اسرائیلی وزیر اعظم کا نام امن کے نوبیل انعام کے لیے

289

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات استوار کرنے پر اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کے ساتھ ابو ظبی کے ولی عہد شہزادہ شیخ محمد بن زیاد النہان کا نام امن کے نوبیل انعام کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔ گزشتہ ستمبر میں امریکی صدر ٹرمپ کے دبائو کے تحت ابو ظبی کے ولی عہد نے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور تجارت اور سیاحت کے شعبہ میں تعلقات استوار کرنے کے بارے میں سمجھوتا کیا تھا جس کے بعد بحرین اور سوڈان نے بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
امن کے نوبیل انعام کے لیے اسرائیل کے وزیر اعظم اور ابو ظبی کے ولی عہد کے نام آئر لینڈ کے سابق وزیر لارڈ ڈیوڈ ٹریمبل نے پیش کیے ہیں جن کو 1998 میں آئر لینڈ کی خانہ جنگی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرنے پر امن کا نوبیل انعام دیا گیا تھا۔ لارڈ ٹریمبل کے اس اقدام پر تعجب کا اظہار کیا جارہا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا نام امن کے اس اعلیٰ ترین انعام کے لیے تجویز کیا ہے جن کے ہاتھ فلسطینیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ ایک ایسا شخص امن کے انعام کا کس طرح مستحق ہو سکتا ہے جس کے حکم پر غزہ میں اندھا دھند فائرنگ کی جاتی رہی ہے اور ان بچوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے جو وطن واپسی کی تحریک کے سلسلے میں اسرائیلی سرحد کی طرف مارچ کرتے تھے۔
نیتن یاہو کے حکم پر غزہ پر حملے کر کے بچوں کو جس طرح ظالمانہ انداز سے نشانہ بنایا گیا اسے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن نے صریحاً جنگی جرائم قرار دیا ہے۔ ایک سال کے دوران اسرائیلی فوج کی اندھا دھند فائرنگ سے غزہ میں ڈھائی سو فلسطینی ہلاک ہوئے جن میں اڑتالیس بچے شامل تھے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کے صحافیوں، طبی کارکنوں اور اساتذہ کو بھی ہلاک کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں جن فلسطینیوں کو نشانہ بنایا گیا ان کے بارے میں شواہد کی بنیاد پر اسرائیلی فوجیوں کے خلاف بین الاقوامی عدالت میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کو اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ کی نفرت کا اظہار قرار دے کر اسے مسترد کردیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم اقوام متحدہ کی رپورٹ چاہے جو بھی کہہ کر مسترد کردیں لیکن جو حقائق ہیں وہ ساری دنیا پر واضح ہیں اور اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ محصور غزہ پر اسرائیلی فوج کے حملے جنگی جرائم سے کم نہیں ہیں۔ پھر مغربی کنارے پر فلسطینیوں کو جس طرح بے دخل کیا جارہا ہے اور ان علاقوں پر یہودی بستیاں بسائی جارہی ہیں اسے اقوام متحدہ غیر قانونی عمل قرار دے چکی ہے لیکن امریکا کی حمایت کی بنا پر یہودی بستیوں کی تعمیر بدستور جاری ہے اس میں پچھلے چھ مہینوں کے دوران غیر معمولی تیزی آئی ہے، خاص طور پر ٹرمپ کی صدارت کے آخری دنوں میں۔ اس کی بنیاد یہ خام خیالی ہے کہ ٹرمپ کے بعد نئے صدر جو بایڈن اس معاملہ میں ٹرمپ سے مختلف پالیسی اختیار کریں گے۔ جو قرائین ہیں ان کے مطابق نئے صدر جو بایڈن مشرق وسطیٰ میں وہی پالیسی اختیار کریں گے جو ٹرمپ کی پالیسی رہی ہے۔
یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ہاتھ فلسطینیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اس حقیقت کے پیش نظر یہ کس طرح یقین کیا جا سکتا ہے کہ وہ امن کے نوبیل انعام کے مستحق ہیں لیکن مغربی طاقتیں جس انداز سے اسرائیل پر نچھاور ہیں اس کے پیش نظر کوئی بعید نہیں کہ امن کا نوبیل انعام بالآخر نیتن یاہو ہی کو ملے ویسے بھی نوبیل انعام کا فیصلہ کرنے والی کمیٹی سیاسی مصلحتوں کو پیش نظر رکھتی ہے۔ لوگ بھولے نہیں کہ 2009 میں بارک اوباما کے صدر منتخب ہوتے ہی انہیں امن کا نوبیل انعام دینے کا اعلان کیا گیا تھا ابھی جب کہ انہوں نے صدارت بھی نہیں سنبھالی تھی اور صدر کی حیثیت سے کوئی ایسا کام انجام نہیں دیا تھا کہ اسے عالمی امن کا فروغ قرار دیا جاتا۔