کچھ لوگ دیگر کی بنسبت زیادہ غصیلے کیوں ہوتے ہیں؟

220

ماہر نفسیات ڈیفن کے مطابق کچھ لوگ واقعی دوسروں کی نسبت زیادہ ‘گرم دماغ کے ہوتے ہیں۔ وہ دوسروں کی بنسبت زیادہ آسانی اور شدت سے غصے کا اطہار اور ناراض ہوجاتے ہیں۔

کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے غصے کا برملا اظہار تو نہیں کرتے مگر دوسرے طریقے اپناتے ہیں جیسے چڑچڑا پن اور بد مزاجی۔

آسانی سے غصے میں آجانے والے لوگ ہمیشہ لعنت و ملامت یا چیزوں کو توڑتے پھوڑتے نہیں ہیں بلکہ بعض اوقات وہ معاشرتی طور پر غیر متحرک ، دب جاتے ہیں یا ڈپریشن کے باعث بیمار ہوجاتے ہیں۔

جو لوگ آسانی سے ناراض ہوتے ہیں ماہر نفسیات کے مطابق وہ جلد مایوسی ہونے والے بھی ہوتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ وہ مایوسی یا تکلیف کا سامنا نہیں کرنا چاہئے پھر اگر صورتحال کسی حد تک غیر منصفانہ معلوم ہوتی ہے تو وہ مشتعل ہوجاتے ہیں۔

ایسے لوگوں کو اگر کسی غلطی کی نشاندہی کی جائے تو وہ اپنی کامل قابلیت پر حملہ تصور کر کر ناراض یا غصے میں آجاتے ہیں۔ یہ لوگ ایسے کیوں ہوتے ہیں، اس کے پیچھے بہت سے اسباب کارفرما ہیں۔

اس کی ایک وجہ جینیات ہے۔ اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ کچھ بچے چڑچڑاپن ، دل آزاری اور آسانی سے ناراض ہوجاتے ہیں اور یہ علامتیں بہت کم عمر سے ہی موجود ہوتی ہیں۔

دوسرا معاشرتی سبب بھی ہوسکتا ہے۔ غصے کو اکثر منفی سمجھا جاتا ہے۔ ہمیں سکھایا گیا ہے کہ اضطراب ، افسردگی یا دیگر جذبات کا اظہار کرنا بالکل ٹھیک ہے لیکن غصے کا اظہار نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے نتیجے میں ہم اسے قابو کرنے یا اصلاحی انداز سے اظہار کرنے کا طریقہ نہیں سیکھتے ہیں۔

تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ خاندانی پس منظر بھی کسی انسان میں غصے کے اظہار میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ عام طور پر جو لوگ آسانی سے ناراض ہوتے ہیں اُن کا تعلق اُن خاندان سے ہوتا ہے جو اختلافات اور افراتفری میں الجھے ہوئے ہوتے ہیں اور جذباتی روابط میں بالکل کورے ہوتے ہیں۔