محسن فخری زادہ کو مسلسل قتل کی دھمکیاں ملتی رہیں: ایران

215

ایران کے وزیر دفاع امیر حاتمی نے انکشاف کیا ہے کہ سائنس دان اور جوہری پروگرام کے سربراہ محسن فخری ذادہ کو مسلسل قتل کی دھمکیاں ملتی رہتی تھیں۔

یہ بات وزیر دفاع نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو میں کی۔ امیر حامتی کا کہنا ہے کہ محسن فخری ذادہ نے جوہری پروگرام کی توسیع کے لیے کام کیا۔

ایران کے صف اوّل کے سائنس دان اور جوہری پروگرام کے سربراہ 59 سالہ محسن فخری زادہ کو ایران کے دارالحکومت تہران کے علاقے دماوند میں گزشتہ روز قتل کردیا گیا۔

ایران میں ’’ بابائے ایٹم بم‘‘ کے نام سے شہرت رکھنے والے محسن فخری زادہ کار پر حملے میں شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں اسپتال لے جایا گیا تاہم وہ دوران علاج دم توڑ گئے۔

سائنس دان کی گاڑی پر مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے جواب میں ان کے محافظوں نے بھی جوابی فائرنگ کی جس کے دوران محسن فخری زادہ گولیاں لگنے سے جاں بحق ہوگئے۔

ایران کی پاسداران انقلاب کے قریب سمجھے جانے والے محسن فخری زادہ کا پریس کانفرنس کے دوران نام لیتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے کہا تھا اس نام کو یاد رکھا جائے۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے سائنسدان کی ہلاکت کا ذمے دار اسرائیل کو ٹھیرایا ہے۔