قدیم یورپ ظلم اور تشدد کی آماجگاہ تھا، سائنسی دریافت

263

یہ اس دور کی بات ہے جب انسان روز مرہ کے معمولات انجام دینے کیلئے پتھروں کا استعمال کرتے تھے اور اُس وقت تہذیب و تمدن کے اصولوں کا کوئی وجود نہیں تھا۔ ہم آج قدیم یورپ کی بات کریں گے۔ اُس وقت جب انسانی تاریخ کو محفوظ کرنے کا رواج دور دور تک نہیں تھا۔

پیچھے سے کیے گئے بڑے پیمانے پر حملے کا شکار اور بعض اوقات جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے گئے ایک قدیم یورپین گاؤں کے باشندوں کی باقیات اس بات کا ثبوت ہیں کہ قدیم یورپ ایک پُر تشدد مقام تھا۔

اس دریافت نے اس نظریے کی تائید کی ہے کہ قدیم فولادی و پتھریلے زمانے میں انسان تنازعات کو حل کرنے کیلئے وحشیانہ تشدد کا سہارا لیتا تھا جس کی کوئی حدود نہیں تھیں۔

دریافت شدہ باشندوں کی ہڈیوں کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے قدیم یورپ میں 1،500 سال قبل رومن سلطنت کے خاتمے کے بعد قتل عام کیا گیا تھا جبکہ کہ رومیوں کے آنے سے کئی صدیوں پہلے بھی اسپین میں پُرتشدد قتل عام کیا گیا جس میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو جان سے مار کر اُن کی لاشوں کا مُثلہ بنایا گیا۔

اسپین کی ایک آثار قدیمہ کی تحقیقاتی کمپنی آرکیکس کے ماہر جیویر آرڈوائو کا کہنا ہے کہ تیز ہتھیاروں سے کاٹے گئے جسمانی اعضاء اور جلی ہوئی انسانی ہڈیوں سے پتہ چلا ہے کہ یہ انسانی تاریخ کا ایک انتہائی پُرتشدد واقعہ تھا۔”

ارڈوائو اور ان کے ساتھیوں نے قدیم یورپ کے ایک لاہویا ریاست میں بالغوں ،  نوعمروں ،  کمسن اور نوزائیدہ بچوں کی باقیات کا معائنہ کیا جو 365 سے 195 قبل مسیح کے درمیان قتل کیے گئے تھے۔ ان میں کئی ایسے تھے جن کا سر ایک ہی وار میں قلم کیا گیا تھا، خاتون کا بازو کاٹا گیا جس کی ہڈیاں لاش سے تین میٹر دور پائی گئیں جس پر ابھی بھی پانچ زیوراتی کڑے چڑھے ہوئے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاشوں کی ہڈیوں کی بیرونی تہوں میں دراڑیں موجود ہیں اور قتلِ عام کے بعد لاشوں کو دفن کرنے کے بجائے اُن کو ایسے ہی چھوڑ دیا گیا تھا جبکہ دوسرے افراد جلتی ہوئی عمارتوں کے اندر پھنس گئے ہوں کیونکہ ہڈیوں کی رنگت سے پتہ چلتا ہے کہ لوگوں کو کھلے عام اور عمارتوں میں بند نذرِ آتش بھی کیا  گیا تھا جس کی تپش 350 سے 650 سینٹی گریڈ تک پہنچ گئی تھی۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق زخموں کی نوعیت ، خواتین اور کمسن بچوں کی باقیات کے تناظر سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہ کوئی مماثل قوتوں کے مابین لڑائی نہیں تھی نہ ہی یہ کوئی جنگ تھی بلکہ نامعلوم گروہوں کی جانب سے یہ لاہویا کی اس خودمختار حکومت کا باشدوں سمیت مکمل صفایا تھا۔