جماعت اسلامی کا کنونشن بلانے کا فیصلہ

60

کراچی (نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی سندھ نے وزارت تعلیم کی جانب سے تعلیمی اداروں کو ڈیڑ ھ ماہ کے لیے بند کیے جانے والے فیصلے کو غیردانشمندانہ اور تعلیم دشمنی پر مبنی فیصلہ قرار دیتے ہوئے تمام تعلیمی اداروں کو ایس اوپیز کے تحت کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔قبا آڈیٹوریم میں جماعت اسلامی سندھ شعبہ تعلیم کی سینٹرل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےصوبائی امیر محمد حسین محنتی نے کہا کہ سرکاری کالجز میں کتابوںکے قومی ادارے نیشنل بک فاو¿نڈیشن کراچی کے دفتر کی جانب سے منکر حدیث اور قادیانی نواز مصنف کی کتب کی فراہمی کی سخت مذمت،تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں الحاد اور لادنیت کا پرچار ایک خطرناک سازش ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے دین و مذہب کی بنیاد ہی علم پر رکھی گئی ہے۔ ہمارے نبی مہربا ن پر پہلی وحی بھی علم کے بارے میں نازل ہوئی ۔دنیا کے نقشے میں آج جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک نظر آتے ہیں ۔ان سب نے تعلیم کے ذریعے ہی ترقی کی ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں تعلیم دشمنی سے نوجوان نسل اور ملک کا مستقبل تباہ کیا جارہا ہے ۔شعبہ تعلیم کے صوبائی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر اسحاق منصوری نے کہا کہ پاکستان بننے سے آج تک ملک کے ہر شعبے میں قادیانی لابی اثر انداز ہے ۔حج کے فارم سے ختم نبوت کاخانہ ختم کرنے سے لے کر تعلیمی اداروں میں قادیانی نواز کتب کی فراہمی تک وفاق وزیر تعلیم کاکردار مشکوک ہے تعلیمی اداروں کی ایک بار پھر بندش سے تعلیم کا نقصان اور خاص طورپر پرائیوٹ اسکول اور اس سے وابستہ افراد متاثرہوںگے ۔اس وقت صرف کراچی میں ساڑھے 4 سو سے زاید اسکول بنداور بہت سارے اسکول فرنیچر فروخت کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ اجلاس میں انجینئرانتصار غوری ،حنیف جدون اورعظیم صدیقی کی سربراہی میں مختلف کمیٹیاں بھی بنائی گئیں جو کہ تعلیمی اداروں میں قادیانی نواز و یکساں نصاب کے نام پر الحاد و لادینیت کو نصاب میں شامل کرنے کا جائزہ ،تعلیمی اداروں کو جلد کھولنے کے لیے اسکول مالکان وتعلیمی ماہرین پر مشتمل تعلیمی کنونشن اور صوبائی وزیر تعلیم سے ملاقات کرکے اپنے خدشات وتحفظات سے آگاہ کریں گی۔