تو ہین رسالت: مغرب اور مسلم حکمران (آخری حصہ)

376

پہلے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے اقدامات کا جائزہ لیتے ہیں کہ انہوں نے توہین رسالت پر فرانس کے صدر کو کیا جواب دیا۔ عمران خان نے ایک ٹویٹ میں کہا ’’ماکرون نے دہشت گردوں کی جگہ اسلام پر حملہ کرکے اسلامو فوبیا کی حوصلہ افزائی کی ہے اور جان بوجھ کر مسلمانوں جن میں اس کے شہری بھی شامل ہیں کے جذبات کو مشتعل کیا ہے‘‘۔ عمران خان نے مسلم ممالک کے حکمرانوں کو اس حوالے سے ایک خط بھی لکھا اور ان سے توہین رسالت اور اسلامو فوبیا کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کی اور کہا ہمیں مغرب کو بتانا ہوگا کہ اس گستاخی پر کتنے دکھی ہیں۔ اس خط میں انہوں نے مزید لکھا کہ مسلمان جس طرح اپنے نبی ؐ اور اپنی کتاب قرآن سے محبت کرتے اور عقیدت رکھتے ہیں غیر مسلم ممالک کے رہنما اس محبت کو سمجھتے نہیں ہیں۔ ایک دوسرے خط میں وزیراعظم عمران خان نے فیس بک کے بانی مارک زگر برگ کو تحریر کیا جس میں انہوں نے فیس بک پر اسلامو فوبیا مخالف مواد کی نشاندہی کی۔ عمران خان نے کہا کہ ایسا مواد نفرت انتہا پسندی اور تشدد کی حوصلہ افزائی کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیس بک کی ہولو کاسٹ پر عائد پابندی کی تعریف کرتا ہوں اسلامو فوبیا اور اسلام مخالف مواد پر ہولو کاسٹ جیسی پابندیاں لگائی جائیں۔ وزیراعظم عمران خان کی یہ منشی گیری اور خط وکتابت کیا مسلمانوں کی اپنے رسول ؐ سے محبت کی عکاسی کرتی ہے؟ ایک مسلم ایٹمی طاقت اور مسلم دنیا کی سب سے طاقتور فوج کے حامل حکمران کے یہ ٹویٹ، خطوط اور رویہ اسلام کی تعلیمات اور تاریخ کے مطابق ہے؟ کیا یہ جواب ایک ایسے شخص کی جانب سے قابل قبول ہوسکتا ہے جو پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا دعویٰ کررہا ہو؟ یقینا یہ جواب اور رویہ اسلامی تعلیمات کے برخلاف ہے اور رسول اللہ ؐ سے اہل پاکستان کی محبت، عقیدت، ایمان اور عقیدے کا کسی بھی صورت آئینہ دار نہیں ہے۔
عالم اسلام کے ایک اور بڑے ملک ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے ماکرون پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’اسلام کے بارے میں اس کا جو رویہ ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے دماغی معائنہ کی ضرورت ہے‘‘۔ رجب طیب اردوان نے چارلی ایبڈو کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی بھی دھمکی دی۔ اس کے علاوہ طیب اردوان نے اپنے ترک ہم وطنوں سے فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی بھی اپیل کی۔ طیب اردوان کا رویہ یقینا دین سے ان کی محبت کے دعووں سے مماثلت نہیں رکھتا۔ اس حوالے سے سعودی عرب، ایران اور دیگر مسلم ممالک کا رویہ بھی محض لفاظی اور فرانسیسی اشیا کے بائیکاٹ تک محدود نظر آتا ہے۔ تو پھر مسلم ممالک کا رویہ کیا ہونا چاہیے؟ انہیں فرانس کو کیا جواب دینا چاہیے؟
عثمانی خلیفہ عبدالحمید ثانی کے آخری دور 1901 میں برطانیہ اور فرانس نے توہین رسالت کا سلسلہ شروع کیا۔ فرانس میں ایک ڈراما اسٹیج کیا گیا جس میں نبی کریم ؐ کی توہین کی گئی تھی۔ خلیفہ عبدالحمید نے فرانس کے سفیر کو طلب کیا۔ اُسے گھنٹوں اپنے آفس میں انتظار کروایا۔ اُس کے بعد مکمل جنگی لباس میں سامنے آئے اور اپنی تلوار زور سے میز پر رکھی۔ یہ اعلان جنگ کے مترادف تھا۔ فرانس کے سفیرنے خلیفہ کے ارادے سے خبردار کرتے ہوئے شدید پریشانی کے عالم میں اپنی حکومت کو لکھا ’’یہ لوگ ایک ڈرامے کے پیچھے جنگ کرنے کے لیے تیار ہیں‘‘ فرانس نے ڈراما روک دیا اور خلیفہ کو پیغام بھیجا ’’ہمیں یقین ہے کہ سلطان کے حکم پر ہم نے جو موقف اختیار کیا ہے اس سے ہمارے اور آپ کے درمیان تعلقات میں اضافہ ہوگا‘‘ برطانیہ سے ڈراما روکنے کے لیے کہا گیا تو برطانیہ کا جواب تھا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے اور تمام ٹکٹیں بھی بک چکی ہیں اس لیے ڈراما کو روکنا ممکن نہیں ہے۔ خلیفہ عبدالحمید ثانی نے جواب دیا ’’اگر یہ ڈراما چلا تو میں برطانیہ کے خلاف جہادِ اکبر کا اعلان کروں گا اور عرب وعجم کی فوج لے کر چڑھ دوڑوں گا‘‘۔
