اسرائیلی دھمکیاں اور عمران خان کا لندن والا گھر

638

22نومبر کی شام اسرائیل کے اخبارات کی ویب سائٹ پر یہ خبر موجود تھی کہ ’’اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اتوار کو خفیہ طور پر سعودی عرب گئے جہاں انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ ماضی میں نیتن یاہو سعودی عرب کے شہر نیوم گیا میں پانچ گھنٹے تک رکے تھے۔ اس سے قبل سعودی میڈیا نے خبریں چلائی تھیں کہ امریکی سیکرٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے سعودی ولی عہد سے نیوم میں اتوار کو ملاقات کی تھی۔ لیکن بعد میں یروشلم پوسٹ نے 22نومبر کی شام اپنی ویب سائٹ پر یہ خبر لگا دی تھی کہ اتوارکو ’’امریکی سیکرٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو کے ساتھ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن نے محمد بن سلمان سے مذاکرات کیے اور اس ملاقات میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے محمد بن سلمان سے کہا کہ ’’پاکستا ن کو بتا دیا جائے کہ اگر پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا تو 22عرب اور شمالی افریقا کے اسلامی ممالک کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ تسلیم کرانے کا اعلان کیا جائے گا اور اس کے بعد اقوام ِ متحدہ میں قرار داد پیش کر کے سلامتی کونسل سے منظور کراتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے بھارت کے حصہ ہونے کا اعلان کرادیا جائے گا۔ ا س کے علا وہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف سے بلیک لسٹ کرایا جائے گا، پاکستان کے لاکھوں ورکرز جو عرب ممالک میں ملازمت کر رہے ہیں ان کی ملازمت ختم کرا کر پاکستان واپس بھیجا جائے گا اور ہو سکتا ہے کہ متعدد عرب ممالک اسرائیل کی حمایت میں پاکستان سے اپنے سفارتی تعلقات بھی ختم کر لیں۔ اس سلسلے میں متعد د عرب ممالک نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے‘‘۔
سعودی عرب کی جانب سے ترد ید، سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کیا اور کہا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی ملاقات سے متعلق خبروں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا: ’میں نے میڈیا میں امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو کے حالیہ دورے کے دوران ولی عہد محمد بن سلمان اور اسرائیلی حکام کے درمیان ملاقات کی خبریں دیکھی ہیں۔ یہ خبریں درست نہیں ہیں۔ ملاقات میں صرف امریکی اور سعودی حکام موجود تھے۔ مائیک پومپیو نے وفد کے ارکان کو نیوم ائر پورٹ پر ہی چھوڑ دیا تھا۔ جہاں بحرین، سوڈان اور متحدہ عرب امارات نے ٹرمپ انتظامیہ کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے معاہدے کیے ہیں وہیں سعودی عرب نے اس بارے میں بات کرنے سے انکار کردیا تھا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کی تردید کو وال اسٹریٹ جنرل نے یکسر مستردکرتے ہوئے کہا سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کی جانب سے جاری اتردید میں کوئی سچائی نہیں ہے۔
یہ تاریخی طور پر ایک دوسرے کے حریف ممالک کے رہنماؤں کے درمیان پہلی ایسی ملاقات ہوگی۔ امریکا چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اسرائیل کے متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان کے ساتھ سفارتی تعلقات کے قیام کے لیے معاہدوں میں کردار ادا کیا ہے۔ سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبد العزیز نے محتاط انداز میں اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا تاہم انہوں نے عندیہ دیا ہے کہ جب تک اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن معاہدہ نہیں ہوجاتا، تب تک وہ مذکورہ ممالک کی پیروی نہیں کریں گے۔
اس حوالے سے اب تک سعودی عرب یا اسرائیل کے حکام نے تصدیق نہیں کی ہے کہ امریکی سیکرٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو کے ساتھ طیارے میں نیتن یاہو سوار تھے، تاہم اسرائیلی میڈیا ادارے وثوق سے یہ دعویٰ کرتے نظر آ رہے ہیںکہ نیتن یاہو بھی مائیک پومپیو کے ساتھ سوار تھے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم خفیہ طور پر نیوم گئے جہاں انہوں نے ولی عہد محمد بن سلمان اور امریکی وزیرِ خارجہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے مزید لکھا کہ اس موقع پر اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے سربراہ یوسی کوہِن بھی ان کے ساتھ تھے۔ وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار تو کیا ہے تاہم اس خبر کی تردید بھی نہیں کی ہے۔ یاد رہے کہ رواں سال اگست میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا تھا کہ ان کے درمیان امن معاہدے اور سفارتی تعلقات کے قیام پر اتفاق ہو گیا ہے۔ اکتوبر میں پہلے بحرین اور بعد میں سوڈان نے بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے قیام کا اعلان کر دیا۔ یہ تینوں معاہدے امریکا کی زیرِ سرپرستی دھونس دھمکی سے طے پائے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ انہیں اپنی خارجہ پالیسی کی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان کو ملنے والی دھمکی سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد صدر ٹرمپ کی اس خارجہ پالیسی کو جاری رکھیں گے۔ یہی صورتحال بھارت میں بھی ہو گی۔ ’’نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن‘‘ کا منشور جس میں انہوں نے بھارت اور اسرائیل کو لگام دینے کا عندیہ دیا تھا اس کو انہوں نے از خود صدارت کا حلف اُٹھانے سے قبل ہی تبدیل کر لیا بلکہ اس کے برعکس ان کی پالیسی مسلمانوں کے خلاف ٹرمپ سے بھی زیادہ سخت اور متعصب و جانبدار ہو گی۔ مذکورہ بالا ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد سعودی عرب کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں کی گئیں کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرے گا، تاہم اب تک سعودی عرب نے اس حوالے سے پیش رفت نہیں کی ہے۔ اس سلسلے پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے بھی اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان پر کچھ ممالک کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ہے تاہم بعد میں پاکستانی دفتر خارجہ نے اس کی تردید کر دی تھی۔ لیکن یہ تردید بہت پہلے کی گئی تھی۔
یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں کیا جارہا ہے جب G-20 ممالک کی سربراہ کانفرنس سے پہلے سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ترکی کے صدر طیب اردوان سے بھی دو سال بعد ٹیلی فونک رابطہ کیا اور اس کے فوری بعد سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے قطر سے دوستی کا بھی عندیہ دیا اور انہوں نے کہا تھا کہ قطرسے ان کے برادارانہ تعلقات ہیں اور سعودی عرب قطر سے قریبی تعلقات بحال کرنا چاہتا ہے۔ اس پوری صورتحال کو اسرائیلی اخبارات نے خوب اُچھالا۔ عین اسی وقت امریکی سیکرٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو اسرائیل کے دورے پر تھے وہ فوری متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین کے بعد سعودی عرب چلے گئے جہاں پاکستان سرِ فہرست آگیا اور اب پاکستان کو دھمکی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پاکستانی دفتر خارجہ کی تردید ایک مرتبہ پھر آجائے گی لیکن دیکھنا یہ ہے کہیں ایسا تو نہیں عمران خان کا لندن والا گھر اس پوری صورتحال میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ ایک حساس مسئلہ ہے اور ریاست کی بھی نظر ہو گی اور درست انداز سے اس مسئلے کو حل کر نے کی کوشش کریں گے۔