اُسامہ قتل آپریشن کی ماسٹر مائنڈ سیکرٹری دفاع مقرر

404

سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ اور اُسامہ بن لادن کے قتل کے لیے ’’ایبٹ آبادآپریشن‘‘ کی ماسٹر مائنڈ مشیل فلورنائے کو سیکرٹری دفاع امریکا بنادیا گیا۔ 59 سالہ مشیل فلورنائے کو 2009ء سے 2011ء تک امریکا کے ہر بڑے عسکری فیصلے میں شامل رکھا گیا لیکن امریکا کے لیے ان کا سب سے اہم کارنامہ یکم مئی 2011ء میں اُسامہ بن لادن کے قتل کے لیے ’’ایبٹ آبادآپریشن‘‘ کی ماسٹر مائنڈکے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یہ آپریشن ان کے مطابق ان کی نگرانی میں کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ ’’ایبٹ آباد آپریشن‘‘ کے بعد اس وقت کی ایک تصویر دنیا بھر کے اخبارات اور چینلوں کوجاری کی گئی جس میں دکھایا گیا تھا کہ امریکا کے صدر اُوباما، نائب صدر جوبائیڈن، سیکرٹری خارجہ ہیلری کلنٹن، اوباما کے دور میں نائب سیکرٹری خارجہ اور قومی سلامتی کے نائب مشیر 58 سالہ انٹونی بلنکن اور ’’بارک اُوباما‘‘ کی پوری کابینہ کے ارکان کو براہ راست آپریشن کی کارروائی اور اس پر بریفنگ مشیل فلورنائے دے رہی تھیں لیکن اخبارات اور چینلوں کو جاری کی جانے والی تصویر میں مشیل کی خواہش کے مطابق ان کی تصویر اس میں شامل نہیں کی گئی۔
مشیل بارک اوباما دور میں نائب سیکرٹری دفاع کے طور پر فرائض انجام دیتی رہی ہیں ڈیفنس پالیسی کی خدمات انجام دینے والی مشیل فلورنائے کو نو منتخب جو بائیڈن نے سیکرٹری دفاع کی اہم ذمہ داری سونپنے کا فیصلہ کیا ہے 2011ء میں مشیل فلورنائے ازخود سبک دوش ہوگئیں تھیں۔ 59 سالہ مشیل بل کلنٹن کے دور میں بھی وزارت دفاع میں خدمات انجام دے چکی ہیں۔ مشیل فلورنائے کا یہ کارنامہ بھی کہ انہوں نے اس بات پر صدر امریکا کو مجبور کیا کہ وہ عراق پر حملہ کر کے صدام حسین کی حکومت کو ختم کریں۔ اس کے علاوہ 2010ء نائب وزیر دفاع مشیل نے ایوان نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے بیان میں کہا کہ آئندہ سال موسم گرما تک تینتیس ہزار فوجیوں کی واپسی کے بعد بھی تقریباً اڑسٹھ ہزار امریکی فوجی افغانستان میں رہیں گے۔ مشیل کے مطابق افغانستان سے عجلت میں نکلنے کا کوئی منصوبہ نہیںہونا چاہیے اس سے عسکری فوائد خطرے میں پڑیں جائیں گے، جو اب تک افغانستان میں حاصل کیے گئے ہیں۔ مشیل فلورنائے نے 2009 اور 2011ء کے دوران بڑے پیمانے پر ’’امریکی عسکری کنٹریکٹرز بلیک واٹر‘‘ کو ویزے کے اجراء میں ان کی مدد کی جنہوں نے پاکستان کے اندر جاسوسی کا ایک نیٹ ورک قائم کرلیا ہے اس میں بھارت بھی شامل رہا ہے۔ ایبٹ آباد آپریشن کے لیے بنائے جانے والے کمیشن نے اس کی چھان بین کا حکم صار فرمایا تھا لیکن اس کا کیا ہوا یہ کسی کو نہیں معلوم ہو سکا۔ اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ مشیل فلورنائے امریکا کو ایک بہت بڑی طاقت کے طور پر دیکھنا چاہتی ہیں۔ ایک ماہ قبل انہوں نے ’’فارن افیئرز‘‘ میں لکھا تھا کہ امریکا کو اس قدر مضبوط ہونا چاہیے کہ ’’وہ چین کی پوری عسکر طاقت کو 72گھنٹوں میں تباہ و برباد کر دے‘‘۔
