جرم ثابت ہونے تک کوئی مجرم نہیں ہوتا، لاہور ہائی کورٹ

36

لاہور (اے پی پی)لاہور ہائیکورٹ نے بجلی چوری کے جھوٹے مقدے میں پھنسانے پر سول عدالت کی طرف سے ہتک عزت کا دعویٰ مسترد کیے جانے کے خلاف قرار دیا ہے کہ قانون کی نظر میں ایک ملزم تب تک مجرم نہیں ہوتا جب تک جرم ثابت نہ ہو جائے، جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ کسی فرد کی عزت و وقار کے لیے بڑا دھچکا ہوتا ہے ۔ جسٹس شاہد وحید اور جسٹس چودھری محمد اقبال پر مشتمل بینچ نے درخواست گزار نعیم احمد کی دیوانی اپیل پر 8 صفحات کا تحریری فیصلہ جاری
کیا۔عدالت نے کہا کہ جھوٹے الزامات عاید کرنا عام بات ہو چکی ہے لوگ کسی سے بدلہ لینے، دشمنی نکالنے، جان چھڑوانے اور سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے جھوٹے الزامات عاید کرتے ہیں 2015 میں بجلی کے زیادہ بل بھجوانے پر درخواست گزار نعیم احمد نے ماڈل ٹائو ن سوسائٹی انتظامیہ کیخلاف احتجاج کیا تھا ماڈل ٹائون سوسائٹی عہدیداروں نے مئی 2016ء میں نعیم احمد پر بجلی چوری کا جھوٹا مقدمہ درج کروایا تھا پولیس نے درخواست گزار نعیم احمد کو بے گناہ قرار دے کر 2017ء میں مقدمہ خارج کر دیا تھا ۔لاہور ہائیکورٹ نے سول کورٹ کو ماڈل ٹائون سوسائٹی کے سابق عہدیداروں کیخلاف ہتک عزت کے دعوی پر دوبارہ سماعت کا حکم دے دیا۔