اعلانات اور اجلاسوں سے کراچی کے مسائل حل نہیں ہوں گے ٗحافظ نعیم

124
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے وزیر اعظم کی زیر صدارت کراچی ٹرانسفر میشن پلان کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کراچی کے حوالے سے ہونے والے فیصلوں اور اعلانات پرشدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ صرف اعلانات اور اجلاسوں سے کراچی کے مسائل حل نہیں ہوں گے ، کراچی کے بنیادی مسائل پر حکمران جماعتوں کی بنائی گئی ،صوبائی کمیٹی نے 90روز میں اعلانات اور اجلاس کے سواکچھ نہیں، جس سے وفاقی وصوبائی حکومتوں کی کراچی کے مسائل کے لیے فکر مندی کا اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ انہیں کراچی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ،کراچی کے مسائل کے حوالے سے اجلاسوں میں افواج پاکستان کے ذمے داران کی شرکت سے ان پر بھی ذمے داری عاید ہوتی ہے کہ کراچی کے عوام ان سے بھی سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ کراچی کے گمبھیر مسائل آخر کب حل ہوں گے ،بارشوں کے دوران وفاقی وزرا نے نالوں پر تصویریں بنوا کر سیاست تو کی لیکن پیکج کے اعلانات کے باوجود اب تک عملاً کوئی کام نہیں کیا گیا ،کراچی کی اس بدترین صورتحال کی ذمے داری تمام حکمران جماعتوں پر عاید ہوتی ہے ،بارشوں کے بعد 11سوارب کا پیکج اور کورونا کے لیے 12سو ارب کا پیکج عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف تھا ،وفاقی وصوبائی حکومت کی ذمے داری ہے کہ فوری طور پر شہر یوں کے لیے ریلیف کا کا م کیا جائے ،گلیوں اور سڑکوں سے کچرا صاف کرایا جائے ،کراچی کے جتنے بھی بڑے پروجیکٹس ہیں اس حوالے سے واضح دوٹوک موقف اورڈیڈ لائن سے عوام کو آگاہ کیا جائے،بااختیار شہری حکومت کے قیام کے لیے موجودہ لوکل باڈی ایکٹ ختم کر کے نیا قانون بنایا جائے،سڑکوں کی تعمیر ، سیوریج کے نظام کوفوری طورپر بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔کراچی سرکلر ریلوے پروجیکٹ کی تازہ صورتحال سے عوام میں شدید غم و غصہ اور بے چینی پیدا ہورہی ہے ، کے سی آر کے نام پر شہریوں کو بے وقوف بنایا جارہا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نورحق میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کانفرنس سے امیر ضلع جنوبی و رکن سندھ اسمبلی سید عبد الرشید نے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پر نائب امیرکراچی راجا عارف سلطان، انجینئر سلیم اظہر، سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری ودیگر بھی موجودتھے ۔کانفرنس میںکراچی سرکلر ریلوے منصوبے کے حوالے سے شہر بھر کے مختلف ریلوے اسٹیشنوں کی تباہ شدہ حالت زار پر مشتمل ڈاکومینٹری بھی دکھائی گئی ۔حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزیدکہاکہ گرین لائن منصوبہ وفاق کے تحت ہے جس کی براہ راست نگرانی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کررہے ہیں ،یہ منصوبہ تاحال التوا کا شکار ہے ،وفاقی حکومت نے ڈھائی سال کے عرصے میں صرف 3پُل بنائے جس کی صورتحال انتہائی خراب ہے ۔انہوں نے کہاکہ اورنج لائن منصوبہ سند ھ کی حکومت کے ماتحت جوکہ 4سال سے اب تک مکمل نہیں ہوسکااور اب پانی کی فراہمی کے K4منصوبے کے حوالے سے نئی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا جارہا ہے ،حکومت بتائے کہ 15سال ہوگئے اب تک K4منصوبہ کیوں مکمل نہیں ہوسکا، S3منصوبے پر کیوں کام نہیں کرایا گیا، جب کسی پروجیکٹ پر کام نہیں کیا گیا تو 1100ارب کے پیکج کا اعلان کس مد میں کیا گیا ہے ؟۔انہوں نے کہاکہ کراچی سرکلر ریلوے کے نام پر کراچی کے شہریوں کے ساتھ بدترین مذاق کیا جارہا ہے ،وزیرریلوے شیخ رشید نے مخصوص لائن پر ٹرین کا افتتاح تو کردیا لیکن ریلوے اسٹیشنز اور ریلوے لائن کی مرمت پر کوئی کام نہیں کیاگیا،کے سی آر پروجیکٹ کے لیے 30کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے ،وزیر ریلوے بتائیں کہ وہ کہاں خرچ کیے گئے ؟۔جماعت اسلامی کراچی کے عوام کے ساتھ مل کرمسائل کے حل کے لیے تحریک چلارہی ہے، لاکھوںکی تعداد میں شہریوں نے حقوق کراچی کی تحریک اورعوامی ریفرنڈم میں حصہ لیا اور کراچی کے جائز مطالبات پر اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ آنے والے دنوں میں کراچی کے حالات اور مسائل پر مشتمل وڈیو بنانے کے حوالے سے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان مقابلہ منعقد کیا جائے گااور منتخب 10افراد کی وڈیو کو سوشل میڈیاپرشیئر کیا جائے گا اور ان منتخب لوگوں کو عوامی لیڈر کے طور پر سامنے لایا جائے گا ۔