جو بائیڈن نے دوسری تقرریوں پر بھی کا شروع کر دیا ہے 35 سالہ تجربہ رکھنے والی کار لنڈا تھامس گرین فیلڈ کو اقوام متحدہ میں سفیر نامزد کر دیا ہے۔ قبل ازیں نو منتخب صدر کورونا سے نمٹنے کے لیے ٹرانزیشن پیریڈ کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وزیر خارجہ کے لیے تجربہ کار سفارت کار انٹونی بلنکن، سفیر سوزن رائس خارجہ، لائل برینرڈ خزانہ، ڈوجونز انصاف، الجینڈرو میئرکاس ہوم لینڈ سیکورٹی، مشیل لوجین گریشم صحت اور انسانی وسائل، میئر ایرک گرسیٹی ٹرانسپورٹ، میگ وائٹ مین کامرس، ایرنسٹ مونز توانائی، سینیٹر ٹام اوڈیل داخلہ، ہیڈی ہیڈکیمپ زراعت، جولی سوو لیبر، الون براؤن ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیلپمنٹ، للی سکلسن گارشیا تعلیم، پیٹ بڈیگ ویٹرن افیئرز، جمی گومز نمائندہ ٹریڈ مقرر کردیا ہے۔
’’ایبٹ آباد آپریشن‘‘ کی ماسٹر مائنڈ مشیل فلورنائے کو یہ بات اچھی طرح یاد ہوگی کہ 2004ء کے ایک آڈیو پیغام میں اُسامہ بن لادن نے کہا تھا، ’’ہم امریکا کو اتنا لہو لہان کر دیں گے کہ وہ دیوالیہ ہو کر رہ جائے گا‘‘۔ بن لادن کی پیش گوئی درست ثابت ہوئی اور عراق، افغانستان کی جنگوں اور یمن، صومالیہ، سوڈان اور پاکستان میں ڈرون و میزائل حملوں سے امریکا کے فوجی اخراجات میں نہ صرف اضافہ ہوا بلکہ ان جگہوں پر لڑائی کے دوران شہریوں کی ہلاکت اور امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک سے واشنگٹن کی اخلاقی ساکھ بھی پامال ہوئی۔ واشنگٹن دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اب تک کئی ٹریلین ڈالر سے زائد آخراجات برداشت کر چکا ہے اور اس رقم کا امریکا کے مالیاتی بحران میں قابل ذکر حصہ ہے۔ اگرچہ امریکا کی فوج اب بھی دنیا میں سب سے زیادہ طاقتور ہے لیکن جس کامیابی سے دنیا کے غیر منظم گوریلا گروپوں نے اسے چوٹ لگائی ہے، اس سے بتدریج دنیا میں امریکا کی طاقت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ امریکا اپنے دوستوں اور دشمنوں سے کھیلنے کی کوشش کرتا رہا ہے لیکن آج ساری دنیا میں امریکا کھیلونا بن کر رہ گیا ہے۔ اس ان پالیسیوں کی وجہ سے امریکا معیشت کو شدید نقصان پہنچا اور افغانستان، ایران پاکستان، شمالی افریقا، اور مشرق وسطیٰ سمیت دنیا بھر میں عوامی سطح پر امریکا کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا‘‘۔ اب بھی مشیل فلورنائے اگر 2009ء اور 2011ء کی پالیسی کو جاری رکھنے کی کوشش اور امریکا کی افغانستان فوجی یا بلیک واٹر میں اضافہ کیا تو اس سے امریکا کی تباہی و بربادی یقینی ہے۔ مشیل فلورنائے کی ماضی کی خطے میں بھارت نواز اور پاکستان دشمن رہی ہیں جس سے امریکا کو نقصان ہو گا۔ جو بائیڈن سے زیادہ کون جانتا ہوگا کہ یو ایس ایس آر سے خوفزدہ امریکا افغانستان میں پہنچ دنیا کے نقشے سے ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔ کیا یو ایس اے بھی ایسی کسی صورتحال سے دو چار ہونے کی کوشش کرے گا۔