سر آئینہ

182

ہمارے ملک کے اداروں کا جو حال ہے وہ تو اپنی خرابی کی وجہ سے سب کے سامنے عیاں ہے مگر انصاف فراہم کرنے کا ادارہ جس کو عدالتی نظام کہتے ہیں اس کا حال تو بڑا ہی فکر مند کردینے والا ہے۔ ادارہ اپنے کام کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے اگر ادارہ اپنے کام کا حق ادا کرتا ہے تو اس کے اچھے اثرات کو سبھی محسوس کرتے ہیں اور معاشرے میں اس کے اچھے نتائج سامنے آکر رہتے ہیں مگر اگر یہی ادارہ اپنے کام کا حق ادا نہیں کرتا تو اس کے بھی اثرات سامنے آتے ہیں اور اس کے اثرات بد کو سبھی محسوس کرتے ہیں۔
عدالتی نظام کو کسی بھی ملک کے اندر وہ مقام حاصل ہے جو جسم میں دماغ کا ہے یہ جتنا فعال ہوگا جسم کی کارکردگی اتنی ہی اچھی ہوگی اور یہ جتنا زیادہ غیر فعال ہوگا جسم اسی نسبت سے مفلوج ہوتا جائے گا۔ قوموں کی عروج و زوال میں اس کا بڑا حصّہ ہوتا ہے۔ ملک وہی ترقی کے منازل طے کرکے دنیا میں نمایاں مقام حاصل کرتا جہاں کے عوام کو انصاف ان کے درواز ے پر میّسر آتا ہے۔ جہاں پر مجرموں کو اس بات کا کوئی خطرہ نہ ہوکہ جرم کے بعد ان کو قرار واقعی سزا ملے گی، جہاں رشوت کے زور پر سب کچھ خریدا جاسکتا ہو، مجرم بے باک ہوجاتا ہے اور وہ آزادانہ اپنی مجرمانہ سرگرمیاں جاری رکھتا ہے۔ وہاں بڑے بڑے بااثر قاتلوں، ڈاکوؤں اور دیگر اسی طرح کے جرائم پیشہ افراد کے گروہ وجود میں آجاتے ہیں جن کی وجہ سے معاشرے کا امن تباہ ہوجاتا ہے اور جہاں معاشرے کا امن تباہ ہوتا ہے وہاں سب کچھ تباہ وبرباد ہوجاتا ہے۔ اور پھر وہ ادارہ اور اس میں کام کرنے والے افراد بھی محفوظ نہیں رہتے پہلے ان کا تقّدس پامال ہوتا ہے اور پھر جو آگ انہوں نے اپنی مجرمانہ غفلت اور لاپروائی سے دوسروں کے گھروں میں لگائی ہوتی ہے وہ آگ ان کے گھروں میں بھی پہنچ کر رہتی ہے۔
گزشتہ دنوں یہ خبر پڑھ کر یہ احساس ہوا کہ صرف عوام ہی غیر محفوظ نہیں بلکہ اب تو آگ گھر تک پہنچ چکی ہے۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن خاتون جج ڈاکٹر ساجدہ احمد نے چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد قاسم خان کو خط لکھا جس میں اْن کا کہنا تھا کہ وکلا کی جانب سے خواتین ججوں کو گالیاں دینے، ہراساں کرنے اور بدتمیزی کرنے پر ایکشن نہ لیا گیا تو وہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ، ہیومن رائٹس کمیشن، وومین ججز اور انٹرنیشنل بار ایسوسی ایشن آف لائرز میں پاکستان کے شرپسند وکلا کے کرتوتوں اور ججوں کیخلاف اْن کی بدتمیزیوں کو نمایاں کریں گی۔ تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر ساجدہ احمد نے وکلا مردوں کی جانب سے توہین آمیز الفاظ اور گالیوں کی شکایت چیف جسٹس سپریم کورٹ اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے ایک خط میں کی جس میں اْن کا کہنا تھا کہ ہم فراہم کردہ مراعات جیسے گاڑی، لیپ ٹاپ اور اضافی تنخواہ کے بدلے اپنی خاندانی عزت کو داؤ پر نہیں لگا سکتے۔ اسلام آباد میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے بہتر تھا وہ اپنا خاندانی کام چوپایوں کو چراتیں اور پاک زندگی گزارتیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اسلام میں خودکشی جائز ہوتی تو عدالت کی عمارت سے کود کر جان دے دیتیں کیونکہ اس پیشے میں وکلا کی خواتین ججوں کو گندی گالیاں، ہراسگی اور بدتمیزی حد سے بڑھ گئی ہے۔ غیر پیشہ ور وکلا کیخلاف تعزیراتِ پاکستان کے سیکشن 228 کے تحت اور توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہیں کی جارہی؟ آپ سنجیدگی سے مسائل کیوں نہیں حل کرتے یا آپ کو اپنی عدالت سنبھالنا نہیں آتی؟ انہوں نے کہا کہ یہ عظیم و مقدس پیشہ اب کالی بھیڑوں اور غیر پیشہ ورانہ افراد کے حوالے کردیا گیا ہے۔ قانون کی بالادستی کے حصول میں ہم ناکام رہے ہیں اور ہماری اصلیت اْس وقت دنیا نے دیکھی جب وکلا نے امراضِ قلب کے اسپتال پر اْس وقت حملہ کیا جب وہاں مریضوں کی جان بچائی جارہی تھی۔ یعنی کہ بڑی بے بسی کے ساتھ اعلیٰ عدلیہ سے شکایت کی گئی ہے کہ اس سے بہتر تھا کہ وہ اپنا خاندانی کام چوپایوں کو چراتیں یا اگر خودکشی جائز ہوتی تو عدالت کی عمارت سے کود کر جان دے دیتیں۔
