سردیوں کے پھل اور ان کے فوائد

260

کینو، مالٹے، فروٹر، انار، انگور، سیب، ناشپاتی، امرود اور کیلے یہ تمام وہ پھل ہیں جن کا شمار سردی کےخاص پھلوں میں ہوتا ہے، ماہرینِ غذائیت کا کہنا ہے کہ جسمانی نظام کے لیے منرلز اور وٹامنز بہت ضروری ہیں جن کو قدرتی طور پر حاصل کرنے کے لیے پھلوں کو اپنی غذا کا حصہ بنانا لازمی ہے۔

تفصیلات کے مطابق موسمی پھلوں کے استعمال سے ناصرف صحت بہتر ہوتی ہے بلکہ اس کے براہِ راست مثبت اثرات خوبصورتی پر بھی آتے ہیں جس کے نتیجے میں جِلد، ناخن اور بالوں کی صحت بھی بہتر ہوتی ہے اور خوبصورت میں اضافہ ہوتا ہے۔

کینو، ما لٹا، فروٹر مالٹے کی کئی اقسام موجود ہیں جیسے کہ نارنجی، کینو، فروٹر اور مالٹا، ان پھلوں کے جوس کے استعمال سے دنوں میں وزن کم کرنے سمیت متحرک رہنے میں مدد ملتی ہے اور قوتِ مدافعت مضبوط ہوتی ہے۔

ہمارے ہاں عام طور سے یہ پھل کینو کہلاتاہے اور جو صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ حاصل ہوتا ہےجبکہ پاکستان کا شمار مالٹےاور کینو پیدا کرنے والے چھٹے بڑے ملک کے طور پر ہوتا ہے۔

مالٹے اور کینو نظام ہضم کو بہتر بناتے، وزن میں کمی کرتے، وٹامن سی کی زائد مقدار کے باعث جینیاتی بوسیدگی اور عمر رسیدگی کے اثرات سے بچاتے اور آیورویدک علاج میں بلغم و کھانسی کو کم کرتے ہیں۔

سردیوں کے موسم میں نزلہ کھانسی بخار جیسے امراض عام ہو جاتے ہیں جس کی ایک بڑی وجہ جسم میں سردیوں کے سبب وٹامن سی کی کمی ہوجانا ہے اور وٹامن کی کمی پورا کرنے کا خزانہ یہ  سٹرس فروٹ ہیں جو بیماریوں کے خلاف قوت بھی دیتے ہیں جبکہ ایسے وقت میں اکثر بچوں، نوجوانوں یا بڑے بوڑھوں کے چہرے زرد دکھائی دیتے ہیں، جس کی ایک وجہ خون کی کمی بھی ہوتی ہے۔

تحقیق کے مطابق جن لوگوں میں خون کی کمی ہو، ان کو مالٹا کھلانے سے فائدہ ہوتا ہے، کیونکہ اس پھل میں قدرت نے خون پیدا کرنے کی صلاحیت رکھی ہے۔

دوسری جانب اترج جس کو عام طور پر سنگترہ کہا جاتا ہے ایک موسمی پھل ہے جو کے دنیا بھر میں مشہور ہے اور یہ ایک ایسا پھل ہے جس کی متعدد اقسام دنیا پھر میں پائی جاتی ہیں  اوراس کی پہچان جہاں اپنے ذائقے کی وجہ سے ہے وہیں اس کی خوشبو بھی دنیا بھر میں پسند کی جاتی ہے ۔

ماہرین کاکہنا ہے کہ اترج اپنے افعال کے اعتبار سے ہاضمہ کو بہتر کرتا ہے، بھوک بڑھاتا ہے ، جسم سے فاسد مادوں کو خارج کرتا ہے،تیزابیت کو دور کرتا ہے  اوربہت زیادہ گرم غذائوں کےاستعمال سے ہونے والی الرجی کو دور کرتا ہے  جبکہ معدہ کی گرمی کو کم کر کے معتدل بناتا ہے اور اس کے ساتھ  منہ کی بدبو کو دور کرتا ہے،قبض کو رفع کرتا ہے اور سب سے اہم  کیلشیم اور وٹامن سی کی کمی کو دور کر کے ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے۔

ماہرین کامانناہے کہ یہ بخار کی شدت کو کم کرتا ہے اور اس کے چھلکے بطور ابٹن استعمال کرنے سے چہرے کی جلد کو میل کچیل سے صاف کرتا ہے، مہاسے دور کرتا ہے، اس کا جوس استعمال کرنے سے جگر کی گرمی دور ہوتی ہے اور یہ پیاس کی شدت کو کم کرتا ہے ۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جو بچے دن بدن کمزور ہوتے جاتے ہیں اور سوکھ کر کانٹا ہو جاتے ہیں اگر ایسے بچوں کو اترج کا جوس استعمال کرایا جائے تو وہ جلد ہی صحت مند اور توانا ہو جاتے ہیں  جبکہ وہ خواتین جو جگر کی خرابی کی وجہ سے کمزوری کا شکار ہوتی ہیں جلد سانس پھول جاتا ہے سیڑھیاں چڑھنا انتہائی دشوار ہو تا ہے انھیں چاہئے کہ سنترہ کا رس اپنی زندگی میں شامل کریں اور صحت مندزندگی گزاریں۔