جارحانہ سفارت کاری کی ضرورت

371

پاکستان کی جانب سے بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے ناقابل تردید شواہد اور ثبوتوں پر مشتمل دستاویزات (ڈوزیئر) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو پیش کردیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب اور تجزیہ کار سفارت کار منیر اکرم نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات کی اور دہشت گردی کی سرگرمیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔ منیر اکرم نے اقوام متحدہ کے سربراہ کو پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی میں بھارت کے ملوث ہونے کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات کے بعد پاکستانی مندوب نے ذرائع ابلاغ اور ٹی وی، ریڈیو کے نمائندوں کو بھی بھارتی دہشت گردی کے بارے میں شواہد سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان اور خطے میں دہشت گردی اسپانسر کررہا ہے، وہ پاکستانی معیشت کو مفلوج کرنا چاہتا ہے، بھارت کنٹرول لائن پر مسلسل جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی میں ملوث ہے، بھارت چین پاکستان اقتصادی راہداری سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے میں ملوث ہے جو پاکستان کی ترقی میں اہم کردار کی حامل ہے۔ اس کے ساتھ پاکستانی مندوب نے ایک نجی ٹی وی سے بھی گفتگو کی اور دعویٰ کیا کہ ہم نے جو ثبوت و شواہد ڈوزیئر کی صورت میں پیش کردیے ہیں جنہیں مسترد نہیں کیا جاسکتا، جب کہ بھارت کے الزامات بہت کمزور ہیں اور نہ ہی ان کے ثبوت ہیں۔ پاکستانی مندوب کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کے 5 اگست کے اقدام کے بعد سے خطے میں سلامتی کی صورتِ حال نازک ہوگئی ہے جس کا اندازہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے ارکان کو بھی ہے۔ اس خبر سے اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ حکومت پاکستان نے جن دستاویزات و شواہد کا اعلان کیا تھا کہ ان کی بنیاد پر عالمی برادری اور قیادت کو آگاہ کرنے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ چند دنوں قبل پاکستان کے سیکرٹری خارجہ شاہ محمود قریشی اور افواج پاکستان کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے دفتر خارجہ میں مشترکہ طور پر پریس کانفرنس کی تھی۔ اس کانفرنس میں پاکستانی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے دستاویزات دکھائی تھیں ساتھ ہی صوتی و بصری گفتگو میں بھی دکھائی اور سنوائی گئیں تھیں۔ اس اہم پریس کانفرنس کے بعد عسکری قیادت نے اپنے خصوصی اجلاس میں بھی بھارتی ریاستی دہشت گردی سے خبردار کیا تھا۔ صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ عسکری قیادت اور سیکورٹی انٹیلی جنس اداروں کی معلومات کے مطابق بھارت پاکستان کے اہم شہروں میں دہشت گردانہ وارداتیں کراسکتا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی جانب سے بھارتی دہشت گردی کے شواہد میں سیکرٹری جنرل کو حوالے کیے جانے کے بعد بھارت کے ردعمل کے بارے میں ہمارے معاصر اخبار کے نمائندہ مقیم واشنگٹن کے مطابق بھارت بہت برہم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف بھارت کی دہشت گردی، پاکستان کی سرزمین پر دہشت گردوں اور تخریب کاروں کی سرپرستی، مالی معاونت اور تیسرے ملک میں بھارتی سفارتی مشنوں کے ذریعے پاکستان کے خلاف دہشت گردوں سے رابطے اور منصوبہ بندی کے بارے میں جو شواہد پیش کیے ہیں وہ بھارت کے لیے حیرانی، پریشانی اور ایک نئے چیلنج کا باعث ہیں۔ مذکورہ نمائندے کے مطابق پاکستان کی جانب سے پیش کردہ دستاویزی شواہد کا جواب دینے کے بجائے بھارتی نمائندوں نے ایک جملے میں اپنے موقف کا اظہار کیا ہے کہ ’’یہ غلط اور بے بنیاد ہے‘‘۔ اس رپورٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ’’پاکستانی ڈوزیئر‘‘ ٹھوس شواہد کی بنا پر بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان اپنی جغرافیائی حدود میں بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ’را‘ کے ایک عہدیدار کو جو حاضر سروس فوجی افسر ہے گرفتار کرچکا ہے۔ اب تک کا تجربہ تو یہ بتاتا ہے کہ پاکستان کے حکمران پاکستان کی حدود میں دہشت گردی کی بھارتی سرپرستی کے حوالے سے ساری گفتگو اپنی قوم سے کرتے تھے چوں کہ بھارت کی پشت پر امریکا تھا اور یہ امریکی ساز تھا کہ پاکستان دہشت گردی کا معاون اور ’’روگ اسٹیٹ‘‘ ہے۔ امریکی احکامات کی وجہ سے ہمارے حکمران جو امریکا ہی کی مدد، تعاون اور منظوری سے برسراقتدار آتے ہیں وہ قوم کو امریکی مجرم بنادیتے تھے۔ امریکی ’’وار آن ٹیرر‘‘ نے عالمی منظرنامہ تبدیل کردیا ہے۔ اب امریکا اس طریقے سے ’’ڈومور‘‘ کا حکم دینے کی تاب نہیں رکھتا لیکن ہمارے حکمراں اس تبدیل شدہ صورت حال کے امکانات امت مسلمہ اور پاکستانی قوم کے حق میں حاصل کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ یہ بات ہمارے حکمرانوں کو تجربات سے معلوم ہے کہ عالمی سیاست کے فیصلے حق اور انصاف پر نہیں ہوتے، لیکن حق، انصاف اور اصولی موقف کے ساتھ کھڑے ہونے کے علاوہ کوئی راستہ موجود نہیں ہے اور اس کے اثرات سامنے آتے ہیں۔ ہمارے پڑوس میں افغانستان اور ایران کی مثال موجود ہے، ان دو قوموں نے عالمی طاقتوں کی مزاحمت کی اور اپنے اصولی موقف پر کھڑے رہے۔ دنیا اس کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوئی۔ بھارت کے عزائم کے حوالے سے عالمی برادری کو جو شواہد فراہم کیے گئے ہیں اس کے بعد ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان جارحانہ سفارت کاری اختیار کرے۔ اس بارے میں تقریباً اتفاق رائے ہے اور سابق سفارت کار اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہمارے کئی خارجی مسائل کا سبب کمزور سفارت کاری ہے۔ 5 اگست کے بھارتی اقدام اور شہری قوانین میں تبدیلی کے بعد خود بھارت میں خاصا ردعمل ہوا لیکن اقوام متحدہ کے سربراہ اجلاس میں ایک ’’اچھی تقریر‘‘ کے سوا کوئی کام نہیں ہوا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب ایک قابل اور تجربہ کار سفارت کار ہیں۔ وہ ایک جارحانہ سفارت کاری کے تقاضوں کو پورا کرسکتے ہیں۔ بھارت کے عزائم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا اور امت مسلمہ کے اتحاد کے عمل میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے تدبر اور بصیرت کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے۔