اس جواب کو سن کر برطانیہ کی ہمت بھی دم توڑ گئی۔ اس وقت برطانیہ سپر پاور تھی اور اس کا دعویٰ تھا کہ ہماری سر زمین پر سورج غروب نہیں ہوتا جب کہ عثمانی خلافت انتہائی کمزور تھی اور ریاست انہدام کے قریب تھی۔ آج مسلم ممالک کی تعداد پچاس سے زائد ہے۔ ان کی کمانڈ میں لا کھوں افواج اور دنیا کے بیش بہا وسائل موجود ہیں لیکن توہین رسالت کے معاملے میں ان کی بے حسی اور خاموشی دیدنی ہے۔ ٹھیک ہے یہ ممالک فرانس اور مغرب سے جنگ کرنے کی پوزیشن میں نہیں لیکن کیا فرانس کے سفارت کاروں کو ملک بدر کرنا، سفارت خانے بند کرنا بھی ان کے لیے ممکن نہیں۔ اگر ان میں رتی بھر بھی عشق رسول ؐ کی کسک ہوتی اور وہ مل کر فرانس سے تمام معاشی، تجارتی اور فوجی معاہدے منسوخ کرتے، نہر سوئز سے فرانسیسی تجارتی اور جنگی جہازوں کے گزرنے اور مسلم دنیا کی فضائوں سے فرانسیسی طیاروں کے گزرنے پر پابندی عائد کردیتے تو فرانس کتنی دیر ان کی مزاحمت کرسکتا تھا۔ اگر اس کے بعد بھی فرانس اس روش سے باز نہ آتا تو کیا یہ دنیا، ریاستیں اور حکومتیں رسالت مآب ؐ کی ناموس سے زیادہ وقیع ہیں؟ زیادہ اہمیت رکھتی ہیں؟ کیا ایسی دنیا رہنے کے قابل ہے جس میں آقا ؐ کی توہین کی جاتی ہو اور مسلمان کچھ نہ کرسکیں بجز تماشا دیکھنے کے؟ آخر ہم جنگوں سے، جہاد سے، موت سے اتنا ڈرنے کیوں لگے ہیں؟ ہم یہ یقین کرنے پرتیار کیوں نہیں ہیں کہ جہاد میں زندگی ہے۔ جہاد میں امت مسلمہ کی بقا ہے۔
لیکن یہ سب کچھ مسلم دنیا میں قائم جمہوری حکومتیں اور ایجنٹ حکمران نہیں کرسکتے۔ کسی مسلم ممالک کے آئین یا قانون میں توہین رسالت کو ریڈ لائن قرار نہیں دیا گیا ہے۔ کہیں یہ لکھا ہوا نہیں ہے کہ اگر کبھی کسی نے یہ ریڈ لائن عبور کی تو یہ اعلان جنگ کے مترادف ہوگا اور ہم بدلہ لینے کے لیے تن من دھن کی بازی لگادیں گے۔ اس جنگ میں ہار جیت کی کوئی اہمیت نہیں۔
گر بازی عشق کی بازی ہے جو چا ہو لگادو ڈر کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنا ہارے بھی تو بازی مات نہیں
عالم اسلام کی جمہوری حکومتیں ہوں آمریتیں ہوں یا بادشاہتیں صرف ملکی سرحدوں کی حفا ظت کے لیے جان قربان کرنے کی بات کرتی ہیں۔ رسول اللہ ؐ کی توہین کسی کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ نہیں ہے۔ کیا مسلمانوں کے لیے آپ ؐ کی توہین سے بڑھ کر کوئی مسئلہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ ہماری افواج کسی بھی مسئلے میں جس کا ان سے یا امت مسلمہ سے کو ئی بالواسطہ یا بلا واسطہ تعلق ہو یا نہ ہو اقوام متحدہ کی نیلی ٹوپی پہن کر دنیا میں کہیں بھی پہنچ جاتی ہیں لیکن رسول اللہ ؐ کے ناموس کے تحفظ کے لیے حرکت میں نہیں آتیں۔ خلافت راشدہ سے لے کر 1924میں خلافت عثمانیہ کے خاتمے تک یہ خلافت ہی تھی جس نے رسول اللہ ؐ کی ناموس کے معاملے میں حساسیت اور اس دینی حمیت کا مظاہرہ کیا اسلام جس کا متقاضی ہے۔ آج تک کسی جمہوری حکومت نے اس باب میںکوئی عملی اور حقیقی قدم اٹھانا تو درکنار کوئی غیر حقیقی قدم بھی نہیں اٹھا یا سوائے ڈری سہمی آواز میں بیانات دینے کے۔
یہ خلیفہ عبدالحمید ثانی تھے جنہوں نے اس وقت جب کہ ریاست حالت نزع میں تھی فرانس اور برطانیہ جیسی سپر پاورز کے خلاف جہاد کا اعلان کا ارادہ کیا تھا۔ مسلم دنیا کے عوام کو اس معاملے میں آگے آنے ہوگا۔ اپنے زبردست احتجاج اور مظاہروں کے ذریعے حکمرانوں کو مجبورکرنا ہوگا کہ وہ کم از کم فرانس کے سفیرکو بے دخل کریں اور سفارت خانوں کو بند کریں۔ نہرسوئز سمیت اپنے دریائوں سمندروں اور پانیوں سے فرانس کے بحری جہازوں فضائوں سے ہوائی جہازوں کے گزرنے پر پا بندی عائد کریں۔ امت مسلمہ کو اب یہ معاملہ اپنے ہاتھ میں لینا ہوگا۔ عالم اسلام میں اسلامی نظام خلافت کو نافذ کرنا ہوگا جب ہی ناموس رسالت کی حفاظت ممکن ہے اور تو ہین کے مرتکبین کو منہ توڑ جواب دیا جاسکے گا۔