عورت کو گھریلو تشدد اور لادینی یلغار سے بھی نجات دلانا ہوگی ، دردانہ صدیقی

62

 

کراچی(اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی حلقہ خواتین پاکستان کی سیکرٹری جنرل دردانہ صدیقی نے کہا ہے کہ اسلام عورت کے لیے امن و آتشی اور خیر سگالی کا پیغام لایا -طلوع اسلام کے وقت عرب میں زندہ درگورہونے والی بچیاں، ایران میں نذر آتش ہونے والی عورتیں، یورپ میں قدیم یونانی دیوتاؤں کی بھینٹ چڑھنے والی خواتین اور بھارت میں شوہرکی چتاکے ساتھ ستی ہونے والی عورت سمیت پوری دنیامیں ظلم کی
ایک چکی تھی جس میں صنف نازک نسل در نسل پستی چلی جارہی تھی۔خاتم الانبیاؐ دراصل محسن نسوانیت بن کر آئے۔ آپؐ نے عورت کو اس کا جائز مقام عطاکر کے پوری انسانیت کواحسان مندکیا۔ خواتین پر تشدد کے خلاف عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی بیان میں دردانہ صدیقی نے کہا کہ اسلام نے عورت کو اس کا جائزفطری مقام عطاکیااوراسے پستی سے نکال بلندی پر سرفراز کیااور زمانے کے تشددسے اسے پناہ عطاکی۔ اسلام نے عورت کی نسوانیت کااحترام کرتے ہوئے اس کے ذمے صرف اس کی فطری ذمے داریاں سپرد کیں ،حق وراثت،حق شہادت،حق ولایت،حق وصیت اور حق نکاح و خلع جیسے کتنے ہی قانونی و معاشرتی حقوق عطاکیے ۔انہوں نے کہا کہ عورت پر تشدد کے خلاف یہ دن 2000ء سے منایا جا رہا ہے مگر سوچنے کا مقام یہ ہے کہ اس حوالے سے قانون سازی پر عمل درآمد کو کس حد تک مؤثر بنایا جا سکا ؟ آج بھی دنیا بھر میں عورت کوجسمانی ، نفسیاتی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ اس کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں ۔ہوس کے پجاری اسے اپنی انا کی تسکین کا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ یورپ میں صنعتی انقلاب کے بعد پھرماضی کی طرح عورت ظلم کی چکی میں پسنے لگی ہے۔ دریں اثنا ویمن اینڈ فیملی کمیشن حلقہ خواتین جماعت اسلامی کی صدر ڈاکٹر رخسانہ جبیں کا کہنا ہے کہ 25 نومبر کو دنیا بھر میں خواتین پر تشدد کے خلاف دن منایا جاتا ہے۔ خواتین پر تشدد ایک عالمی مسئلہ ہے اور ہر جگہ خصوصاً جدید ترقی یافتہ معاشروں میں اس کے اعدادوشمار بے حد خوفناک ہیں۔ پاکستان اگرچہ ایک مسلم معاشرہ ہے مگر عورت کے حقوق کے معاملے میں یہاں زیادہ تر روایتی سوچ پائی جاتی ہے۔ عورتیں گھروں میں جسمانی تشدد کا نشانہ بنتی ہیں اور ایسے واقعات کو رد عمل یا بدنامی کے ڈر سے رپورٹ بھی نہیں کیا جاتا۔معمولی باتوں پر گھر کی عورتوں پہ ہاتھ اٹھانا معیوب نہیں سمجھا جاتا ، دین اسلام ہرگز اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اس بات کی بے حد ضرورت ہے کہ معاشرے میں دین کی تعلیمات کو عام کیا جائے، مائیں اپنے بیٹوں کو یہ سکھائیں کہ عورت پر ہاتھ اٹھانا مردانگی کی نہیں کمزوری کی دلیل ہے۔ عورتیں ہر رشتے میں مرد کی شفقت و محبت اور عزت و احترام کی حقدار ہیں۔