آخر یہ نوبت آئی کیسے۔۔۔؟؟ یہ ایک دن کی خرابی نہیں ہے بلکہ یہ ناسور برسوں میں کینسر بنا ہے جب اپنا مکمل انصاف کا نظام ہوتے ہوئے غیروں کی کتابوں کو پڑھ پڑھ کر فیصلے کرتے رہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صاف صاف یہ بات کئی جگہ قرآن میں واضح طو ر پر فرما دیا ہے کہ: ’’اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام و قانون کے مطابق حکم نہ دیں وہی کافر ہیں‘‘۔ ( المائدہ: 44) دوسری جگہ فرمایا کہ: ’’اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام و قانون کے مطابق حکم نہ دیں وہی ظالم ہیں‘‘۔ ( المائدہ: 45) اور تیسری جگہ ارشاد فرمایا کہ: ’’اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون و شریعت کے مطابق حکم نہ دیں، فیصلے نہ کریں وہی فاسق ہیں‘‘۔ ( المائدہ: 47)۔
اسلام کے نام پر وجود میں آنے والی اس مملکت خداداد پاکستان کے عدالتی نظام کو اللہ کی کتاب اور اس کی شریعت کے مطابق قائم ہونا تھا۔ مگر بڑی چالاکی کے ساتھ جس طرح ریاست کو کمیونزم اور سیکولزم سے اپنی آغوش میں لیے رکھا اسی طرح عدلیہ نے بھی اپنے آپ کو جانتے بوجھتے اپنے آپ کو اسلام کے نظام عدل سے دور رکھا اور دور غلامی کے نظام عدل کو اپنے یہاں قائم رکھا۔ اسی کے مطابق فیصلے کرتے رہے اور ہر آنے والی حکومت اور بالا دست کی خدمت اور چاکری میں عافیت جانی، امیر اور غریب کے لیے الگ الگ انصاف کے معیار قائم کیے۔ عدالت کے باہر سائلوں کا ہجوم بڑھتا چلاگیا۔ بلکہ کئی فیصلے تو مدعی کے مرجانے کے بعد ان کی اولادوں نے سنے۔ مجرم باعزت بری ہونے لگے اور بے گناہ اور معصوم شہری ان مجرموں کے ظلم کا نشانہ بنے لگے۔ یون عدلیہ کا تقدّس خود ان ہی کی وجہ سے پامال ہوا۔ مفادات کی اس گنگا سے وقتی طور پر تو سبھی نے ہاتھ دھوئے ہوں گے مگر یہ تو اپنے آپ کو دھوکا دینے کے مترادف تھا۔ عدلیہ کی بحالی اور آزاد عدلیہ کی تحریک بھی اس ملک میں چلائی گئی جس کو عوامی تائید بھی حاصل تھی اور دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی اس کو سراہا اور اس میں حصّہ لیا اور اس کے لیے جانوں تک کی قربانیاں دیں اور یہ امید ہوچلی تھی کہ اب عدلیہ آزاد ہوگی اور مظلوم کو سستا انصاف مل سکے گا جھوٹے گواہ اور جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ثابت کرنے والے چرب زبان وکلا سے سے قوم کی جان چھوٹے گی یہاں 12مئی کا دن یاد دلانا ضروری ہے کہ کس طرح ایک چیف جسٹس کو ائر پورٹ سے بھی باہر آنے نہ دیا گیا اور کیا کیا متشدد اور تضحیک آمیز رویہ اختیار کیا گیا۔ مگر ان قربانیوں کا بھی پاس نہیں رکھا گیا۔
انصاف فراہم کرنے والے اس درآمدی نظام نے یہ ثابت کردیا ہے کہ یہ مکمل طور پر بانجھ ہے اس سے کبھی مظلوموں کو انصاف نہیں ملے گا اور اس طرح خرابیاں بڑھتی رہیں گی۔ اے میرے دیس کے منصفو اور وکلا! اگر کوئی عدل کا نظام ہے تو وہ ہے اسلام کا نظام عدل اسی کے پاس ایک پوری روشن تاریخ ہے۔ مغرب میں تو سورج بھی بے نور ہوجاتا ہے وہاں سے کہاں عدل کی روشنی میّسر آسکتی ہے۔ سورج کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لینا کہا ں کی عقل مندی ہے۔