اور امت مسلمہ کے لیے متحدہ اور بنیادی پلیٹ فارم کی حیثیت سے اس کو مزید مستحکم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔قبل ازیںوزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ہفتہ کو نائیجر کے دارالحکومت نیامے میں او آئی سی وزرا خارجہ کونسل کے 47ویں اجلاس کے موقع پر افریقی ممالک صو مالیہ،نائیجر اور سوڈان کے وزراء خارجہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔تینوں ملکوں نے تجارتی و اقتصادی اور دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے کیلیے اعلی سطح پر رابطوں کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق صومالیہ کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ بلال محمد عثمان نے نائیجر کے ملاقات کے دوران دو طرفہ تعلقات سمیت کثیرالجہتی شعبوں میں باہمی تعاون کو وسیع کرنے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صومالی وزیر مملکت نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صومالیہ انسانی وسائل کی ترقی کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مہارت سے بھی فائدہ اٹھانے کا خواہاں ہے۔وزیر مملکت نے پاکستانی سرمایہ کاروں کو بھی صومالیہ میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی اور اس سلسلے میں لائیو سٹاک ، ماہی گیری ، زراعت اور قدرتی وسائل کے کلیدی سیکٹرز کی نشاندہی کی۔نائیجر کے اپنے ہم منصب کللا انکوراؤ سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر خارجہ قریشی نے دونوں ملکوں کے مابین قریبی برادرانہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

نائیجر: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی او آئی سی اجلاس کے موقع پر اماراتی وزیر مملکت بین الاقوامی امور ریم الہاشمی سے ملاقات کررہے ہیں